پروفیسر عنایت علی خان کی یاد میں مکہ مکرمہ میں آن لائن تعزیتی اجلاس

پروفیسر عنایت علی خان کی یاد میں مکہ مکرمہ میں آن لائن تعزیتی اجلاس
پروفیسر عنایت علی خان کی یاد میں مکہ مکرمہ میں آن لائن تعزیتی اجلاس

  

مکہ مکرمہ (محمدعامل عثمانی) پروفیسر عنایت علی خان کی یاد میں ایک آن لائن تعزیتی اجلاس ، پاکستان فورم کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ میں منعقد کیا گیا۔ جلسہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان فورم کے صدر ڈاکٹر محمد عرفان اللہ صدیقی نے کہا کہ اس برس بہت قد آور شخصیات ہم سے جدا ہو گئیں۔ نعمت اللہ خان اور منور صاحب کے بعد پروفیسر عنایت علی خان کا سانحہ ارتحال یقیناً تکلیف دہ ہے۔ اللہ ان سب مرحومین کی مغفرت کرے۔ آمین۔ روفیسر عنایت علی خان نے یہ مقطع آج ہی کے دن کے لئے کہا تھا: دیکھنا اک دن عنایت جا چھپے گا زیر خاک ، اور زمانہ دیکھتا کا دیکھتا رہ جائے گا- کچھ لوگ ان کی شاعری کو حضرت حسان بن ثابت سے مماثلت دیتے ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفار کے مقابلے میں اسلام کا دفاع اپنی شاعری سے کیا ،اسی طرح پروفیسر عنایت نے سیکولر عناصر کا مقابلہ اپنی شاعری سے کیا۔

معروف صحافی محترم محمد عامل عثمانی نے بتایا کہ پروفیسر عنایت علی خان نے غزلیات و منظومات بھی کمال کی کہیں ہیں مگر مزاحیہ شاعری ان کی وجہ شہرت اور شناخت بنی۔ پروفیسر عنایت علی خان کو اپنے طرز کلام کی وجہ سے اکبر الٰہ آبادی کا پیرو کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ان کی شعری مجموعوں میں ’ازراہ عنایت، ’عنایتیں کیا کیا‘ اور ’کلیات عنایت‘ شامل ہیں- پروفیسر عنایت علی خان کی شگفتہ شاعری اور طنزو مزاح کی بھرپور کاٹ ، چہروں پر شگفتگی اور لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں نہایت ممدو معاون ہوا کرتی تھی۔

تعزیت کرنے والوں میں محمد سلیم اختر ، ثاقب قدیر ، طیب خورشید ، سیدعاصم شاہ محمد سلطان ،احمد عطرجی، طیب بلال مکی،زاہد زین سمیر ناز ، راجہ مبشر ،زبیر ،راجہ پرویزاحمد ،دیگر شامل تھے ۔

مزید :

قومی -