آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات

آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات

  

آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو 26نشستیں حاصل ہو گئی ہیں۔ 45نشستوں میں آزادکشمیر کے دس اضلاع میں 33نشستیں اور پورے پاکستان میں کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں شامل ہیں۔پیپلزپارٹی کو گیارہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھ، مسلم کانفرنس اور جموں کشمیر پیپلزپارٹی کو ایک ایک نشست ملی۔ کوئی آزاد امیدوار کامیاب نہیں ہوا۔ آٹھ مخصوص نشستوں پر انتخاب ابھی باقی ہے جس کے بعد ایوان مکمل ہوگا۔ نتائج کے مطابق تحریک انصاف کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے اب توجہ حکومت سازی پر ہے جس کے لئے تحریک انصاف میں دو گروپ متحرک ہیں۔ آزاد کشمیر تحریک انصاف کے صدر بیرسٹر سلطان کے نام قرعہ نکلنے کا امکان ہے، وہ پہلے بھی وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ تحریک انصاف کے مدمقابل الیکشن لڑنے والی دونوں بڑی جماعتوں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے انتخابی نتائج مسترد کر دیئے ہیں دونوں جماعتوں کی قیادت نے جلسوں کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ آزادکشمیر میں حکومت بنائیں گی لیکن یہ دعویٰ انتخابی نتائج کی کسوٹی پر پورا نہیں اترا۔

پاکستان کی طرح آزادکشمیر کے انتخابات میں بھی الیکٹ ایبلز کا فارمولا استعمال ہوا اور یہ وہاں بھی امرت دھارا ثابت ہوا۔ بہت سے امیدوار اپنی دیرینہ جماعتوں کو چھوڑ چھاڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے اور انہیں ٹکٹ دے دیا گیا۔ بعض امیدوار اپنی کمزور پوزیشن دیکھ کر یا دوسرے عوامل کی بنا پر انتخابی میدان سے نکل گئے اور کسی دوسرے زیادہ مضبوط امیدوار کے حق میں دستبردار ہو گئے۔ مسلم کانفرنس جو کشمیر کی قدیم ترین سیاسی جماعت ہے اس کے مرحوم قائدین میں چودھری غلام عباس اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم نمایاں اور ممتاز ترین حیثیتوں کے مالک تھے۔ سردار عبدالقیوم ایک سے زیادہ مرتبہ آزادکشمیر کے صدر اور وزیراعظم رہے، ان کی جماعت کا بنیادی نعرہ ”کشمیر بنے گا پاکستان“ رہا، تاہم اب صرف ان کے صاحبزادے سردار عتیق احمد اسمبلی میں اس جماعت کی نمائندگی کریں گے، کئی ارکان جو مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑتے، کامیاب ہوتے رہے اور وزارتوں پر بھی متمکن رہے اب دوسری جماعتوں میں جا چکے ہیں، آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی بھی حکمران رہ چکی اور مسلم لیگ (ن) بھی۔ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جو حضرات منتخب ہوئے ہیں وہ قبل ازیں دوسری جماعتوں کی جانب سے انتخاب لڑتے رہے اور شریک اقتدار رہے۔

آزادکشمیر میں انتخابی مہم بڑی جارحانہ رہی، تینوں بڑی جماعتوں نے بڑے بڑے جلسے کئیاور ان جلسوں سے بھی بڑے بڑے دعوے کئے، وفاقی وزرا نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی، الزام تراشیوں یہاں تک کہ غیر پارلیمانی الفاظ کا تبادلہ بھی پوری آزادی سے ہوتا رہا۔الیکشن میں روپے پیسے کا چلن بھی دیکھا اور محسوس کیا گیا ایک امیدوار سے برآمد ہونے والی رقم تو الیکشن کمیشن کے حکم پر ضبط کر لی گئی اس کے علاوہ بھی وفاقی وزراء یہ اعلان کرتے رہے ”جتنے ووٹوں سے جیت، اتنے کروڑ روپے“ اس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) یہ  الزام لگاتی رہی کہ الیکشن چرایا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو کشمیر کے عوام شاہراہِ دستور پر دھرنا دیں گے۔ پیپلزپارٹی بھی ایسے ہی دعوے کرتی رہی اب دیکھنا ہوگا وہ اپنے اعلانات کا کس حد تک اور کس انداز میں پاس لحاظ کرتی ہیں یا پھر انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور مسترد کرنے کے باوجود خاموش ہو کر بیٹھ رہتی  ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی جن کی جماعت کو ایک بھی نشست نہیں ملی انتخابی نتائج مسترد کر دیئے ہیں، ویسے تو انہوں نے پاکستان کے 2018ء کے انتخابی نتائج بھی مسترد کر دیئے تھے اور پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو تجویز دی تھی کہ وہ اسمبلیوں کی رکنیت کا حلف نہ اٹھائیں دونوں جماعتوں نے یہ بات نہ مانی البتہ بعد میں پی ڈی ایم کے نام سے ایک سیاسی اتحاد بنا جس کی سربراہی مولانا کے سپرد ہوئی لیکن پیپلزپارٹی اور اے این پی جلد ہی اس اتحاد کو داغِ مفارقت دے گئیں۔ اب  اے این پی کے رہنما مولانا فضل الرحمن پر سنگین قسم کی الزام تراشی کر رہے ہیں اور پیپلزپارٹی نے بھی مسلم لیگ (ن) کو نشانے پر رکھا ہوا ہے باقی جماعتیں البتہ پی ڈی ایم میں شامل ہیں۔

آزاد کشمیر کے تازہ انتخابات میں یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اسمبلی میں تین جماعتیں ہی چھائی رہیں گی جو پاکستان کی بھی بڑی جماعتیں ہیں۔ ان میں سے تحریک انصاف تو حکومت بنا لے گی باقی دو جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہیں گی۔ اس کردار کا تعین البتہ وہ حالات کا جائزہ لے کر ہی کریں گی۔ روایتی طور پر جو جماعتیں کشمیر کی سیاست کرتی رہی ہیں اور جن کا پاکستانی سیاست میں کوئی کردار نہیں ان کی نمائندگی اسمبلی میں برائے نام رہ گئی ہے۔ یہ اعزاز دو بڑے کشمیری رہنماؤں کے صاحبزادگان کے حصے میں آیا ہے۔ اگلے پانچ سال تو یہی صورت رہے گی ایک زمانے میں مسلم کانفرنس اور کشمیر کی دوسری سیاسی جماعتوں کی خواہش تھی کہ آزادکشمیر کی سیاست صرف کشمیری جماعتیں کریں اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں یہاں مداخلت نہ کریں لیکن اس کے برعکس پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس خیمے میں ایسی داخل ہوئی ہیں کہ کشمیری جماعتوں کو اس سے باہر نکلنا پڑا ہے اور نہیں کہا جا سکتا کہ آئندہ کتنے برس تک یہ منظر رہے گا کیونکہ آزادکشمیر کے سیاست دان بھی اپنے سیاسی ٹھکانے بدلتے رہتے ہیں اور موسمی پرندے موسم دیکھ کر نئی نئی اڑانیں بھی بھرتے رہتے ہیں۔ اب دیکھنا ہوگا کہ تحریک انصاف آزادکشمیر کی سیاست میں کیا تبدیلی لاتی ہے، اس کا نیا پاکستان تو پاکستانیوں نے بڑی اچھی طرح سے دیکھ لیا اب نیا کشمیر، کشمیری بھی دیکھ لیں گے انتخابات کے بعد آزادکشمیر میں وزیراعظم عمران خان نے ”دو ریفرنڈم“ بھی کرانے ہیں جن کا اعلان انہوں نے انتخابی مہم کے آخری جلسے میں کیا تھا، دیکھتے ہیں اس اعلان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور ریفرنڈموں کی عملی شکل کیا ہوتی ہے؟اور اس کے بعد کشمیر کا رخِ انور کتنا نکھرتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -