پشاور،پی ایم ایس ٹیسٹ کے امیدواروں کا احتجاجی مظاہرہ

پشاور،پی ایم ایس ٹیسٹ کے امیدواروں کا احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے پی ایم ایس ٹیسٹ کے امیدواران نے پی ایم ایس سکریننگ  "پچیس /سیٹ "سکرینگ پالیسی کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ  کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی نئی "پچیس /سیٹ "سکرینگ  ٹیسٹ پالیسی  ختم کی جائے  جبکہ سکریننگ ٹیسٹ میں پاسنگ مارکس ماضی کی طرح چالیس فیصد رکھے جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کا وسیع کرینگے مظاہرے میں کثیر تعداد میں امیدواران مرد  اور خواتین نے شرکت کی اور نئے سکریننگ ٹیسٹ پالیسی کے خلاف نعرہ بازی کی مظاہرے کی اکرام اللہ یوسفزئی اور دیگر ساتھیوں نے کی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر انکے حق میں مطالبات درج تھے اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا کہ صوبائی بیوروکریسی میں بھرتیوں کیلئے تین چار سال بعد 12پیپرز پر مشتمل مقابلے کا امتحان لیا جاتا ہے جو کہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن منعقد کرتا ہے سکریننگ ٹیسٹ کے مقابلے کے امتحان سے پہلے لیا جاتا ہے جسمیں پاسنگ مارکس لیکر امیدوران اصل تحریری امتحان دیتے ہیں تاہم اس مرتبہ کمیشن نے سکریننگ میں ایک سیٹ پر 25امیدواران کو تحریری امتحان دینے کی پالیسی  بنائی ہے جو سراسر نا انصافی ہے جس سے 95فیصد امیدواران کو سکریننگ میں ہی باہر کر دیا گیا جو کہ قابل امیدوران کیساتھ ظلم ہے انہوں نے کہا کہ کہ اگر کوئی بھی پالیسی یا قانون اشتہار کی تاریخ کے بعد پاس کیا جائے تو اس کا اطلاق قانونی طور پر پچھلے اشتہار پر نہیں ہو سکتا،کمیشن کی جانب سے 25سیٹ پالیسی 9مارچ 2021کو پاس کیا گیا جبکہ اشتہار 25 فروری 2021کو شائع ہوا اسکے علاوہ پچھلے پی ایم ایس 2016کے امتحان میں سکریننگ پاسنگ مارکس 40 فیصد رکھے گئے تھے جبکہ 2018 سکریننگ ٹیسٹ کے پاسنگ 20فیصد رکھے گئے تھے پھر کیا وجہ یے کہ امسال 25سیٹ پر مبنی پالیسی لائی گئی سجسکے باعث ہزاروں امیداروں کے متاثر ہونیکا خدشہ ہے اور امیدواران ذہنی اذیت میں مبتلا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ 25سیٹ پر مبنی پالیسی کو ختم کیا جائے اور ماضی میں جو چالیس فیصد سکریننگ ٹیسٹ پالیسی تھی وہی لائی جائے جبکہ امیداروں سے1500روپے امتحانی فیس جمع کی گئی اور اسامیوں کیلئے 500لی جاتی ہے اگر  95فیصد امیداران مقابلے کے امتحان سے دستبردار کرنا ہی تھا تو ہر امیداوار سے 1500روپے امتحانی فیس کیوں لی گئی لہذا دستبردار ہونیوالے امیداروں کو فیس بھی واپس کی جائے بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ کا وسیع کرینگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -