صوبائی حکومت نے پبلک سروس کمیشن جیسے معتبر ادارے کا بھی ستیاناس کر دیا: ثمر ہارون بلور

صوبائی حکومت نے پبلک سروس کمیشن جیسے معتبر ادارے کا بھی ستیاناس کر دیا: ثمر ...

  

 پشاور(سٹی رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ترجمان و رکن صوبائی اسمبلی  ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نیخیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن جیسے معتبرادارے کا بھی ستیاناس کردیا ہے۔  عوامی نیشنل پارٹی پی ایم ایس سکریننگ میں 25 امیدواران فی آسامی کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے۔ پشاور میں پی ایم ایس کی حالیہ پالیسی کے خلاف امیدواران کے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ پی ایم ایس سکریننگ ٹسٹ میں ہرآسامی کے لئے صرف 25 امیدواران کو تحریری امتحان کی اجازت دینا جابرانہ پالیسی ہے۔ مذکورہ پالیسی سے 95 فیصد پی ایم ایس امیدواروں کو سکریننگ ٹسٹ سے ہی باہر کردیا ہے جو کہ خیبر پختونخوا کے قابل اور ذہین امیدواروں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ایسے اقدامات سے تعلیم یافتہ نوجوان مایوسی کا شکار ہورہے ہیں اور ان کااداروں پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پالیسی یا رولز ملازمت کے اشتہار کے بعد پاس ہوتیہیں تو اصولا ان کا اطلاق پچھلے اشتہار پر نہیں ہوسکتا۔  مذکورہ خالی آسامیاں پبلک سروس کمیشن کی جانب 25 فروری 2021 کو مشتہر ہوئی تھیں جبکہ 25 امیدواران فی سیٹ کی پالیسی 9 مارچ 2021 کو عمل میں لایا گیا ہے۔ صوبائی حکومت ہوش کے ناخن لے اور 25 امیدوار فی آسامی کی پالیسی کو ترک کے کے تمام اہل امیدواروں کو سکریننگ امتحان میں حصہ لینے کا موقع دے۔ پی ایم ایس امتحان ہر تین چار سال بعد آتا ہے لیکن اس دفعہ ناانصافی پر مبنی پالیسی کی بدولت ہزاروں قابل امیدوارجن کے پاس اس امتحان میں حصہ لینے کا یہ آخری موقع تھا سخت بے چینی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے بشمول سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں بھی صوبائی پبلک سروس کمیشن  کے زیر اہتمام مقابلے کے امتحان میں کسی سکریننگ ٹسٹ کا انعقاد نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں نا صرف نوجوانوں کو سکریننگ امتحان کے ذریعے مقابلے کے امتحان سے باہر کیا جارہا ہے بلکہ نئی پالیسی کے ذریعے ان کو مزید محرومی کا بھی شکار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کو نئی پالیسی کے تحت ایک آسامی کے لئے 25 امیدواران کو ہی امتحان کا اہل قرار دینا تھا تو ہزاروں خواہشمند امیدواروں سے 1500 روپے امتحانی فیس کیوں وصول کی گئی ہے؟ ہر سال ہزاروں  امیدوار مقابلے کے امتحان میں حصہ لیتے ہیں  اگر حساب لگایا جائے تو امیدواروں سیفیس کی مد میں وصول کی جانے والی رقم لاکھوں روپے بنتی ہے۔ فیس وصول کرکے خواہشمند امیدواروں کو امتحان میں حصہ لینے کی اجازت نا دینا ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ 25 امیدوار فی آسامی کی پالیسی کو ختم کرکے 40 فیصد پاسنگ مارکس پر اہل قرار دینے کی پالیسی کو بحال کیا جائے تاکہ میرٹ اور مقابلے کے امتحان کی اصل روح کو برقرار رکھا جاسکے اور خواہشمند امیدواروں میں پروان چڑھتی مایوسی کا خاتمہ کیا جاسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -