کرونا سے بزنس تباہ،حکومت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے مسائل حل کرے، میاں زاہد حسین

کرونا سے بزنس تباہ،حکومت اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے مسائل حل کرے، میاں ...

  

  ملتان (نیوز  رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم کے صدرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز بری طرح (بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

متاثر ہوئے ہیں اورانکی اکثریت دیوالیہ ہو گئی ہے۔ انکی بحالی کے لئے جامع پیکج کا اعلان کیا جائے تاکہ وہ اپنے پیروں پرکھڑے ہو کر ملکی ترقی اور روزگار کی فراہمی میں اپنا کردارادا کر سکیں۔ ایمپلائمنٹ پروموٹرزبحال ہوکرمین پاوربرآمد کر سکیں گے جس سے بے روزگاری میں کمی ہوگی جبکہ بیرون ملک سے ترسیلات زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھیں گی۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی دنیا کرونا ویکسین کی بدولت معاشی نارملائزیشن کی طرف جارہی ہے جس سے بیرون ملک روزگار کے دروازے کھلیں گے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان میں اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے شعبہ کی بحالی اوراسے صنعت کا درجہ دینا ضروری ہے تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے روزگار کے حصول اور ترسیلات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔ موجودہ حکومت نے معیشت کے بہت سے شعبوں کو توجہ دی ہے مگر اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرزکومسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے جنکی اکثریت دفاتر کے کرائے اورسٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل بھی نہیں رہی ہے اس لئے انھیں فوری طور پر انٹرسٹ فری قرضے دئیے جائیں۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ وبا سے بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع فی الحال کم ہو گئے ہیں اورلاکھوں افراد واپس آ گئے ہیں جبکہ پاکستان آئے ہوئے بہت سے افراد کو واپس جانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 29.4 ارب ڈالر بھیجے جس سے ملک کے مالی مسائل میں کافی کمی آئی۔ ترسیلات کی رفتار بڑھانے کے لئے مین پاور کی برآمد ضروری ہے جس کے لئے اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرزکے مسائل حل کئے جائیں کیونکہ بیرون ملک روزگار کے لئے جانے والوں کی بھاری اکثریت کو نجی شعبہ ہی باہر بھجواتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ ترسیلات میں اضافہ کے لئے مرکزی بینک بھی لائق تحسین کوششیں کر رہا ہے جنھیں مذید بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ کم کیا جا سکے کیونکہ بیرونی سرمایہ کاری ہمیشہ کم ہی رہتی ہے۔

میاں زاہد حسین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -