ڈیفنس میں ماڈل نایاب پراسرار طور پر قتل 

ڈیفنس میں ماڈل نایاب پراسرار طور پر قتل 

  

عورتوں بالخصوص جواں سالہ لڑکیوں کے قتل کے واقعات معمول بن گئے ہیں، ظلم و جبر کے واقعات سے بھرے ہوئے اخبارات روز ہمیں پڑھنے اور نیوز چینل پر انتہائی دکھ بھرے یہ واقعات دیکھنے کوملتے ہیں، جن میں انصاف نہ ملنے کی فریادیں ہوتی ہیں، اہل ا قتدار سے اور قانون کے اداروں سے انصاف مہیا کرنے کی منتیں اور سماجتیں کی جاتی ہیں۔ اسی طرح کا ایک واقعہ لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس فیز فائیو میں بھی پیش آیا جہاں 10جولائی ہفتے کی رات کو ایک گھر سے 30 سالہ خاتون کی تشدد زدہ اور نیم برہنہ لاش ملی۔پولیس حکام کے مطابق نایاب ندیم ماضی میں ماڈل رہ چکی ہیں اور انہوں نے مختلف گانوں کی ویڈیوز میں کام کیا تھا۔پولیس نے دفعہ 302 کے تحت نایاب کے سوتیلے بھائی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر تھانہ ڈیفنس بی میں درج کر کے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔ نایاب کے سوتیلے بھائی شاہ کمال کالونی اچھرہ کے رہائشی محمد علی ناصر نے ایف آئی آر میں بتایا کہ وہ روزانہ ان سے ملنے ڈیفنس فیز فائیو جایا کرتے تھے تاکہ انہیں ان کی ضرورت کا سامان پہنچا سکیں۔علی ناصر کے مطابق نایاب ڈیفنس کے اس گھر میں 2015 سے اکیلی رہتی تھیں۔ انہوں نے ایف آئی آر میں مزید بتایا کہ ہفتے کی رات آٹھ بجے حسب معمول جب وہ ان کے گھر پہنچے تو گھر کا چھوٹا دروازہ کھلا پایا جبکہ بڑا گیٹ بند تھا۔’ان کا فون بند جا رہا تھا۔ ان کی گاڑی گیراج میں کھڑی تھی۔ جب میں نے گھر کے اندر گلی کی پچھلی جانب دیکھا تو باتھ روم کی کھڑکی کی جالی ٹوٹی ہوئی تھی۔‘انہوں نے بیان میں بتایا کہ وہ اس کھڑکی کے راستے گھر کے اندر داخل ہوئے تو ٹی وی لاؤنج میں نایاب کی نیم برہنہ لاش پڑی تھی۔ ان کے گلے پر زخم کے نشان تھے، یہ سب دیکھنے کے بعد انہوں نے لاش کو کپڑے سے ڈھانپا اور گھر سے باہر آکر 15 پر کال کر کے پولیس کو اطلاع دی۔تھانہ ڈیفنس بی کے تفتیشی پولیس افسر نے بتایا کہ خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا،جبکہ جائے وقوعہ کا جائزہ لینے سے لگتا ہے کہ خاتون کو تشدد کرکے گلہ دبا کرقتل کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ ’اس کیس میں بداخلاقی، ڈکیتی، مزاحمت اور قتل سمیت مختلف پہلوؤں پر تفتیش کی جا رہی ہے۔‘انہوں نے مزید بتایا کہ مقتولہ مختلف گانوں میں ماڈلنگ کر چکی ہیں لیکن کچھ عرصے سے انہوں نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی تھی۔علی ناصر نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ فی الحال اس کیس کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ پراسرار طور پر قتل ہونے والی 30 سالہ ماڈل نایاب کی ابتدائی فرانزک رپورٹ کے مطابق مقتولہ کو گلا دبا کر قتل کیا گیا ہے جبکہ ان کی گردن پر زخم کے نشان بھی پائے گئے ہیں۔یہ وہی ماڈل ہیں جنھوں نے سنہ 2015 میں ریلیز ہونے والے ایک مشہور پنجابی گانے ’گڈی تو منگا لے۔۔۔ تیل میں پواندی آں‘ میں ماڈلنگ بھی کی تھی تاہم ماڈلنگ کیرئیر کو انھوں نے کافی عرصہ پہلے ہی خیرباد کہہ دیا تھا۔ قتل ہونیوالی ماڈل گرل نایاب کی تفتیش میں جو اب تک پیش رفت سامنے آئی ہے۔انوسٹی گیشن پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے نایاب سے رابطے میں رہنے والے 10 افراد کوشامل تفتیش کیاہے، پولیس نے شامل تفتیش کئے گئے افراد کے بیانات قلمبند کئے ہیں دوران تفتیش مقتولہ نایاب سے ان کی آخری ملاقات کب ہوئی؟ تمام سوالات پوچھے گئے ہیں۔انوسٹی گیشن پولیس نے بتایا ہے کہ مقتولہ قتل سے ایک روز قبل ایک فارم ہاؤس پر بھی ایک پارٹی میں شریک ہوئی جہاں جھگڑا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، فارم ہاؤس میں ہونیوالی لڑائی سے متعلق پوچھ گچھ بھی کی گئی اور مقتولہ نایاب کی ذاتی زندگی اوررہن سہن سے متعلق بھی سوالات کئے گئے ہیں۔واضح رہے کہ شامل تفتیش کئے گئے افراد کا تعین نایاب کے موبائل ڈیٹاسے کیا گیا ہے اورپولیس نے نایاب کے موبائل فون کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔تفتیش میں پتہ چلا ہے کہ نایاب کے گھرکی عقبی کھڑکی کی جالی ٹوتی ہوئی ملی ہے اورکھڑکی کے قریب لگے انسانی ہاتھوں کے نمونے فرانزک کیلئے بھجوا دیے ہیں۔پولیس نے بتایا ہے کہ شبہ ہے کہ قاتل نے فرارہونے کے لیے کھڑکی کا راستہ استعمال کیا ہے، نایاب کے گھرکی الماریوں میں اسکی چیزیں بکھری ہوئیں تھیں۔ایس پی انوسٹی گیشن کینٹ نوید ارشاد نے بتایا ہے کہ نایاب کے سوتیلے بھائی کو بھی شامل تفتیش کیا گیاہے، ایس پی نوید ارشاد کے مطابق قتل کی جانیوالی نایاب کے گھرکے قریب سے واقع گھروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی گئی ہے ویڈیو میں آنے والے ایک مشکوک شخص جو گھر کی طرف جاتا ہوا دکھائی دیتا ہے اسے بھی حراست میں لے کر تفتیش کا عمل جاری ہے۔اس مشکوک شخص کی ویڈیو نادرا اور فرانزک بھی بھجوائی گئی ہے۔پولیس کے مطابق 30 سے 35 سالہ مشتبہ شخص نے پاجامہ پہن رکھا ہے، مشکوک شخص کوصبح پانچ بجکر 26 منٹ پرگھرکے قریب دیکھا گیا۔ مقامی انوسٹی گیشن پولیس نے یہ بھی بتایا ہے کہ مقتولہ واردات کی رات دوستوں کی پارٹی سے جھگڑا کر کے واپس آئی تھی، پولیس نے اس پارٹی میں شریک اوررابطے میں رہنے والے 2  دوستوں سمیت 4افراد کو بھی تفتیش کے لیے حراست میں لے رکھا ہے۔حراست میں لیے گئے امجد وغیرہ ان افراد نے ہی دوران تفتیش بتایا ہے کہ ماڈل نایاب وقوعہ سے پہلے دوستوں کے ساتھ فارم ہاؤس میں ایک پارٹی میں گئی، جہاں کسی بات پر مقتولہ اور اس کے دوستوں میں جھگڑا ہوا اورتکرار کے بعد نایاب پارٹی چھوڑ کر واپس آئی اور سوتیلے بھائی کو فون کیا۔مقتولہ کا بھائی اس سے ملنے آیا اور کچھ وقت ساتھ گزارکر نایاب کو گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ دوسری جانب سی آئی اے لاہور پولیس نے مقتولہ کے ان دوستوں کو شامل تفتیش کرکے پوچھ گچھ شروع کررکھی ہے۔ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ نایاب کے قتل میں کوئی قریبی عزیز ملوث ہوسکتا ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے اس افسوس ناک وقوعہ کی رپوٹ بھی مانگی ہے۔ 29 سالہ ماڈل نایا ب ڈی ایچ اے فیز فائیو کے ایک گھر میں اکیلے رہائش پذیر تھی۔

 ایک مقامی نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قتل ہونے والی ماڈل نایاب کے کیس میں پیشرفت نہ ہو سکی ہے، پولیس کو مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مل گئی ہے جس میں قتل کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ سے بداخلاقی بھی ثابت نہیں ہوئی جبکہ اس کے گلے پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے منہ میں خون جمع تھا، موت سے پہلے قے کے شواہد بھی ملے ہیں۔مقتولہ کا پوسٹ مارٹم 40 سے 48 گھنٹے بعد کیا گیا، اب موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنزک ایجنسی کی رپورٹ میں کیا جائیگا، اس واقعے میں تاحال کوئی ملزم بھی گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔اب تک جتنے بھی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ان پر قتل کے شواہد نہیں ملے۔

 اسی طرح کا ایک واقعہ 3 مئی کو بھی لاہور کے پوش علاقہ ڈیفنس فیز فائیو میں ہی پیش آیا تھاجہاں ایک 26سالہ خوبرو لندن کی لاء گر یجوایٹ مائرہ زوالفقار کو رات کے وقت اس کے کمرے میں نامعلوم افراد نے تشدد اور فائرنگ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا،جس کے ملزمان بعدازاں پولیس نے گرفتار کر لیے،اس بارے میں قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومت اب تک متعدد اقدامات کرچکی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ سنگین ہوتا مسئلہ جہاں ملک کے لیے بدنامی کا باعث بن رہا ہے، وہیں معاشرے میں بھی ایک بدنما روایت کو جنم دے رہا ہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت خواتین پر گھریلو تشدد، تیزاب گردی اور انہیں غیرت کے نام پر قتل کیے جانے کے واقعات کے خلاف تحفظِ نسواں جیسے بل بھی منظور کروا چکی ہے، لیکن عام خیال یہی ہے کہ ان قوانین پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے باعث آج بھی خواتین ایسے واقعات کا نشانہ بن رہی ہیں۔ان واقعات کی بڑھتی ہوئی شرح کی ایک واضح مثال سال رواں کے حالیہ اعداد و شمار ہیں، جن کے مطابق ملک میں کوروناسے متاثرہ افراد سے زیادہ تعداد ان خواتین کی تھی، جنہیں غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان واقعات میں مجرموں کو سزا نہ ہونا اور قوانین کو نظرانداز کرنا ہی بڑی رکاوٹ ہے یا اصل میں ہمیں کچھ اور کرنے کی ضرورت ہے؟آئی جی پولیس انعام غنی نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انھوں خواتین کے قتل کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑی سخت ہدایات جاری کر رکھی ہیں ایڈیشنل آئی جی انوسٹی گیشن پنجاب فیاض احمد دیو ایسے مقدمات کی خود نگرانی کرتے ہیں تاکہ ملزمان سزا سے بچ نہ پائیں، اس قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتارری کا بھی حکم دیا گیاہے اور وہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے مقدمات کی رپورٹ بھی حاصل کرتے ہیں۔ سی سی پی او لا ہور غلام محمود ڈوگر نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کی تفتیش ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کی نگرانی میں تین ٹیمیں کررہی ہیں کئی مشکوک افراد کو تفتیش کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ امید ہی ملزمان کو جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہو ئے بتایا ہے کہ وہ اس مقدمے کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لے رہے ہیں ان کی ٹیمیں ملزمان تک پہنچنے کے لیے دن رات کوشش کر رہی ہیں ملزمان کہیں بھی بھاگ نہیں پائیں گے پولیس ملزمان کو بہت جلد میڈیا کے سامنے پیش کردے گی۔ 

٭٭٭

لندن پلٹ مائرہ کے بعد 

جسم پر تشدد کے نشانات نیم برہنہ لاش ٹی وی لاؤنج میں پڑی تھی

مزید :

ایڈیشن 1 -