پاکستان میں پناہ لینے والے افسر، فوج افغان حکا م کے حوالے، چمن بارڈر پر تجارت بحال 

       پاکستان میں پناہ لینے والے افسر، فوج افغان حکا م کے حوالے، چمن بارڈر ...

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی) پاکستان سے محفوظ راستے اور پناہ کی درخواست کے بعد پاکستان آنیوالے افغان نیشنل آرمی کے 5 افسروں اور 41 جوانوں کو رات گئے افغان حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔ ان افغان فوجیوں کو رات 12بجکر 35منٹ پر باجوڑ باردر پر حوالے کیا گیا۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق ان افغان فوجیوں نے پاکستان سے محفوظ راستے کیلئے پناہ کی درخواست کی تھی۔ لازمی کلیرنس کے بعد یہ افغان فوجی ہتھیاروں اور مواصلاتی آلات سمیت پاکستان آئے تھے۔پاکستان پہنچنے پر انہیں خوراک، شیلٹر اور طبی امداد فراہم کی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق چترال اروندو سیکٹرکے پاس تعینات افغان آرمی کے کمانڈر نے پناہ لینے کیلئے پاک فوج سے رابطہ کیا۔ یہ افغان سپاہی پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر واقع اپنی چوکی پر مزید قبضہ جاری رکھنے کے قا بل نہیں رہے تھے،لہٰذا ان 5 افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو پاکستان میں پناہ اورمحفوظ راستہ دیا گیا۔ جس کے بعد 46 فوجی چترال ارندو سیکٹر پہنچے۔پاک آرمی نے معلومات اورضروری کارروائی کیلئے افغان آرمی سے رابطہ کیا ہے، افغان فوجیوں کو قانونی عمل سے گزار کر ا فغا ن حکام کے حوالے کر دیا گیا۔اسی طرح کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا یکم جولائی کو پناہ مانگنے والے 35 افغان فوجیوں کو بھی پاکستان میں محفوظ راستہ دے دیا گیا تھا اور مناسب طریقہ کار کے بعد افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا تھا۔دو سر ی جانب چمن سرحد پرپاک افغان سرحدی تجارت تیرویں روز بحال ہو گئی پاکستان اور افغانستان میں پھنسے امپورٹ ایکسپورٹ وٹرانزٹ ٹریڈ ٹرکوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے۔ سرحدی تجارت پاک افغان سرحدی چوکیوں پر افغان طالبان جنگجوؤ ں کی جانب سے قبضے کے بعد بند کردی گئی تھی جس کیساتھ ساتھ پیدل آمدورفت بھی بند کردیاگیاتھا پیدل آمدورفت کو اگلے روز سے وقفے وقفے سے واپس بحال کر د یاگیاتھا جبکہ سرحدی تجارتی سرگرمیاں بارہ روز بعد تیرویں روز دونوں ممالک کی باہمی رضامندی اور تاجروں کے کوششوں سے بحال کردیا گیا جس کا باقاعدہ اعلان گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد مندوخیل نے کرکے سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی خوشخبری سنائی تھی۔ سرحد پر تجار ت کی بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو شدید نقصانات برداشت کرناپڑرہاتھا جس کی بحالی سے دونوں ممالک کے تاجروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی 

آئی ایس پی آر

کابل(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)افغان طالبان کے زیرقبضہ اضلا ع کی تعداد دوسو بیس ہو گئی، افغان حکومت کیمطابق کئی اضلاع کا قبضہ واپس لے لیا گیا ہے۔دوسری جانب افغان حکومت کا دعوی ہے کہ جھڑپوں کے دوران سیکڑوں طالبان جنگجوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ کئی اضلاع کا کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں قائم ادارے فانڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے جریدے نے بتایا افغان طالبان چارسو سات اضلاع میں سے 220 اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں، وائس آف امریکا کیمطابق طالبان کے 34 افغان صوبائی دارالحکومتوں اور کابل کے قریب پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔فغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار کے نواح میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان لڑائی پیر کو بھی بھی جاری  رہی، لڑائی کے باعث ایک مہینے میں قندھار سے ڈیڑھ لاکھ افراد نقل مکانی کرگئے۔غیرملکی میڈیارپورٹس کے مطابق لوگ بچوں اور خواتین سمیت اپنے تمام اہل خانہ کے ہمراہ علاقہ چھوڑ کر جارہے ہیں۔فغانستان میں اتوار کے اوائل سے لے کر اب تک الگ الگ جھڑپوں کے دوران کم از کم 89 طالبان عسکریت پسند ہلاک اور 82 عسکریت پسند زخمی ہوئے ہیں۔ملک کی وزارت دفاع نے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کنڑ، قندھار، ہرات، فراہ، فریاب، سمنگان، ہلمند، نیمروز، تخار، قندوز اور کاپیسا صوبوں میں افغان قومی دفاعی و سلامتی فورسز(اے این ڈی ایس ایف)کی جانب سے جوابی کارروائیوں اور مسلح جھڑپوں کے دوران مجموعی طور پر 89 عسکریت پسند ہلاک اور 82 زخمی ہو گئے ہیں۔امریکا کے افغان مشن کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے کہاہے کہ افغان فورسز کی درخواست پر طالبان کے خلاف بمباری تیز کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کابل میں اشرف غنی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے جنرل میکنزی نے کہاکہ طالبان نے حملے جاری رکھے تو پھر امریکا بھی بمباری میں تیزی کوبرقرار رکھے گا۔ہلمند کے علاقے گریشک میں افغان فضائیہ نے ہسپتال پر بمباری کردی جس سے ہسپتال کی بیشتر عمارت تباہ ہوگئی۔کابل میں 7سکیورٹی اہلکارو ں کو گولی ماردی گئی۔ضلع شکر درہ میں پانچ سرکاری ملازمین کو گولی ماری گئی۔۔طالبان نے کنڑ کے پاکستان سے ملحقہ ضلع نری پر قبضہ کرلیا۔

افغانستان لڑائی

مزید :

صفحہ اول -