پاکستان کے وہ بچے جو کئی گھنٹوں کا سفر کر کے آن لائن کلاس اٹینڈ کرنے جاتے ہیں

پاکستان کے وہ بچے جو کئی گھنٹوں کا سفر کر کے آن لائن کلاس اٹینڈ کرنے جاتے ہیں
پاکستان کے وہ بچے جو کئی گھنٹوں کا سفر کر کے آن لائن کلاس اٹینڈ کرنے جاتے ہیں

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کوروناوائرس کی وجہ سے پاکستان کا تعلیمی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے اور تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں۔ اس صورتحال میں کالجز اور یونیورسٹیوں نے آن لائن کلاسز شروع کر رکھی ہیں، جس سے باقی ملک کے طلبہ تو آسانی سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں لیکن گلگت بلتستان اور دیگر ایسے دورافتادہ علاقوں کے طلبہ شدید مسائل کا شکار ہیں کہ نہیں انٹرنیٹ کے سگنلز کی تلاش میں گھر سے میلوں دور جانا پڑتا ہے اور بلند و بالا پہاڑوں پر چڑھنا پڑ رہا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاکستان کی یونیورسٹیوں کے پاس آن لائن کلاسز کا مربوط نظام بھی نہیں ہے جس کے باعث یہ ادارے زوم، یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا سہارا لے رہے ہیں۔ پاکستان بھر کے طالب علم کہیں انٹرنیٹ سروس نہ ہونے اور کہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ گلگت کی رہائشی طالبہ علیزہ خان فورمین کرسچن کالج میں میڈیا سائنسز پڑھتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ”کالج بند ہونے کے بعد وہ واپس گلگت آ گئی اور آن لائن کلاسز شروع ہو گئیں۔ گلگت شہر میں انٹرنیٹ کی سہولت تو بہتر ہے لیکن لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے وہ اکثر کلاسز نہیں لے پاتی۔دیہی علاقوں کے طالب علم تو انٹرنیٹ کے لیے بھی سخت جدوجہد کر رہے ہیں، جنہیں سگنلز کی تلاش میں دور دراز پتھریلے علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے اور پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔“

نیشنل کی ایک ڈاکومنٹری میں گلگت بلتستان کی ایک طالبہ گلشن زریں کا کہنا تھا کہ ”میرے گاﺅں کے قریب سے انٹرنیٹ کی ہائی سپیڈ فائبر آپٹک گزرتی ہے لیکن اس سے میرے گاﺅں کو کنکشن نہیں دیا گیا۔ ہمیں آن لائن کلاسز لینے کے لیے گاﺅں سے دور بلند پہاڑوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔میں پانچ سے چھ کلومیٹر پیدل سفر کرکے ایک پہاڑ کے پاس جاتی ہوں جہاں کچھ سگنلز آتے ہیں۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے مجھے لکڑی کے ایک پل سے گزرنا پڑتا ہے جو انتہائی خستہ حال ہے۔ اس پل کے نیچے درجنوں فٹ کی گہرائی میں دریائے خنجراب بہہ رہا ہے اور میں بہت خوف کے عالم میں یہاں سے گزرتی ہوں۔ اس پہاڑ کے پاس بھی سگنلز بار بار ڈراپ ہوتے ہیں۔ آن لائن کلاسز کا حرج ہونے کی وجہ سے ہماری تعلیم کا بہت حرج ہو رہا ہے۔ہم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا کہ ہم آن لائن کلاسز نہیں لے سکتے تو انہوں نے جواب دیا کہ انٹرنیٹ کنکشن دینا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -اسلام آباد -