کرپشن ختم کرنے میں عوام کا کردار!

کرپشن ختم کرنے میں عوام کا کردار!
کرپشن ختم کرنے میں عوام کا کردار!

  


الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر جن مسائل پر گفتگو ہوتی ہے، اُن میں کرپشن کا مسئلہ سر فہرست ہے۔ عوام بھی کرپشن کے موضوع پر ہمہ وقت گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ تمام افراد کرپشن کا رونا روتے رہتے ہیں۔ عوام کرپشن سے نالاں نظر آتے ہیں ، لیکن اس مسئلے کو حل کرنے میں ان کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ کرپشن پر سبھی بات کرتے ہیں، لیکن عوام کے تمام طبقات نے کرپشن ختم کرنے کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی ہے۔ معاشروں کی تشکیل عوام کرتے ہیں اور سماجی برائیوں کے خاتمے میں بھی ان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کرپشن ختم کرنے کے لئے عدالتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ سیاستدان کرپٹ نہ ہوں۔ ایمانداری اور نیک نیتی سے اپنے فرائض انجام دیں۔ اسی طرح ریاست کے تمام ادارے کرپشن سے پاک ہو جائیں۔ پولیس کرپٹ نہ ہو۔ عدالتیں میرٹ پر فیصلے کریں۔ ڈاکٹر حضرات اپنی ڈیوٹی انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کرانجام دیں۔ وکیل حضرات فیس لے کر اس کا حق بھی ادا کریں اور محنت کے ساتھ مقدمہ لڑیں۔ بلا جواز ہڑتالیں نہ کریں، کیونکہ اس نے ان کے مو¿کلوں کا نقصان ہوتا ہے اور جس کام کی وہ فیس لیتے ہیں، اُسے دیانتداری سے پایہءتکمیل پہنچانے میں رکاوٹ پید ہوتی ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے عوام کی توقعات جائزہ بھی ہیں اور درست بھی، لیکن کرپشن کے خاتمے کے لئے صرف توقعات کا سہارا لینا درست نہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے عوام کو عملی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور کرپشن کے خاتمے کے لئے خود میدان میں آنا پڑے گا۔

عوام کو سب سے زیادہ شکایت یہ ہے کہ اُن کے عوامی نمائندے کرپٹ ہیں۔ لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہیں۔ میرٹ کو نظر انداز کرتے ہیں اور غیر قانونی حرکات میں ملوث ہیں، لیکن عوام ، عوامی نمائندوں کے احتساب میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام ووٹ کے ذریعے عوامی نمائندوں کا احتساب کر سکتے ہیں، لیکن وہ خود ایسا نہیں کرتے۔ اگر عوام اپنے نمائندوں کا خود احتساب نہیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ کرپشن کے بارے میں ہمارے رویوں میں بسا اوقات عجیب قسم کی منافقت نظر آتی ہے۔ ہم جب کسی کو ووٹ دیتے ہیں، اس کی حمایت کرتے ہیں تو اپنے ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر فوقیت دیتے ہیں۔ ہم کرپشن کو اس قدر بُرا سمجھتے ہیں اور کرپٹ افراد کو ہر وقت بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں، لیکن جب اپنے مفاد کی بات آتی ہے، یا ہمیں اپنا کوئی ذاتی مطلب حل کرنا ہوتا ہے تو ہم کرپشن کے مسئلے کو سراسر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں کرپشن بُری نہیں لگتی اور ہم کرپٹ آدمی کے ذریعے اپنا کام نکلوانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ ہم اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو خلاف میرٹ بھرتی کروانا چاہتے ہیں۔ ہم میرٹ کے برعکس اپنے ترقیاتی کام کروانا چاہتے ہیں۔ ہم بااثر، کرپٹ اور جرائم پیشہ افراد سے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں اور اپنے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھتے ہیں۔

ہم دوستوں کو بتاتے ہیں کہ ہمارے فلاں آدمی سے تعلقات میں ، خواہ وہ کتنا ہی کرپٹ کیوں نہ ہو، ہم کرپٹ افراد کی خوشامد بھی کرتے ہیں۔ انہیں جھک کر سلام بھی کرتے ہیں۔ ہم انہی کرپٹ افراد کے ڈیروں پر حاضری بھی دیتے ہیں اور انہیں سب سے معزز فرد سمجھتے ہیں۔ ہم میں سے زیادہ تر افراد نماز بھی ادا کرتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی بالادست ہے اور اُسی کے پاس ساری طاقت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نماز کا ایک سجدہ ہزار سجدوں سے نجات دلا دیتا ہے، لیکن ہم نماز والا سجدہ بھی کرتے رہتے ہیں اور دیگر ہزار نہیں، بلکہ لاکھوں سجدے کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمارے رویوں میں اس طرح کا تضاد اور منافقت ہی ہمارے اصل مسائل کا سبب ہے۔ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کو دیکھ لیں یا پھر کچھ دیگر اہل توحید کے کردار پر غور کریں تو یہ لوگ دنیا سمیٹنے اور اقتدار اور دولت کی ہوس میں غرقاب نظر آئیں گے، حالانکہ ہم سمجھتے ہیں اور ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ عارضی زندگی ہے اور اصلی زندگی بعد از موت ہے۔ ہمارے رویوں میں اس طرح کے تضادات ہی مسائل کی جڑ اور کرپشن کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ 

مزید : کالم