وہ سائنسدان جنہیں کورونا وائرس نے کروڑ پتی بنا دیا

وہ سائنسدان جنہیں کورونا وائرس نے کروڑ پتی بنا دیا
وہ سائنسدان جنہیں کورونا وائرس نے کروڑ پتی بنا دیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءکے خلاف بڑی کامیابی نے برطانیہ کے تین پروفیسرز کو آن کی آن میں کروڑپتی بنا دیا۔ دی گارڈین کے مطابق یونیورسٹی آف ساﺅتھ ہیمپٹن سے وابستہ ان تینوں پروفیسرز کے نام ریٹکو دجوکینویک، سٹیفن ہولگیٹ اور ڈونا ڈیویس ہیں جنہوں نے کورونا وائرس کے علاج کے سلسلے میں ایک بڑی دریافت کر لی ہے۔ تینوں پروفیسرز نے لگ بھگ 2دہائیاں قبل مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا تھا کہ دمے اور پھیپھڑوں کے دائمی مرض میں مبتلا لوگوں کے جسم میں ’انٹرفیرون بیٹا‘ نامی پروٹین کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

یہ ایسا پروٹین ہے جو کامن کولڈ اور دیگر وائرل بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔ اس دریافت کے بعد تینوں پروفیسرز نے ایک کمپنی بنائی جس کا نام سائنیرجن(Synairgen)رکھا۔ اس کمپنی کے ذریعے انہوں نے ایک اور کمپنی ایسٹرا زینیکا کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت دونوں کمپنیوں نے وائرل انفیکشنز کی ادویات تیار کرنی تھیں لیکن یہ معاہدہ ختم ہو گیا اور سائنیرجن کے شیئرز کی قیمت گر گئی۔ اب کورونا وائرس کی وباءآنے کے بعد ان کی اس دریافت کی اہمیت دو چند ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ فارمولا دریافت کیا ہے کہ اگر لوگوں کے جسم میں انٹرفیرون بیٹا کی مقدار پوری کر دی جائے تو ان میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہو جائے گی۔ انہوں نے اس کے تجربات بھی کیے جن کے نتائج بہت حوصلہ افزاءآئے، جس کے بعد ان کی کمپنی کے حصص کی قیمت میں دیکھتے ہی دیکھتے 540فیصد اضافہ ہو گیا ہے اور کروڑ پتی بن گئے ہیں۔اس طریقہ علاج کے مزید ٹرائیلز کیے جا رہے ہیں اور حتمی نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔

مزید :

برطانیہ -کورونا وائرس -