سینیٹائزر کا زیادہ استعمال ہاتھوں کے لیے خطرناک، اپنے ہاتھوں کو محفوظ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ جانئے

سینیٹائزر کا زیادہ استعمال ہاتھوں کے لیے خطرناک، اپنے ہاتھوں کو محفوظ کیسے ...
سینیٹائزر کا زیادہ استعمال ہاتھوں کے لیے خطرناک، اپنے ہاتھوں کو محفوظ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ جانئے

  

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءکے پیش نظر ہینڈ سینی ٹائزرز کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے اور لوگ دن میں کئی بار اپنے ہاتھ سینٹی ٹائزر سے صاف کر رہے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سینٹی ٹائزرز کے زیادہ استعمال سے ہاتھوں کی جلد میں انفیکشن، سوزش اور جلن وغیرہ جیسی شکایات ہو سکتی ہیں اور ایسے کیس رپورٹ بھی ہو رہے ہیں۔ مختلف ممالک سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہینڈ سینی ٹائزرز استعمال کرنے سے ان کے ہاتھوں کی جلد میں خارش ہونی شروع ہو گئی ہے یا ہاتھوں کی جلد میں تکلیف رہنے لگی ہے۔ اب بھارت کے معروف ڈرماٹالوجسٹ ڈاکٹر بی ایل جانگد نے اس مسئلے کا حل بتا دیا ہے۔

انڈیا ٹائمز کے مطابق نئی دہلی کے سکن کیور کلینک سے وابستہ ڈاکٹر جانگد کا کہنا ہے کہ ”پہلے تو لوگوں کو چاہیے کہ ہینڈ سینی ٹائزرز کا مناسب مقدار میں استعمال کریں کیونکہ کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہوتا ہے۔ سینی ٹائزرز میں کچھ ایسے ان چاہیے کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جو ہاتھوں کی جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تاہم ہر شخص کی جلد دوسروں سے مختلف ہوتی ہے، چنانچہ یہ کیمیکلز بعض لوگوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور بعض میں جلد کے مختلف عارضوں کا سبب بنتے ہیں۔ لوگوں کو اپنی جلد کے لحاظ سے سینٹی ٹائزر کا انتخاب کرنا چاہیے اور خریدنے سے پہلے اس کے اجزائے ترکیبی پڑھ لینے چاہئیں۔“

ڈاکٹر جانگد کا کہنا تھا کہ ”اگر ہینڈ سینی ٹائزر کے زیادہ استعمال سے آپ کے ہاتھوں کی جلد خراب ہو گئی ہے اور تکلیف یا خارش وغیرہ ہو رہی ہے تو ہاتھوں پر موئسچرائزنگ کریم اور تیل وغیرہ لگائیں۔آپ ایکواپورین (Aquaporin)کے حامل ہیلنگ موئسچرائزرز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ موئسچرائزر لگا کر ہاتھوں پر دستانے پہن لیں اور تمام رات پہنے رکھیں۔ اس سے آپ کے ہاتھوں میں پڑنے والی دراڑیں بھی ٹھیک ہونا شروع ہو جائیں گی۔“ ڈاکٹر جانگد کا کہنا تھا کہ ”میں تمام لوگوں کواور بالخصوص جن کے ہاتھوں کو سینی ٹائزر سے نقصان پہنچ رہا ہے، انہیں ہدایت کروں گا کہ وہ سینٹی ٹائزر کی بجائے صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے کو ترجیح دیں کیونکہ یہ سینی ٹائزر سے کہیں بہتر آپشن ہے۔“

مزید :

تعلیم و صحت -