ملک کے 52فیصد بچے 26اقسام کانشہ کررہے ہیں،عبداللہ ملک 

ملک کے 52فیصد بچے 26اقسام کانشہ کررہے ہیں،عبداللہ ملک 

  

لاہور (انٹرویو،وقار رانا) پاکستان میں اس وقت 26 قسم کے نشے پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ کررہے ہیں، اس چیز کا زیادہ استعمال اولیول اور اے لیول کے بچے اعلیٰ مہنگے تعلیمی اداروں میں زیر تربیت بچے اس کا استعمال بے دریغ کررہے ہیں، آج پاکستان میں 52 فیصد بچے آئس، کوکین، ہیروئن،، چرس، افیون، الکوہل، کا نشہ کرکے اپنی زندگی برباد کررہے ہیں، ایسے نشے کو بیچنے والے افراد کا تعلق طاقتور مافیا سے جن کی پشت پناہی سیاستدان، اور پولیس کے اعلیٰ افسران کررہے ہیں، ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز روزنامہ پاکستان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سول سوسائٹی پاکستان کے صدر ایڈووکیٹ عبداللہ ملک نے کیا، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 2016 میں منشیات پر کام کرنے والے اداروں نے تحقیق کی جس کے مطابق آج بھی لاہور میں 22 مقامات ایسے ہیں جہاں پر مختلف قسم کے نشوں میں مبتلا افراد آپ کو سڑکوں چوراہوں پر پڑے نظر آئیں گے، اس مرض سے چھٹکارا پانے کیلئے پاکستان میں کوئی بھی رجسٹرڈ ادارہ موجود نہیں، اور جو ہیں وہ نہ ہونے کے برابر ہیں، جون 2018 میں مینٹل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ میں 200 بیڈ کا ہسپتال بنایا گیا لیکن وہاں پر ایسے افراد کو رکھنے کی واضح پالیسی نہ آئی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا 2018 میں میری درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا، 16 جنوری 2019 کو چاروں صوبوں کے آئی جیز اور چیف سیکرٹری کو طلب کیا مگر بد قسمتی سے پاکستان کی اعلیٰ ترین بیورو کریسی اس کا جامعہ حل پیش نہ کرسکی اور بات ایف آئی آر کے اندراج تک محدود رہ گئی۔ جس پر عدالت نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ لگتا ہے حکومت من چاہی چلا کر نوجوانوں کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ میرا یہ کیس آج بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور وہاں آئی جیز اور چیف سیکرٹریز مختلف اوقات میں مختلف رپورٹس جمع کرواتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے میں لاہور کے سابق ڈی سی او کیپٹن ریٹائرڈ عثمان کی تعریف کروں گا جنہوں نے ایسے تمام کیفے پر دفعہ 144لگا کر آئس سمیت دیگر نشوں پر مکمل پابندی لگائی۔ ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ نشہ بیچنے والے افراد آجکل جدید طریقوں سے نشہ فروخت کرنے میں مصروف عمل ہیں جن کی روک تھام حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے، ایسے افراد ووٹس ایپ گروپ پر نشہ فروخت کرتے ہیں جن کو پکڑنے والا کوئی نہیں۔ اگر ان افراد پر کڑی نظر رکھی جائے تو ممکن ہے یہ افراد زیر حراست آسکتے ہیں۔ 

عبداللہ ملک 

مزید :

صفحہ اول -