پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے کشمیریوں کی مشکلات بڑھیں گی،ساجدمیر

پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے کشمیریوں کی مشکلات بڑھیں گی،ساجدمیر

  

    لاہور (پ ر)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ عمران خاں نے آزاد کشمیر میں ریفرنڈم کی بات کر کے پاکستان کے تاریخی اور آئینی موقف سے انحراف کیا،آزاد کشمیر میں  پی ٹی آئی کی حکومت بننے سے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اگر پی ٹی آئی کی کشمیر حکومت نے عمران خاں کے فلسفہ کشمیر کو آگے بڑھایا تو اسکا فائدہ کشمیریوں کو ہرگز نہیں ہوگا۔عمران خاں خطے کی جغرافیائی صورتحال اور تاریخ  سے نابلد ہیں۔تنازعہ جموں و کشمیر پر پاکستان کے تاریخی موقف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں سے ہٹ کر کوئی موقف تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ پوری قوم اسے مسترد کردے گی۔عمران خاں کے بیان سے وہ خدشات درست ثابت ہوگئے ہیں جو 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات سے قوم کے سامنے پہلے ہی آ چکے ہیں۔

 مرکز راوی روڈ میں مختلف جماعتی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی مرضی اور مشاورت کے بغیر کوئی حل ان پر ٹھونسنا بھارت کی مدد کرنا اور کشمیر کاز سے غداری کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خاں جس کی بات کررہے ہیں وہ ریفرنڈم اقوام متحدہ کی تاریخی قرار دادوں اور پاکستانی مؤقف سے انحراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا مؤقف پرویز مشرف کے 7 نکاتی ایجنڈے کا حصہ ہے، مسئلہ کشمیر کا حل صرف حق استصواب رائے سے چاہتے ہیں۔ الیکشن مہم کے دوران وزیر اعظم کی زبان سے ایسی باتیں اور دعوے بھی کیے گئے جن سے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دیرینہ کشمیر ایشو پر پاکستان کا ایک اصولی موقف ہے کہ کشمیری عوام نے اپنے مستقبل کا خود تعین کرنا ہے جس کیلئے اقوام متحدہ نے اپنی درجن بھر قراردادوں کے ذریعے کشمیریوں کو استصواب کا حق دے رکھا ہے جبکہ بھارت کو استصواب کے انتظامات کا کہا گیا تھا جس نے نہ صرف اب تک اس سے گریز کیا بلکہ اپنے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی کی بنیاد پر بھارت میں ضم کرلیا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -