کورونا وائرس سے صحت مند ہونے والے کئی افراد صحتیابی کے کئی ماہ بعد بھی مشکل میں، کیا اثرات ہوتے ہیں؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات سامنے آگئیں

کورونا وائرس سے صحت مند ہونے والے کئی افراد صحتیابی کے کئی ماہ بعد بھی مشکل ...
کورونا وائرس سے صحت مند ہونے والے کئی افراد صحتیابی کے کئی ماہ بعد بھی مشکل میں، کیا اثرات ہوتے ہیں؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات سامنے آگئیں

  

کنبرا(مانیٹرنگ ڈیسک) جن لوگوں میں کورونا وائرس کی علامات زیادہ سنگین ہوتی ہیں وہ صحت مند ہو بھی جائیں تو مہینوں بعد تک ان کی حالت غیرمستحکم رہتی ہے اور بسااوقات وہ کئی طرح کے عارضوں میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اب کچھ ایسے ہی لوگوں نے اپنی کہانیاں سنائی ہیں کہ ہر سننے والا کورونا وائرس سے مزید خوف کھانے لگے۔ میل آن لائن کے مطابق آسٹریلوی شہر میلبرن کی سمانتھا ڈیملر نامی 27سالہ لڑکی نے بتایا ہے کہ اسے مارچ میں کورونا وائرس لاحق ہوا تھا اور دو ہفتے بعد اس کا ٹیسٹ منفی آ گیا لیکن اب چار ماہ گزرنے کے بعد بھی وہ اس موذی وباءکے سنگین اثرات سے لڑ رہی ہے۔

سمانتھا نے بتایا ہے کہ ”کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کے بعد آج بھی میرے پھیپھڑوں میں مائع مواد موجود ہے، میری سونگھنے کی حس مکمل ٹھیک نہیں ہوئی اور میری یادداشت بھی بہت زیادہ متاثر ہو چکی ہے۔ “ اے این یو کے پروفیسر پیٹر کولگنن کا کہنا ہے کہ ”سمانتھا اکیلی ایسی فرد نہیں ہے جو کورونا وائرس کے دیر پا نقصانات جھیل رہی ہے۔ دنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو وائرس سے صحت مند ہونے کے بعد بھی مہینوں سے اس کے سنگین اثرات سے نبردآزما ہیں تاہم ایسے لوگوں کی تعداد فی الحال کسی کو معلوم نہیں۔ کئی تحقیقات میں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پھیپھڑوں اور دیگر اعضاءکو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی ہو سکتا ہے اور شاید کبھی ان کے پھیپھڑے واپس اس طرح نارمل نہ ہو سکیں۔ اس کے علاوہ یاددشت کم ہونے اور نظر کمزور ہونے سمیت دیگر کئی شکایات بھی مختلف ممالک سے سامنے آ رہی ہیں۔ شاید لوگوں کو ان اثرات سے مہینوں یا سالوں لڑنا پڑے گا۔“واضح رہے کہ برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن نے 69ممالک کے کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے تھے جن میں یہ ہولناک انکشاف ہوا تھا کہ وباءسے متاثر ہونے والے 50فیصد لوگوں کا دل کسی نہ کسی حد تک اس بیماری سے متاثر ہوا ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -