کشمیریوں کا عمران خان پر اظہار اعتماد

 کشمیریوں کا عمران خان پر اظہار اعتماد
 کشمیریوں کا عمران خان پر اظہار اعتماد

  

تحریک انصاف نے آزادکشمیر انتخابات کا معرکہ سر کر لیا۔ اب سوائے سندھ کے ملک میں کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں حکومت یا اس کے اتحادیوں کی عملداری نہ ہو۔ پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، بلوچستان اور اب آزادکشمیر، تحریک انصاف نے آزادکشمیر میں حکومت بنانے کے لئے تین سال انتظار کیا، وہاں کوئی غیر جمہوری قدم اٹھانے کی کوشش نہیں کی، اس دوران آزادکشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر حکومت پاکستان اور وزیراعظم عمران خان پر سخت تنقید بھی کرتے رہے، مگر اس کے باوجود ان کی باتوں کو برداشت کیا گیا۔وزیراعظم آزادکشمیر فاروق حیدر نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر بھی تنقید کا سلسلہ جاری رکھا اور کشمیر  کاز کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی لگائے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ وزیراعظم آزادکشمیر کھل کر پاکستان کے وزیراعظم کو نشانہ بناتے رہے، اس کے باوجود وفاقی حکومت نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی سیاسی انجینئرنگ کے ذریعے آزادکشمیر حکومت کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی، آج یہ موقع آ گیا ہے تحریک انصاف واضح اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی اور آزادکشمیر سے بھی وہی آواز اٹھے گی جو اسلام آباد کی آواز ہوگی۔ کشمیر کے معاملے میں کم از کم یہ ہم آہنگی وقت کی ضرورت ہے۔

آزادکشمیر اسمبلی کے انتخابات اس بار شدید تناؤ کے ماحول میں ہوئے، پولنگ کے دن تشدد کے واقعات بھی پیش آئے اور دو کارکنوں کی جانیں بھی گئیں، تاہم انتظامیہ کے بروقت اقدامات کی وجہ سے مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن طریقے سے جاری رہا۔ اس بار انتخابات میں کشیدہ فضا کا باعث وہ انتخابی مہم بنی جو تینوں بڑی جماعتوں نے چلائی، اس مہم کا انداز ہی بتا رہا تھا معاملات شدید تناؤ کی طرف جا رہے ہیں۔ مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری نے اپنے لب و لہجے کو اتنا بلند رکھا کہ اس کی گونج کشمیر کے علاوہ پاکستان میں بھی سنائی دیتی رہی۔ نہلے پر دہلا  تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور ثابت ہوئے۔ انہوں نے مریم نواز کی شخضیت پر نازیبا کلمات کہے، جنہیں کسی نے بھی پسند نہیں کیا، الٹا اس کا ردعمل آیا اور انہیں اپنے بچاؤ کے لئے گولی تک چلانا پڑی۔ علی امین گنڈا پور ہی وہ واحد رہنما تھے، جن کے بارے میں آزادکشمیر کے الیکشن کمیشن کو سخت قدم اٹھانا پڑا اور انہیں آزادکشمیر سے نکل جانے کو کہا۔

یہ اور بات ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کے اس حکم کو ہوا میں اڑا دیا اور آزادکشمیر میں بیٹھ کے انتخابی مہم چلاتے رہے۔ کشیدہ صورتِ حال کا سبب مریم نواز اور بلاول بھٹو زرداری کے وہ بیانات بھی بنے جن میں انہوں نے دھاندلی کا خدشہ ظاہر کیا اور اپنے کارکنوں کو ہدایت کی وہ ایسی ہر حرکت کو بزور طاقت روکیں۔ حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے موجود تھے اور بے قاعدگیوں کو ان کے علم میں لایا جا سکتا تھا۔ جب کارکنوں کو ہلاشیری دی جاتی ہو تو حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔ انتخابات کے دوران جہاں جہاں پرتشدد واقعات پیش آئے، وہاں سیاسی جماعتوں کے کارکن ایک دوسرے سے ٹکرائے، اس تصادم کو سیاسی جماعتیں روک سکتی تھیں۔ اگر رہنما انہیں الیکشن مہم میں بے جا اشتعال نہ دلاتے۔

آزادکشمیر اسمبلی کی بارہ نشستیں پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی تھیں، اس لئے ان شہروں میں بھی انتخابی گہما گہمی نظر آئی۔ تینوں سیاسی جماعتوں نے ان نشستوں کے لئے پورا زور لگایا۔ ایک عام خیال یہ تھا کہ حکومت کی بُری معاشی کارکردگی کے باعث پاکستان میں ان نشستوں پر تحریک انصاف کو جیتنے میں شدید دشواری پیش آئے گی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، اکثر نشستیں تحریک انصاف کے امیدوار جیت گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے تحریک انصاف سے عوام کی امیدیں ابھی تک ختم نہیں ہوئیں۔ دلچسپ امر یہ ہے پنجاب سے ہرضمنی انتخاب جیتنے والی مسلم لیگ (ن) پنجاب میں موجود آزاد کشمیر اسمبلی کی نشستیں نہیں جیت سکی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کشمیریوں نے اس بار عمران خان سے امیدیں باندھی ہوئی ہیں اور انہوں نے ہر جگہ پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے ہیں۔ آزادکشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی شکست کا باعث فاروق حیدر کی حکومت کو بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے اپنی آئینی مدت کے دوران کشمیر میں انتہائی بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ترقیاتی کام کرائے اور نہ بے روزگاری ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے، کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات بھی لگتے رہے، مگر ان کا کوئی تدارک نہیں کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں مریم نواز نے بڑی کامیاب انتخابی مہم چلائی، بڑے بڑے جلسے کئے، تاہم بڑے جلسے تو ہر جماعت کرتی رہی، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے جلسوں میں بھی لوگ جوق در جوق آئے، فیصلہ جلسوں سے نہیں ووٹ سے ہوتا ہے۔ ووٹ دیتے وقت غالباً آزادکشمیر کے عوام نے اپنی حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کو ملحوظ رکھا اور اسی پرفارمنس کی وجہ سے مسترد کر دیا۔

اُدھر مریم نواز نے آزادکشمیر کے انتخابی نتائج کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا ہے نتائج تسلم کئے ہیں اور نہ کروں گی۔ شہبازشریف نے بھی انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں اور اسے افسوسناک قرار دیا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں، ہمارے ہاں ہارنے والے کبھی خوش دلی سے اپنی شکست تسلیم نہیں کرتے، آزاد کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے انتخابات کی شفافیت پر مکمل اطمینان کا اظہا رکیا۔ اُدھر تحریک انصاف نے مریم نواز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کشمیر کے عوام نے عمران خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگانا مسلم لیگ (ن) کا پرانا وطیرہ ہے۔ میرے خیال میں ہمیں اچھی روایات کا آغاز کرتے ہوئے انتخابات کی شفافیت کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ ہاں کسی کے پاس دھاندلی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اسے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے انہیں سامنے لانا چاہیے۔ پاکستان ہو یا آزادکشمیر دو ٹرم کے لئے عوام ایک ہی جماعت کو مسلسل دوبار مینڈیٹ نہیں دیتے۔ویسے بھی راجہ فاروق حیدر حکومت کی کارکردگی اتنی مثالی نہیں تھی کہ وہ اسلام آباد میں قائم حکومت سے وابستہ کشمیریوں کی امیدوں کا توڑ کر سکتے۔ باوقار طریقہ یہی ہے کہ اپنی شکست تسلیم کرکے آگے بڑھا جائے۔

مزید :

رائے -کالم -