آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے 

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے 
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے 

  

سب سے اہم خبر تو بلا شبہ آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات ہیں جس کے نتیجے میں نئی حکومت تشکیل پائے گی۔ کافی دنوں سے ملک بھر کی نظریں ان انتخابات پر لگی ہوئی تھیں۔ پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں پورا زور لگا رہی تھیں جبکہ آزاد کشمیر کی مقامی اور پرانی سیاسی جماعتیں بھی میدان میں تھیں۔ مجموعی طور پر انتخابات پر امن ہوئے اور کسی بڑی دھاندلی کے ثبوت بھی سامنے نہیں آئے۔ نتائج پر نظر ڈال کر ایک جملے میں تبصرہ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ ”ایک بار پھر آزاد کشمیر میں اسلام آباد جیت گیا۔ پاکستان جیت گیا“ پہلے بھی جب اسلام آباد میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی۔ پھر جب پاکستان پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی تو آزاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی اب اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے تو آزاد کشمیر کے انتخابات میں وہی کامیاب ہوئی اور حکومت بنائے گی۔ یہ دراصل کشمیری ووٹر کا پاکستان ووٹر ہے، کشمیری قوم کا پاکستانی قوم سے ہم آہنگی کا مظاہرہ ہے جو بار بار سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کشمیر بنیادی عنصر ہے۔ اس کی کامیابی کے لئے جو ذمہ داری کشمیری عوام پر آتی ہے وہ اسے تسلسل کے ساتھ پورا کر رہے ہیں۔ کشمیر پر پاکستان مؤقف کی حقانیت کے لئے کشمیری ووٹر کی پاکستانی ووٹر سے یکجہتی بہت ضروری ہے ایک بار پھر یہ ہم آہنگی، یکجہتی، محبت اور اخوت  پر پوری  قوم کو مبارک ہو۔

توقع ہے کہ آزاد کشمیر میں شکست کھانے والی قومی جماعتیں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نتائج پر ردعمل وہ نہیں ہوگا جو عام انتخابات میں شکست کھانے کے موقع پر تھا۔ کشمیر میں انتخابی فتح و شکست کے منفی اثرات کشمیر پالیسی پر نہیں پڑنے چاہئیں۔ کشمیر پر کشمیری عوام اور پاکستانی عوام کا موقف ایک ہے اور ایک ہی رہنا چاہئے۔ حکومت کسی کی بھی ہو کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانے کا جذبہ اتحاد و یگانگت کو قائم و دائم رکھنے کا موجب ہونا چاہئے۔

ہفتہ رفتہ کی افسوسناک خبر صحافت کے خانوادہ نظامیہ کے آخری چشم و چراغ عارف نظامی کی رحلت ہے۔ کہنے والوں نے سچ کہا کہ ان کے انتقالِ پر ملال سے صحافت کا دورِ نظامی اختتام پذیر ہو گیا۔ ہم نے جب اخبار میں لکھنے کا آغاز کیا تو آسمانِ صحافت پر نظامی خاندان کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ ملتان میں تب صرف ایک اردو قومی اخبار امروز شائع ہوتا تھا۔ اس میں تحریریں شائع ہونے سے حوصلہ ہوا تو اسی کو ذریعہ روز گار بنانے کی ٹھانی۔ پتہ چلا کہ روزنامہ نوائے وقت ملتان سے شروع ہو رہا ہے اور اس پراجیکٹ کی ذمہ داری محترم عارف نظامی کے پاس ہے۔ تب تک کی اپنی ”کارستانیاں“ اخبارات و جرائد لے کر لاہور پہنچے دفتر جانے سے قبل محترم عارف نظامی کے لڑکپن کے دوست اور ہم جماعت محترم جہانگیر ترین سے ملاقات کی اور سفارش کی درخواست کی جس کا انہوں نے وعدہ کر لیا۔ دفتر میں حاضری دی تو عارف نظامی صاحب کے رویئے سے قطعاً نہ لگا کہ سفارش پہنچ گئی۔ انہوں نے نہ ہمارے پیش کردہ اخبارات کو لفٹ کرائی نہ جرائد کو دیکھنا پسند کیا کھڑے کھڑے پوچھا، انگریزی آتی ہے؟ جواب دیا انگلش میڈیم کالج سے گریجوایشن کی ہے سوال آیا ”ترجمہ کر لو گے؟“ جواب عرض کیا اردو ہماری قومی زبان ہے۔ ہمارے تعلقات اچھے ہیں، پوچھا گیا سبنگ (Subing) آتی ہے۔ ہمارے اوسان خطا ہوئے۔ گریجوایٹ ہونے کے باوجود یہ لفظ پہلی بار سنا تھا۔ سوچا انکار کیا تو سیدھے گھر واپس۔

کر کے دیکھتے ہیں لڑکھڑاتی زبان سے جواب دیا ”جی جی“ پھر نیوز ایڈیٹر محترم وحید قیصر صاحب کے ذریعے ہمارا ٹیسٹ لیا گیا۔ پھر حاضری پر حکم ملا کہ ملتان جاکر کام شروع کر دو۔ کہا جا سکتا ہے کہ نوائے وقت میں ہمارا انتخاب محترم عارف نظامی کے ہاتھوں ہوا۔ تئیس سال بعد ایک بار پھر لاہور سے بلاوا آیا۔ پیشی عارف نظامی صاحب کے پاس تھی۔ کہنے لگے نوائے وقت ملتان کو بہتر کرنے کے لئے آپ کے پاس کوئی تجاویز ہوں تو لکھ لائیں۔ محترم ارشاد عارف صاحب کے کمرے میں بیٹھ کر تجاویز تحریر کیں پھر پیش ہوا تو کاغذ پر درج تجاویز پڑھے بغیر کاغذ الٹا میز پر رکھ دیا اور سوال کیا کہ اگر آپ کو موقع ملے تو کیا ان تجاویز پر عمل کر سکتے ہیں؟ عرض کیا کہ قابل عمل تجاویز ہی تحریر کی ہیں۔ فرمایا کہ جائیں پھر ملتان سٹیشن آپ کے سپرد کام کر کے دکھائیں۔ یوں انہی کے ہاتھوں ریذیڈنٹ ایڈیٹر بننے کا شرف حاصل ہوا۔ ادارے کے مدارالمہام  تو محترم مجید نظامی مرحوم تھے عارف نظامی ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر ”صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے پابہ گِل بھی ہے“ کی عملی تصویر تھے۔ پھر بھی وہ گاہے گاہے آزادیئ عمل کا اظہار کر لیتے تھے۔ ان کی تربیت اس انداز میں ہو چکی تھی کہ ان کے فیصلے اپنے حقیقی چچا مجید نظامی صاحب کی سوچ سے ہم آہنگ ہوتے تھے۔ فیصلے کرنے کی رفتار البتہ تیز تھی۔

ہماری بات جلد مان جاتے تھے۔ مجید نظامی صاحب غیر ملکی دورے پر جاتے تو عارف صاحب تیزی سے فیصلے کرتے اور ہمیشہ نظامی صاحب ان کے فیصلوں پر صاد کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مجید صاحب کے غیر ملکی دوروں کا انتظار کرتے اور پھر جلدی جلدی مطالبات منوا لیتے۔ ان کی رحلت قومی صحافت کا ناقابل تلافی نقصان تو ہے ہی میرا ذاتی نقصان بھی شدید ہے۔ ہم ہی ایک مربی ایک محسن سے محروم نہیں ہوئے وطن عزیز متانت، وقار اور حب الوطنی سے سرشار خاندانی صحافی سے محروم ہو گیا ہے۔ وہ تحریک پاکستان کے عظیم کارکن اور صحافی حمید نظامی کے فرزند اور ملک میں با اصول صحافت کے کوہِ گراں مجید نظامی کے تربیت یافتہ بھتیجے تھے۔ اب بظاہر چراغوں میں روشنی نظر نہیں آتی۔ ان جیسا کوئی نہیں ہے۔ دور دور تک۔

آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

مزید :

رائے -کالم -