معمولی ڈانٹ ڈپٹ پر بھانجے نے پانچ افراد کی جان لے لی

  معمولی ڈانٹ ڈپٹ پر بھانجے نے پانچ افراد کی جان لے لی

  

عارف والا کے نواحی گاؤں 143-EB میں پیش آیا ایک قیامت خیز اور دلخراش واقعہ جس نے انسانیت کو شرما کر رکھ دیا کہانی کچھ یوں ہوئی کہ عارف والا سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر گاں 143 ای بی کے رہائشی راؤفیق احمد کی فیملی جن میں چار بچے اور ان کی والدہ شامل تھی نے علی الصبح اپنے گھر میں روٹین کے مطابق اچار اور پراٹھوں سے ناشتہ کیا تو کچھ ہی دیر بعد ان کی حالت بگڑ گئی بچوں کے والد راؤ توفیق جو کہ کھیتوں میں کام کر رہے تھے ان کو اطلاع دی گئی تو وہ فوری گھر پہنچا اور اپنے چاروں بچوں اور بیوی کو لے کر ہسپتال پہنچایا جہاں پر ڈاکٹرز کی ٹیم کو کوئی بھی بات سمجھ نہ آنے پر انھیں ساہیوال ریفر کر دیاجہاں سے ساہیوال ڈی ایچ کیو سے پوری فیملی کو جنرل ہسپتال لاہور بھجوادیا گیا جہاں پر ہسپتال پہنچنے پر اسی شام دو بہن بھائی 8 سالہ بلال اور سالہ عیشا دم توڑ گئے جن کی میتوں کو عزیز واقارب لے کر عارف والا کی طرف روانہ ہوئے ابھی گاں پہنچ کر دونوں بہن بھائی کے جنازے تیارہوئے ہی تھے کہ فون پر اطلاع ملی کہ تیسری بچی 7 سالہ اریجہ بھی جاں بحق ہو گئی ہے جبکہ زہریلے ناشتے کے اثر سے بچوں کی ماں اور ایک بیٹا 4 سالہ عبداللہ ابھی ہسپتال میں ہی زیر علاج تھا تیسری بچی کی ڈیڈ باڈی کو گھر پہنچایا گیا تو اگلے ہی روز بچوں کی ماں کی وفات نے علاقہ کی ہر آنکھ کو نم کر دیا ساتھ ہی گاں میں چہ منگویاں شروع ہو گئیں کہ یہ واقعہ اتفاقا نہیں بلکہ کسی نے پوری فیملی کو کسی رنجش کی بنا پر زہر دیا ہے جس پر بچوں کے باپ را ؤفیق نے پولیس کو کہا کہ ہماری کسی کے ساتھ کوئی رنجش نہیں ہے لیکن پھر بھی پولیس نے خفیہ طور پر اپنی کارروائی جاری رکھی اور اپنی خفیہ انٹیلی جینس کے ذریعے راؤ توفیق کے بھانجے حمزہ جو کہ شجاع آباد سے اپنے ماموں کے گھر ملازمت کے لیے آیا ہوا تھا کو شک کی بنیاد پر حراست میں لے لیا جسے انٹروگیشن کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا تو اس نے دوران تفتیش سب اگل دیا اس نے پولیس کو بتایا کہ اس کا ماموں توفیق اور ممانی صابراں بی بی انھیں بات بات پر ڈانٹتے تھے اور ٹی وی بھی نہیں دیکھنے دیتے تھے جس پر اس نے دل میں انتقام لینے کی ٹھانی اور اپنے بڑے ماموں کے بیٹے اور را توفیق کے بھتیجے علی عظیم کو اس رنجش کو توڑ چڑھانے کے لیے اپنے ساتھ ملا لیا اور بازار سے گندم میں رکھنے والی گولیاں خریدیں اور انھیس پیس کر گھر میں رکھے ہوئے گھی والے ڈبے اور اچار میں مکس کر دیں اور بے فکر ہو گئے کہ کون سا کسی کو پتہ چلے گا ڈی ایس پی عارف والا حافظ خضر زمان اور ایس ایچ او تھانہ صدر شاہد بھٹہ نے تھانہ میں پریس کانفرنس کی اور تمام میڈیا نمائندگان کو بلا کر ملزمان کو سامنے لا کھڑا کیا پریس کانفرنس کے دوران ہی پولیس کو خبر ملی کے چوتھا زیر علاج بچہ عبداللہ بھی ہسپتال میں دم توڑ گیا ہے پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کی عمر 14 سے 17 سال کے درمیان ہیں جنہوں نے اس بھیانک منصوبے کو انجام دیا اور اپنے ماموں کی فیملی کے پانچ افراد کو موت کی بھینٹ چڑھا دیا پولیس نے جاں بحق بچوں کے ماموں اور بچوں کی ماں صابراں بی بی کے بھائی عبدالصمد کی مدعیت میں دونوں کم سن ملزمان کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کر کے ملزمان کو جیل منتقل کر دیا ہے۔

 اس افسوس ناک اور درد ناک سانحہ پر شہر اور گاں کے ہر شخص کی آنکھ اشکبار ہے اس افسوس ناک واقعے پر ڈی ایس پی سرکل عارف والا حافظ خضر زمان۔اور ایس ایچ او تھانہ صدر شاہد بھٹہ کو جلد ملزمان گرفتار کرنے پر میں مرکزی انجمن تاجران عارف والا کے صدر الحاج صوفی رشید نے مبارکباد پیش کی ہے اور پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

٭٭٭

عارف والا کے نواحی گاؤں میں دلخراش واقعہ

مزید :

ایڈیشن 1 -