الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر اثاثوں کی تفصیلات اپلوڈکرنا سکیورٹی رسک، ارکان پارلیمنٹ: حکومت بھی حمایتی 

الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر اثاثوں کی تفصیلات اپلوڈکرنا سکیورٹی رسک، ارکان ...

  

 اسلام آباد (آئی این پی)اراکین پارلیمنٹ نے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کو سکیورٹی رسک قرار دیتے ہوئے کہاہے ہر آدمی کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے اور ہمارے بچے غیر محفوظ ہوجائیں گے، حکومت نے بھی حمایت کردی۔پیر کو پار لیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے چیئرمین تاج حیدر کی زیر صدارت پارلیمانی امور کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں انتخا بی ترمیمی ایکٹ بل 2021ء اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دورا ن ارکان پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات کا معاملہ آیا تو ارکان پھوٹ پڑے اورکہا ارکان کی تفصیلات اپلوڈ کرنے کے عمل کو خطرناک قرار دیتے ہو ئے سیکشن 138ختم کرنے کی تجویز دیدی۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)کے سینیٹر فاروق نائیک نے کہا اثاثوں کی تفصیلات اپلوڈ کرنا ہمارے بچوں کیلئے رسک کا سبب بن سکتا ہے۔ تفصیلات اپلوڈ کرنے سے ارکان کی پرائیویسی ختم ہوجاتی ہے، آپ کیا چاہتے ہیں کہ لوگ آکر میرے بچوں کو اغوا کرلیں، ہر آدمی کے پاس انٹرنیٹ ہے ہر ایک ہمارے اثاثے دیکھ لے گا اور ہمارے بچے غیر محفوظ ہوجائیں گے۔ اس عمل سے ہم خود کہہ رہے ہیں کہ آئیں ہمارے بچوں کو اغوا کریں۔اس موقع کمیٹی کے دیگر ارکان کا کہنا تھا اگر کسی کو تفصیلات چاہیے تو الیکشن کمیشن سے لے سکتا ہے۔وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے ارکان کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا تفصیلات اپلوڈ کرنے سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ ماضی میں فاٹا کے لوگوں کو افغانستان سے کالز آتی تھیں، جس پر کمیٹی کے چیئرمین تاج حیدر نے کہا کراچی میں یہ عام بات ہے۔اس سے قبل مجوزہ ترامیم پر غور کیا گیا مجوزہ ترمیم کے تحت الیکشن ٹریبیونل کا رکن صرف حاضر سروس اور ہائی کورٹ کا جج ہوگا جبکہ سیاسی جماعتیں خواتین کیساتھ ساتھ معذور اور مخنث افراد کو رکن بنانے کو ترجیح دیں گی۔کمیٹی کو بتایا گیا مجوزہ ترمیم کے تحت الیکشن عملے کی جانب سے نتائج میں ردو بدل ثابت ہونے پر 6 ماہ کے بجائے 3 سال قید کی سزا ہو سکے گی۔

ارکان پارلیمنٹ 

مزید :

صفحہ آخر -