بجلی کے غیر منطقی بل

بجلی کے غیر منطقی بل
بجلی کے غیر منطقی بل

  

جس وقت میں نے یہ کالم لکھنے کا فیصلہ کیا اور اس پر ریسرچ شروع کی تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ حیرت غم و غصے اور پریشانی کی کیفیت میں اضافہ ہوتا گیا۔میں نے سب سے پہلے کوریا میں مقیم اپنے سورس کوکال کی اورپوچھا کہ کوریا میں بجلی کے بلوں کی ترتیب کیا ہے اور قیمت کیا وصول کی جا رہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ پہلی بات تو یہ کہ یہاں پر بجلی بہت سستی ہے اور کوئی صارف خواہ کتنے ہی یونٹ استعمال کرے سب کے لیے ایک ہی قیمت ہے۔اس نے بتایا کہ پچھلے سال دو ماہ درجہ حرارت میں کافی اضافہ ہو گیا۔ حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے اعلان کردیا کہ ہم جانتے ہیں کہ گرمی شدت اختیار کر چکی ہیلہٰذا آپ بے خوف و خطراے سی کا استعمال کریں آپ کو اضافی بل ادانہیں کرنا پڑے گا۔ میں نے دوسری کال جنوبی افریقہ میں مقیم اپنے دوسرے سورس کو کی انہوں نے اپنے بجلی کے نظام کے بارے میں بتایا کہ یہاں پر 80فی صد تک میٹر پری پیڈہیں بجلی سستی اور رہائشی کمرشل میں کوئی فرق نہیں ہے پھر میں نے تیسری کال مسقط میں مقیم اپنے تیسرے سورس کوکی انہوں نے بھی یہی بتایا کہ بجلی پری پیڈ اور سستی ہے، چوتھی کال تھائی لینڈ پانچویں اطلاع ہندوستان سے حاصل ہوئی جو سب سے مزیدار اطلاع تھی۔جس سورس کو میں نے ہندوستان میں فون کیا اس نے بتایا کہ یہاں پر بجلی سستی ہے، لیکن پھر بھی ہم چوری کرتے ہیں۔

اب پاکستان کی بات کرتے ہیں، ویسے تو پاکستان میں تقریباً تمام ادارے ہی کرپشن میں ملوث ہیں اور اس کی کوئی نہ کوئی منطق اور جواز پیش کرتے ہیں لیکن بجلی کمپنیوں کی کرپشن بالکل غیر منطقی اور سراسر سینہ زوری اور ظلم کے مترادف ہے ہر دور میں اس ظلم اور زیادتی کے خلا ف آواز اٹھائی جاتی رہی لیکن کسی بھی حکومت نے اس پر کوئی نوٹس نہ لیا اورلے گی بھی کیوں؟ اس کرپشن میں حکومت برابر کی شریک ہوتی ہے  اگر یہ بھی کہہ لیا جائے یہ تمام کرپشن حکومتی ایما پر کی جاتی ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اب ذرا بجلی کے بل نکال لیں اور دیکھیں کہ حکومت آپ کو کس طرح بار بارلوٹ رہی ہے۔اس کے لیے آپ کی توجہ درکار ہو گی۔بجلی آپ تک پہنچنے کے لیے چار مراحل طے کرتی ہے جن کی ترتیب کچھ یوں ہے۔جنریشن،جہاں پر بجلی پیدا کی جاتی ہے،ٹرانسمیشن جن لائنوں کے ذریعے ملک کے دوسرے علاقوں تک بجلی پہنچائی جاتی ہے۔ ڈسٹری بیوشن یعنی گرڈ اسٹیشن،یوٹیلائیزیشن آپ کو گھر تک پہنچائی جاتی ہے۔یہ تو ہو گیا محکمہ کا کام اس سے آگے آپ کا امتحان شروع۔

بجلی کے بل پر تفصیلات دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے تو ہم نے استعمال شدہ بجلی کی قیمت ادا کی اس میں پہلے ایک سو یونٹ کی قیمت تقریباً 13.75روپے فی یونٹ 101سے 200تک تقریباً15روپے فی یونٹ 201سے  300تک تقریباً18روپے اور 301سے700تک تو پوچھیں ہی مت یہ تو ہو گیا بل۔اب پہلا ٹیکس فیول ایڈجسٹمنٹ،یعنی بجلی کی قیمت بھی ادا کریں اور بجلی بنانے کے اخراجات بھی، نیلم جہلم سرچارج(یہ اب ختم ہو چکا)،ٹی وی فیس،جی ایس ٹی ،ای ڈی  1.5%، اور  اس کے بعد اور بہت سے ٹیکس اتنے ٹیکس کہ عوام کو مار ہی ڈالیں۔ یعنی قانون قاعدے نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ 

  اگر ہم بجلی کمپنیوں کے معمولی سے ملازم کی تلاشی لے لیں تو لاکھوں کروڑوں کا مالک نکلے گا…… کیسے؟یہ آپ بخوبی جانتے ہیں دوسری وجہ ملازمین کو دیئے جانے والے فری یونٹس ہیں،جو وہ استعمال کرتے ہیں اور اضافی بلوں کی صورت میں اس کی قیمت ہم ادا کرتے ہیں، ملازمین نے اپنے گھر کے میٹر کو منی گرڈ اسٹیشن کا درجہ دیا ہو اہے اپنے گھر سے بہت سے گھروں کو بجلی کی سپلائی دی ہوئی ہے اور اس کی قیمت ہم ادا کرتے ہیں اور دولت وہ کما رہے ہیں چوتھی کرپشن بجلی کا میٹر ہے جس کی قیمت ہم ادا کرتے ہیں اور کرایہ بھی دیتے ہیں اور اگر ہم بجلی کا بل ادا نہ کر سکیں تو یہ ہمارا میٹر اتار کر لے جاتے ہیں اور دوبارہ بجلی کی بحالی کے لیے ہم نہ صرف بل ادا کرتے ہیں بلکہ اسی میٹر کی قیمت دوبارہ سے ادا کرنا پڑتی ہے جو سراسر غیر قانونی ہے۔ خدانخواستہ اگر کبھی آپ بل ادا نہ کر سکیں اور کوئی ملازم آپ کا میٹر اتار کر لے جائے تو آپ پر لازم ہے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائیں۔ معزز قارئین یہ حکومت تو مردہ ضمیروں کی منڈی ہے آپ کو خود ہی اپنا ساتھ دینا ہو گا۔اپنے آپ کو اس ظلم سے بچائیے۔ جتنا جلد ممکن ہو اپنے گھر کی ضرورت کے مطابق سولر سسٹم کا انتظام کر لیں۔وطن عزیز میں دھوپ کی کمی نہیں ہے اللہ کے نظام سے بجلی حاصل کر کے اپنے آپ کو ظلم و جبر سے بچانے کی کوشش کریں۔کیونکہ یہ تو غیر منطقی لٹیرے ہیں۔یہ آپ کو لوٹنے کی ہرممکن کوشش کرتے رہیں گے۔اللہ کریم آپ کا حامی و ناصر ہو۔

مزید :

رائے -کالم -