نوجوان نے کنپٹی پر گولی مار کر زندگی ختم کر لی

نوجوان نے کنپٹی پر گولی مار کر زندگی ختم کر لی

  

فحاشی و عریانی نے جہاں ہماری ثقافتی و معاشرتی اقدار کو تباہ کیا ہے وہاں جرائم میں بھی شدید اضافہ کیا ہے جبکہ آج کے سوشل میڈیا کے دور میں جتنا بے حیائی کو فروغ حاصل ہوا ہے اسکی مثال ملنا ممکن نہیں، ماضی قریب میں ٹی وی سکرین یاسینما کے پردے کو بے حیائی کے بنیادی عنصر قرار دیا جاتا تھا مگر آج ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون ان دونوں عنصروں کو مات دے چکا ہے اوررابطوں کے فقدان کو ختم کرنیو الا یہ آلہ آج انٹرٹینمنٹ کیلئے استعمال میں لائے جانے کے باعث نئی نسل کو فحاشی و عریانی کی ایسی دلدل میں دھکیل رہا ہے جس سے نکلنے کی راہ شاید کبھی میسر نہ آسکے لاکھ احتیاط کے باوجود یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس الیکٹرانکس ڈیوائس کی خرافات پر قابو پانا ممکن ہے نازیبا ایپس لاک کرلیں، ڈاؤن لوڈنگ بلاک کرلیں چاہئے انٹر نیٹ ہی سرے سے موبائل فون میں استعمال نہ کریں اسکے باوجود ایسے میسجز اور تشہیری مواد کو روکا نہیں جاسکتا جو مختلف اشیاء جن میں سے بعض کا تعلق جنسی ادویات سمیت دیگر مختلف ایسے عوامل سے ہوتا ہے جو انسانی زہن کو فحاشی کی طرف مائل کرسکتے ہیں ان سے جان نہیں چھوٹتی اور تشہیر کی خاطر موبائل فونز میسجز کا سہارالیتے ہیں وہ ویڈیوتشہیری مواد نہ سہی ٹیکسٹ میسجز کے تحت بھی اپنی بات پہنچانے سے نہیں چوکتے، حالت یہ ہے کہ نان انٹر نیٹ فون پر بھی روزانہ درجن بھر ایسے میسجز موصول ہوتے ہیں جن کابظاہر تعلق کسی نہ کسی طرح انسانی بناؤ سنگھار سے ہوتا ہے جن کے ذریعے وہ بات کسی حد تک نئی نسل کے ذہنوں تک پہنچ جاتی ہے جس سے گریز کی خاطر والدین نے کئی ایک جتن کئے ہوتے ہیں جبکہ ایسے افراد بھی گنے چنے ہوں گے جو موبائل فون کے معاملے میں نہایت احتیاط برتنے ہیں مگر اکثریتی افراد اس سے قاصر ہیں کہ موبائل فون کے استعمال کے تحت کس طرح ہماری نجی زندگیوں میں زہر گھولا جارہا ہے۔

 گزشتہ دنوں شیخوپورہ کے علاقہ ہاؤسنگ کالونی میں ایک نوعمر لڑکے کی خود کشی کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں خاتون ٹیچر کے عشق میں مبتلا ہونے کا اقرار کرتا ہے اور پھر اسکی بے رخی کا شکوہ کرکے پسٹل کی گولی اپنے سر میں مار کر خود کشی لیتا ہے اور جب اس نوعمر لڑکے کا پوسٹ مارٹم ہوا تو ذرائع کے مطابق یہ بات سامنے آئی کہ اس نے اپنے جسم کے مختلف حصوں کو تیز دھار آلے سے بری طرح کاٹ رکھا تھا او ر اسکے لیب ٹاپ کی جانچ کے بعد مزید انکشاف ہوا کہ یہ عمل اس نے خاتون ٹیچر کو اپنی محبت کی شدت کا احساس دلانے کی خاطر کیا جبکہ اسکی یہ ذہن سازی قطعی طور پر نہ موروثی تھی نہ اس کا یوں خود کو تکلیف دینا کسی طرح معاشرتی معمول تھا بلکہ جذباتی فلموں ڈراموں اور سنی سنائی قصے کہانیوں کا وہ عکس تھا جو اسکے ذہن پر نقش ہوگیا، اسی طرح گزشتہ برس ایک جوڑے نے خانپور نہر میں چھلانگ لگا کر خود کشی کی جو ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے اور عہد باندھے ہوئے تھے کہ اکٹھے جی نہ سکے تو اکٹھے مر جائیں گے، ایسے لاتعداد واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں محبت کے نام پر اپنی جان گنوائی گئی ہے اس سے بڑھ کر یہ کہ عشق میں ناکامی یا پر جان گنوانے والوں کی تعداد ان لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں نہایت کم ہے جو زندہ تو ہیں مگر تو ہیں مگر انکی زندگیاں موت سے بدتر ہیں اپنے ہاتھوں اپنی زندگی تباہ کرنے والے لڑکوں کی اکثریت یا تو نشہ کی لت کا شکار ہوجاتی ہے یا پھر وہ جرائم کی دنیا کی طرف نکل جاتے ہیں تاہم بے راہ روی کا شکار ہونے والی لڑکیوں کی زندگیاں ان سے بھی اجیرن ہوکر رہ جاتی ہیں جنہیں اکثر قبحہ خانوں کی زینت بننا پڑتا ہے، اولاد کیسی بھی ہو والدین کیلئے وہ قیمتی ہوتی ہے مگر جب لڑکیاں کسی کے عشق میں گرفتار ہو کر گھرچھوڑتی ہیں تو وہ اپنے عاشق سے زیادہ حالات کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں اور انکی کسمپرسی انہیں کس وقت کس راہ پر لیجاتی ہے انہیں پتہ تک نہیں چلتا اور پھر جب قحبہ خانوں کی ایک بار زینت بن جاتی ہیں تو اس دلدل سے نکل پانا انکے لئے ممکن نہیں رہتا شیخوپورہ جیسے پسماندہ ضلع میں قحبہ خانوں کی بھرمار معنی خیز ہے جس کی بنیادی وجہ جگہ جگہ قائم مراکز عریانی و فحاشی ہیں جن میں بڑے پیمانے پر یہ جرم سرزد کیا جارہا ہے، ایسا بھی نہیں کہ ریاستی حکام لاعلم ہوں بلکہ جانتے ہوئے بھی کاروائیوں کے اطلاق میں پہلو تہی برتی جارہی ہے حالانکہ پاکستان کی طرح دیگر ایسے ممالک میں جن کے قوانین میں تعزیرات اسلامی جزوی طور پر شامل ہیں ان میں بھی بدکاری کی کڑی سزائیں رکھی گئی ہیں تاہم ان پر عملدر آمد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ایک عرصہ سے مختلف دینی مذہبی جماعتیں پاکستان میں قوانین اسلامیہ کے نفاذ کیلئے سرگرم اور برسرپیکار ہیں مگر بدتر احوال حاضر کے باعث ان کی یہ جدوجہد حصول مقصد سے محروم ہے جبکہ مراکز بدکاری کی تعداد و شرح کے لحاظ سے بات کی جائے تو حالات آشکار ہیں جس کی دلیل کیلئے فقط ضلع شیخوپورہ کا جائزہ بھی کافی ہے کہ ایک نہایت عمومی آبادی پر مشتمل پسماندہ ہونے کے باوجود یہاں ضلع کا شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہو جس میں بدکاری جیسے اس ناقابل معافی جرم کے ارتکاب کے مراکز قائم نہ ہوں جبکہ متعلقہ ریاستی اداروں کی طرف سے بدکاری کے ان اڈوں کے خلاف کڑے اقدامات نہ اٹھائے جانے کے باعث اس جرم کو تقویت میسر ہے مختلف ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق ضلع بھر میں بدکاری کے ایسے لاتعداد اڈے قائم ہیں جن میں وہ علاقے جہاں قحبہ خانوں کی موجودگی ثابت ہے ان میں تھانہ سٹی اے ڈویژن، بی ڈویژن،بھکھی، صدر سرکل وتھانہ فیکٹری ایریا اور تھانہ مریدکے نمایاں ہیں، ذرائع نے قحبہ خانوں کے حوالے سے یہ نہایت شرمناک انکشاف بھی کیا ہے کہ جن میں لڑکیوں کو ان بدکاری کے اڈوں پر رکھا جاتا ہے ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسی لڑکیوں اور خواتین کی ہوتی ہے جنہیں باقاعدہ بھاری رقوم کی ادائیگی کے عوض دیگر قحبہ خانوں یا بعض ایسے افراد سے خریدا جاتا ہے جو لڑکیوں کو بھلا پھسلا کر اپنے جال میں پھانستے ہیں جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر اور مختلف نواحی آبادیوں میں قائم قحبہ خانوں کو بعض کرپٹ پولیس ملازمین کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ قحبہ خانوں کا وجود مٹانے کیلئے پولیس کی طرف سے کوئی موثرلائحہ عمل مرتب کرنااور مربوط کاروائیاں ناپید ہیں لہذاٰ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ہاہم اشتراک سے ایسے اقدامات ہنگائی بنیادوں پر عمل میں لائیں کہ جن سے قحبہ خانوں کے خاتمہ کی صورت میں اس برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکے شہری حلقے اس توقع کا اظہار کررہے ہیں ڈی پی او شیخوپورہ احسن سیف اللہ جہاں دیگر جرائم کے قلع قمع کی خاطر سرگرم عمل ہیں وہاں وہ ضلع شیخوپورہ کو قبحہ خانوں کے وجود سے بھی پاک کرنے کیلئے فوری نوعیت کے موثر و مربوط اقدامات اٹھائیں گے۔ 

٭٭٭

 جذباتی فلمیں، ڈرامے، ٹک ٹاک اور نازیبا ریپ دیکھ کر

والدین موبائل فون پر جس قدر پابندی لگالیں بچے محفوظ نہیں رہ سکتے

مزید :

ایڈیشن 1 -