پاکستان نے 46افغان فوجی افسروں، جوانوں کو پناہ دیدی، چمن بارڈر پر تجارت بحال

پاکستان نے 46افغان فوجی افسروں، جوانوں کو پناہ دیدی، چمن بارڈر پر تجارت بحال

  

  راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)  پاکستان نے افغان نیشنل آرمی کے پانچ افسروں سمیت چھیالیس فوجیوں کو پناہ دیدی،پاکستان پہنچنے والے افغان فوجیوں کو خوراک، شیلٹر اور طبی امداد فراہم کی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق چترال اروندو سیکٹرکے پاس تعینات افغان آرمی کے کمانڈر نے پناہ لینے کیلئے پاک فوج سے رابطہ کیا۔ یہ افغان سپاہی پاک افغان بین الاقوامی سرحد پر واقع اپنی چوکی پر مزید قبضہ جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے تھے،لہذا ان 5 افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو پاکستان میں پناہ اورمحفوظ راستہ دیا گیا۔ جس کے بعد 46 فوجی چترال ارندو سیکٹر پہنچے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان پہنچنے والے افغان فوجیوں کو خوراک، شیلٹر اور طبی امداد فراہم کی گئی، پاک آرمی نے معلومات اورضروری کارروائی کیلئے افغان آرمی سے رابطہ کیا ہے، افغان فوجیوں کو قانونی عمل سے گزار کر افغان حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ فوجی جوانوں کو قائم فوجی اصولوں کے مطابق کھانا، رہائش اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ فوجیوں اور افسران کو ضروری طریقہ کار کے بعد باوقار طریقے سے افغان حکومت کو واپس کیا جائے گا۔اسی طرح کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ یکم جولائی کو پناہ مانگنے والے 35 افغان فوجیوں کو بھی پاکستان میں محفوظ راستہ دے دیا گیا تھا اور مناسب طریقہ کار کے بعد افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا تھا۔دوسری  جانب   چمن سرحد پرپاک افغان سرحدی تجارت تیرویں روز بحال ہو گئی پاکستان اور افغانستان میں پھنسے امپورٹ ایکسپورٹ وٹرانزٹ ٹریڈ ٹرکوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے۔ سرحدی تجارت پاک افغان سرحدی چوکیوں پر افغان طالبان جنگجوؤ ں کی جانب سے قبضے کے بعد بند کردی گئی تھی جس کے ساتھ ساتھ پیدل آمدورفت بھی بند کردیاگیاتھا پیدل آمدورفت کو اگلے روز سے وقفے وقفے سے واپس بحال کردیاگیاتھا جبکہ سرحدی تجارتی سرگرمیاں بارہ روز بعد تیرویں روز دونوں ممالک کی باہمی رضامندی اور تاجروں کے کوششوں سیبحال کردیاگیا جس کا باقاعدہ اعلان گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر چمن جمعہ داد مندوخیل نے کرکے سرحد پر تجارتی سرگرمیوں کی خوشخبری سنائی تھی۔  سرحد پر تجارت کی بندش سے دونوں ممالک کے تاجروں کو شدید نقصانات برداشت کرناپڑرہاتھا جس کی بحالی سے دونوں ممالک کے تاجروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی 

آئی ایس پی آر

مزید :

صفحہ اول -