ریگولیٹری سرگرمیاں، اے سی سی اے کا جائزہ شائع، ڈویلپمنٹ فریم ورک پر بحث

ریگولیٹری سرگرمیاں، اے سی سی اے کا جائزہ شائع، ڈویلپمنٹ فریم ورک پر بحث

  

 ملتان (پ ر)2020ء میں ریگولیٹری سرگرمیوں کے بارے میں دی ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس(اے سی سی اے)  کا جائزہ شائع ہو گیا ہے جس میں قابلیت اور امتحانات، اے سی سی اے کے نافذالعمل پروفیشنل  ڈیویلپمنٹ فریم ورک  کی بہتری(بقیہ نمبر26صفحہ6پر)

، ارکان کی لائسنسنگ، مانیٹرنگ ورک اور ارکان کی شکایات پر تحقیقات اور ڈسپلن، الحاق،اسٹوڈنٹس  و ادارے شامل ہیں۔رپورٹ میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اے سی سی اے کے ریگولیٹری انتظامات کی عمومی طور پر نگرانی کرنے والا خودمختار ریگولیٹری بورڈ اِن انتظامات کی مضبوطی، شفافیت، تناسب یقینی بنانے اور عوامی مفاد کے لیے اے سی سی اے کی ٹیم کے ساتھ کام کرتا ہے۔اس بارے میں ریگولیٹری بورڈ کی چیئر لوسی وِنسکیل نے کہتی ہیں:”تمام دیگر اداروں کی طرح اے سی سی اے نے بھی وبا کے باعث لگنے والی پابندیوں کی پوری قوت کو محسوس کیا۔ غیر حیران کن طور پر، اے سی سی اے کی ریگولیٹری سرگرمیاں، امتحانات سے اداروں کی مانیٹرنگ تک اور شکایات نمٹانے سے لے کر سی پی ڈی کی تعمیل اور مانیٹرنگ تک اثر انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن اے سی سی اے نے، جہاں تک ممکن ہو، خطرات کم کرنے کی غرض سے کام کرنے کے نئے طریقے وضع کیے ہیں  –  مثلاً  جون، 2020ء میں فاصلاتی نگرانی کے تحت امتحانات کا انعقاد تاکہ اے سی سی اے کی رکنیت کی جانب اسٹوڈنٹس کے سفر کا جاری رہنا یقینی بنایا جا سکے۔وہ مزید کہتی ہیں:“ریگولیشن یقینی طور پر خطرات کے بندوبست کا طریقہ کار ہے اور بورڈکی شرائط حوالہ میں اب ریگولیٹری خطرات کی مانیٹرنگ میں ہمارا کردار واضح طور پر بیان کیا گیا ہے تاکہ خطرے اور عوامی مفاد کے درمیان توازن یقینی بنایا جا سکے اورتجارتی مواقع برقرار رکھے جا سکیں۔”رپورٹ یہ بات بھی واضح کرتی ہے کہ عالمی وبا کے  رد عمل میں اے سی سی اے نے تیزی سے کام کیا ہے تاکہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی یقینی بنا سکے اور عوامی مفاد کا تحفظ کر سکے۔ اس نے اپنی ریگولیٹری ذمہ داریوں کی پوری رینج میں ورچوئل طریقے اختیار کیے ہیں تاکہ ان سرگرمیوں کی مؤثر اورعمدہ فراہمی میں مدد مل سکے  – جس میں تمام کمیٹیوں کی ورچوئل سماعت،آڈٹ کی نگرانی، منظو ر شدہ آجرین  اور اینٹی منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں کے لیے  فاصلاتی معائنہ کا طریقہ کار اپنانا شامل ہیں۔ ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسٹریٹیجی اینڈ گورننس، میگی میکگھی کہتی ہیں:”ہم اپنے پیشے کے مستقبل اور ایسے ریگولیٹری ماحول کی تشکیل کے لیے پر عزم ہیں جو اس کا مددگار ہے۔ لہٰذا، اس رپورٹ کی اشاعت بھی اس عزم کا اہم حصہ ہے۔ مؤثر ریگولیشن، عالمی سطح پر کیپٹل مارکیٹس اور فنانشل سسٹمزمیں عوامی مفاد کے لیے ایک طاقتور اور مثبت ٹول ہے۔ دسمبر، 2020ء میں،ہم نے اسے،سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گولز (ایس ڈی جیز) کے لیے اپنے عزائم میں شامل کیاہے جو ہمیں،اقوام متحدہ کی عمل کی دہائی کے دورن،سنہ 2030ء تک مکمل کرنا ہیں اور جس میں ایس ڈی جی16 - امن، انصاف اور مضبوط اداروں کے لیے ہمارا عزم شامل ہے۔“اپنے اختتامی کلمات میں میگی میکگھی نے کہا:”اگر ہم مستقبل پر نظر ڈالیں تو تبدیل ہوتا ہوا ریگولیٹری لینڈ اسکیپ، بالخصوص برطانیہ میں جہاں ہم فنانشل رپورٹنگ کونسل کے ساتھ کام کر رہے ہیں اے سی سی اے کی توجہ کا خصوصی شعبہ ہے اور جب وہ آڈٹ، رپورٹنگ اور گورننس اتھارٹی کی جانب منتقل ہوتے ہیں، اپنی مدد فراہم کرتے ہیں۔ہم نے حال ہی میں حکومت کے آڈٹ اور کارپوریٹ گورننس میں اعتماد کی بحالی کے حوالے سے مشاورت میں ان کے دور رس نتائج کی حامل تجویز میں مدد کی تھی۔ہمارے باضابطہ جواب میں اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا تھا کہ عوامی اعتماد کے ادارں کے آڈٹ میں یہ بنیادی تبدیلیاں ہیں جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ تبدیلی کی ضرورت ہے۔ سرمایہ کار اور عوامی اعتماد کے لیے آڈٹ کا معیار بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور حالیہ مشاورت طویل مدتی اصلاح اور جدت کا موقع فراہم کرتی ہے۔

جائزہ شائع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -