مائرہ قتل کیس،  پولیس چالان پر 48 اعتراضات عائد 

مائرہ قتل کیس،  پولیس چالان پر 48 اعتراضات عائد 

  

لاہور(نامہ نگار)پراسیکیوشن نے تھانہ ڈیفنس کے علاقے میں مائرہ نامی لڑکی کے قتل میں پولیس کی جانب سے تیار کئے جانیوالے چالان کو مسترد کرتے ہوئے پولیس چالان پر 48 اعتراضات عائد کر دیئے  پراسیکیوشن ونگ نے چالان پولیس کو واپس بھجوا تے ہوئے اعتراض عائد کرتے ہوئے کہاہے کہ مائرہ کے قتل کا مقدمہ 9 گھنٹے کی تاخیر سے کیوں درج کیا  رپورٹ میں قتل کا وقت صبح ساڑھے 9 بجے لیکن استغاثہ میں وقت وقوعہ دوپہر سوا 2 بجے کیوں ہے، مائرہ، اقرا اور ملزموں کے موبائلز کی جیو فینسنگ کیوں نہیں کی گئی،تفتیشی نے ملزمان کو سزا دلوانے کیلئے کیا ٹھوس شواہد اکٹھے کئے، اگر مائرہ کو پھندا دے کر قتل کیا تو اسکی اسکی آنکھیں اور منہ کیوں بند تھا؟ اس کی پر کیا تفتیش کی گئی؟ شواہد اکٹھے کرنے والے فرانزک انچارج کرائم سین کو کیوں گواہوں میں شامل نہیں کیا، سی سی ٹی وی اور لوکیشن میں ظاہر جدون اسلام آباد میں تھا، اس پر تفتیشی نے کیا تحرک کیا،  سی سی ٹی وی سے شواہد اکٹھے کیوں نہیں کئے گئے، گھر کے مالک جاوید چیمہ اور اسکی اہلیہ کو شامل تفتیش کیوں نہ کیا، جھوٹ پکڑنے کے لیے ملزمان کے پولی گراف ٹیسٹ کیوں نہیں کرائے، مقتولہ اور ملزم کے موبائل فون ڈیٹا پر کیا تفتیش کی گئی، جہاں وقوعہ ہوا وہاں اردگرد کے لوگوں کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، تمام دستاویزات کو متعلقہ افسر سے دستخط کرا کے چالان کے ساتھ لف کریں، ملزمان کی ڈی این اے کی رپورٹ بھی چالان کے ساتھ ہی جمع کرائی جائے۔

مزید :

علاقائی -