ٹک ٹاک پر اُڑنے والی ویڈیو ز سے مشہور ہونے والے ” جام صفدر “ کس گاﺅں میں رہتے ہیں اور کاروبار کیا کرتے ہیں؟ وہ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

ٹک ٹاک پر اُڑنے والی ویڈیو ز سے مشہور ہونے والے ” جام صفدر “ کس گاﺅں میں رہتے ...
ٹک ٹاک پر اُڑنے والی ویڈیو ز سے مشہور ہونے والے ” جام صفدر “ کس گاﺅں میں رہتے ہیں اور کاروبار کیا کرتے ہیں؟ وہ باتیں جو آپ جاننا چاہتے ہیں

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )کچھ عرصہ قبل ٹک ٹاک پر ایک گاﺅں سے تعلق رکھنے والے نوجوان ” پھولو “ نے اپنے انوکھے انداز کے باعث شہرت حاصل کی تاہم اب ان کے بعد ایک اور شخص جو کہ گاﺅں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی انوکھی ویڈیوز کے باعث ٹک ٹاک پر لاکھوں فالورز حاصل کر لیے ہیں جبکہ ان کی ویڈیوز شہریوں کو ہنسی کا سامان فراہم کرتی ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک سٹار کا نام ” جام صفدر ‘ُ ہے اور ان کا تعلق اچ شریف، دھوڑ کوٹ سے ہے، اس نے صرف تین ماہ میں لاکھوں فالورز بنا لیے ہیں۔ جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں جام صفدر کی، جو کبھی ہیلی کاپٹر پر تو کبھی سمندر یا پھر کبھی ٹرین کے سامنے اسے روکے کھڑے نظر آتے ہیں۔

” دی انڈی پینڈنٹ “ نے جام صفدر کا خصوصی طور پر گاﺅں کا کر انٹریو کیا جس میں انہوں نے اپنے تمام سفر کی کہانی بیان کی اور اپنے پیشے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا ۔جام صفدر کی تعلیم صرف پرائمری ہے اور وہ پیشے کے لحاظ سے کسان ہیں مگر اپنے بیٹے کو ٹک ٹاک بناتا دیکھ کر چھ بیٹوں کے باپ کو خود ٹک ٹاک بنانے کا شوق پیدا ہوا۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے ایک عام موبائل سے کیمرے والے موبائل اور کیمرے والے موبائل سے لیب ٹاپ خریدنے کا سفر طے کیا۔

صفدر کے مطابق پہلے وہ صرف لپ سنک پر ویڈیوز بناتے تھے تاہم انہیں کوئی خاص رسپانس نہیں ملا جس کے بعد انہوں نے اپنی فلائنگ ویڈیوز بنانا اور ایڈٹ کرنا شروع کر دی ہیں۔اس سے انہیں صرف تین ماہ کے مختصر عرصے میں سات لاکھ کے قریب فالورز ملے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ یوٹیوب اور گوگل سے ویڈیوز ڈاو¿ن لوڈ کرتے ہیں اور پھر اپنی ویڈیو بنا کر اس پر ایڈٹ کر کے اپ لوڈ کرتے ہیں۔

اس کے لیے انہوں نے اپنے گھر میں ایک دیوار کے ساتھ گرین کپڑا لگایا ہوا ہے۔ ایک ٹرائی پوڈ، کیمرے والا موبائل اور گرین کپڑا ہی ان کا پروڈکشن ہاو¿س ہے، جہاں ویڈیو بنانے کے بعد وہ موبائل میں کین ماسٹر ایپ کے ذریعے ایڈٹ کرتے ہیں یا پھر ہیوی فائلوں کے لیے لیب ٹاپ کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس سارے سامان پر تقریباً ایک لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں۔

جام صفدر کے مطابق ان کے اس شوق کو رشتہ دار فضول کام اور وقت کا ضیاع کہتے ہیں جب کہ ان کی بیوی ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

مزید :

تفریح -