کورونا کی تشویش ناک صورتحال ، شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ،وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس اور کمشنرکو بڑا حکم دے دیا 

کورونا کی تشویش ناک صورتحال ، شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ...
کورونا کی تشویش ناک صورتحال ، شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی ،وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی پولیس اور کمشنرکو بڑا حکم دے دیا 

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے آئی جی پولیس اور کمشنر کراچی کو ہدایت کی ہے کہ کورونا وبا کے پیش نظر اس بات کو یقینی بنائے جائیں کہ کراچی میں کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے.وزیراعلی سندھ نے آئی جی پولیس اور کمشنر کراچی ہدایت کی کہ کراچی میں شام 6 بجے کے بعد مکمل پابندی لگائیں، کوئی شخص غیرضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلے، وہ دوبارہ جمعہ کے دن کورونا صورت حال کا جائزہ لیں گے، صورت حال بہتر نہ ہوئی تو مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

وزیر اعلی سندھ نے صوبے خصوصا کراچی میں موجودہ غیر معمولی طور پر کورونا کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے جودکانداروں ، تاجروں ، ٹرانسپورٹرز اور سیاستدانوں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو حکومت کےساتھ تعاون کرنےپر آمادہ کرے گی تاکہ عوامی صحت کےاعلی مفادکےتحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ، بصورت دیگر حالات شدید متاثر کن ہوسکتے ہیں۔

 کورونا وائرس سےمتعلق صوبائی ٹاسک فورس کےاجلاس کی صدارت کرتےہوئےوزیراعلی سندھ نے کوویڈ کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا اور اسے تشویشناک قرار دیا اور بعد میں انہوں نے سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کا آڈٹ کیا اور کچھ دیگرسرکاری ہسپتالوں میں کوویڈ کی سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری صحت ڈاکٹر کاظم جتوئی نے کہا کہ صوبے میں کوویڈکی تشخیص کا تناسب 12.7 فیصد تک جا پہنچا ہے جو چوتھی لہر میں سب سے زیادہ ہے،کراچی میں 26 جولائی کو تشخیص کی شرح 26.32 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

اس موقع پر وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ 20 جولائی کو کراچی میں 20 فیصدتشخیص کی شرح تھی جو 21 جولائی کو بڑھ کر 23 فیصد ہوگئی ، 22 جولائی کو 21.54 فیصد ،24 جولائی کو 23.46 فیصد، 25 جولائی کو 24.82 فیصد اور 26 جولائی کو 26.32 فیصد رہی،یہ کافی نازک صورتحال ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ ایک ہفتہ کے دوران 19 جولائی سے 25 جولائی تک ضلع شرقی کراچی میں کوویڈ کی شرح 33 فیصد ، کورنگی 21 فیصد ، وسطی 20 فیصد ، غربی 19 فیصد ، ملیر اور جنوبی میں 17 فیصد رہی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جولائی کے مہینے میں کورونا سے 362 اموات رپورٹ ہوئیں ان میں سے 64 فیصد یعنی 233 وینٹیلیٹرز پر ، 23 فیصد یعنی 85 وینٹی لیٹرز کے بغیر اور 13 فیصد یعنی 44 گھروں میں اموات ہوئیں۔وزیراعلی سندھ کو سرکاری ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ 686 مریضوں میں سے76 آئی سی یو میں وینٹی لیٹرز پر ہیں اور مجموعی طور پر 1547 ایچ ڈی یو بیڈ میں سے 690 پر مریض ہیں۔ اس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ اسپتالوں پر دبا بڑھ رہا ہے ، لہذا انہوں نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ وہ محکمہ لیبر کے تین ہسپتالوں، پولیس ہسپتال ، لیاقت آباد اور نیوکراچی کے ہسپتالوں میں کوویڈ کی سہولیات مہیا کریں اور سروسز اور کورنگی ہسپتالوں میں مرکی قسم( Marquee-type) کےانتظامات کریں۔ وزیر اعلی سندھ کو بتایا گیا کہ عباسی شہید ہسپتال میں کورونا وارڈ قائم کیا گیا ہے جہاں 10 مریض داخل ہیں۔

مراد علی شاہ نے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ جہاں ضرورت ہو وہاں کورونا کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے تکنیکی عملہ فراہم کریں۔ ملک کے بڑے شہروں میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ مظفرآباد میں وینٹیلیٹرز پر دو مریض ، اسلام آباد 23 ، پشاور 21 ، لاہور 81 ، ملتان 18 اور کراچی میں 76 مریض ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ شہر میں کورونا کے ٹیسٹ کی تعداد بڑھائیں تا کہ متاثرہ افراد کی جانچ کی جاسکے اور اس وبا کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔ صوبائی حکومت کو مختلف ویکسینوں کی 6،900،997 خوراکیں موصول ہوئی ہیں ، ان میں سے 5،620،977 ڈوززاستعمال کی جاچکی ہیں ۔

وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کچھ سیاسی دوست مارکیٹوں کی بندش یا دیگر سرگرمیوں کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو گمراہ کیا جارہاہے،وہ صوبے کے لوگوں کو وبائی امراض سے بچانے کے لئے سخت اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے وزیر بلدیات سید سید ناصر شاہ ، وزیر صنعت جام اکرام دھاریجو ، وزیر ٹرانسپورٹ اویس قادر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو کہ سیاستدانوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کرے گی اور ان کو کوویڈ کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا جائےگا۔

مراد علی شاہ نے ایڈیشنل آئی جی پولیس اور کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ وہ بازاروں کی مقررہ وقت پربندش کو یقینی بنائیں اور ٹیوشن سینٹرز اور پرائیوٹ جم کو بھی بند کروائیں جو ابھی تک کھلے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے صوبے کے لوگوں پر زور دیا کہ وہ گھروں میں رہیں اور بغیر کسی معقول وجہ کے گھر سے باہر جانے سے گریز کریں۔ صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کے بعد ہی وزیر اعلی سندھ نے نجی ہسپتالوں کے سی ای اوز کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کی اور ان سے اپیل کی کہ وہ اپنے ہسپتالوں میں کوویڈ سے متعلقہ سہولیات کو اپ گریڈ کریں۔ نجی ہسپتالوں کے سی ای اوز نے وزیراعلی سندھ کو کورونا مریضوں کو فراہم کردہ سہولیات سے آگاہ کیا اور انھیں ویکسین لگانے کی مہم میں اپنی کوششوں کے بارے میں بھی بتایا۔ مراد علی شاہ نے سیکریٹری صحت کو نجی ہسپتالوں کے ساتھ قریبی رابطہ اور رہنمائی کے حوالے سے واٹس ایپ گروپ بنانے کی ہدایت کی۔

مزید :

کورونا وائرس -