فن کی موت

فن کی موت
فن کی موت

  


 شہنشاہ ِ غزل مہدی حسن اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں، اور ان کی رحلت کے ساتھ ہی غزل گائیکی کا عمدہ اور نفیس فن بھی اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہسپتالوں میں ایک عشرے سے زائد عرصے تک جنگ کرتے کرتے آخر کار اُن کی ہمت جواب دے گئی۔ مہدی حسن صاحب کے 12,000 سے زائد ریکارڈ شدہ گیت اور غزلیں موسیقی کے لاکھوں شائقین کو ان کے منفرد انداز کی گائیکی سے وجد میں رکھیںگے۔

مہدی حسن صاحب کی رحلت کے بعد اخبارات میں ان کی تعزیت میںلاتعداد مضامین چھپے اور ان کے بے مثال فن کو خراج پیش کیا گیا۔ ایک مضمون نگار لکھتا ہے”وہ آواز، وہ غزل، وہ سُر ، جو دل کے تاروںکے ساتھ بجتے ہیں، اور اس عالم میں زبان اور جغرافیائی حد بندیاں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں، بلکہ انداز اور قواعدبھی دست بستہ حاضر ِ خدمت ہوتے، جبکہ سامعین کی دلوں کو گدگداتی ہوئی آوازاُن کے آنسوﺅںمیں ڈھل جاتی یہ تھی مہدی حسن صاحب کی موسیقی“۔

یہ سب کچھ درست، مگر ارباب ِ اختیار ، جو آج بہت جذباتی فقرے بول رہے ہیں، اُن کی انکھیں جھوٹے آنسوﺅںسے لبریز ہیں اور اُن کے چہرے پر ”غم و صدمے “ کی ملمع کاری ہے، کی اداکاری کو دیکھ کر دل غصے سے بے قابو ہورہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اختیار اور وسائل ہیں ،مگر اانہوںنے مہدی حسن کے لئے کچھ نہ کیا۔ آج کسی سڑک کو اُن کے نام سے منسوب کرنے کی بات ہورہی ہے، ان کے نام پر کسی یونیورسٹی میں چیئر کے قیام کا منصوبہ بھی بن رہا ہے ، فن ِ موسیقی کے بے تاج بادشاہ کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کے لئے کچھ اور اقدامات بھی تجویز کئے جارہے ہیں ، تاہم میرا سوال یہ ہے کہ جب وہ بیماریوںکے خلاف ایک تکلیف دہ جنگ لڑ رہے تھے تو یہ سب لوگ کہاں تھے ؟خیبر پختونخوا کے گورنر بیرسٹر مسعود کوثر کے لئے اب یہ بیان دینا بہت آسان ہے کہ ” قوم ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگئی“ لیکن انہوں نے اور ان کی حکومت نے مہدی حسن کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے کیا کیا؟

یہ ہمارا قومی وتیرہ بن چکا ہے کہ جب ایسے سانحات پیش آتے ہیں تو بہت سے رہنما اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دس سیکنڈ کا بیان مع تصویر نشر کرکے اشک شوئی کرلیتے ہیں۔ یہی ان کی قومی خدمت ہوتی ہے۔ سندھ کے چیف منسٹر صاحب اور ان کے گرد بہت سے ہم نواﺅںنے نہایت مختصر لمحے کے لئے غم کے اظہار کے طور پر سر کو ہلکا سا خم کیا، جبکہ چہرے پر دکھ کی جھلک ہویدا تھی۔ یہ صاحبان ِ ذی وقار ، جن کے صوبے میں مہدی حسن صاحب رہتے تھے اور یہیں اُن کا انتقال ہوا، اُن کے علاج کے لئے تو پانچ روپے دینے کے بھی روادار نہ ہوں گے ،مگر عیش و عشرت کی ایک رات میں500,000 روپے اُڑاتے ہوئے ”حقیقی فن “ کی داد بڑی خوشی سے دیںگے خیر اس ذکر کو چھوڑیں، صدر جنرل (ر) مشرف صاحب بھی غمزدہ ہیں گو اس کیفیت کا دورانیہ چند لمحات پر ہی محیط ہوگا۔ بات یہ ہے کہ ہم سب روایات کی ماری ہوئی قوم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں منافقت اور دکھاوے کے سکے ہی چلتے ہیں ۔

آج پاکستان میں فن ، جس سے ہمیشہ ایک سوتیلی اولاد کا ساسلوک کیا گیا، کی بے قدری ہے۔ آپ یہ گفتگو مسلسل سنیں گے کہ ہمیں اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانا چاہیے اور اس کو ترقی دینی چاہیے ،مگر عملی طور پر فن کا حشر سب کے سامنے ہے فن کار غربت، لاچارگی، تعصب اور بے قدری کا شکار ہیں۔ ہمارے ہاںیکے بعد دیگرے شاعر، گلوکار، موسیقار، رقاص اور دوسرے بہت سے فن کار،جن کے دم قدم سے فن کے شبستان میںدیئے روشن تھے، بے قدری کا شکار ہو کر اس دھرتی کو بانجھ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ آج ہمارے ہاں ثقافتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمارے ماضی کے عظیم ماہر ِ فن یہاں دفن ہیں اور اُن کے مدفن گمنام ہو چکے ہیں۔ نئی نسل اُن کے فن سے اجنبی ہے ۔ عقل حیران ہے کہ کس کلچرل ہریٹیج کو محفوظ کرنے کی بات کی جاتی ہے ؟

موسیقار بہت زیادہ مالی فائدہ حاصل نہیںکر پاتے ۔ان میں سے زیادہ ترتو مالی مشکلات کا شکارر پائے جاتے ہیں۔ موسیقی کے حقیقی فن کاراپنی دنیا میںگم رہتے ہیں ، اس لئے ان کی مدد کی جانی چاہیے، کیونکہ وہ بہت حساس لو گ ہوتے ہیں۔ اُن کا پیغام محبت ہوتا ہے ، اُن کا فن حدودوقیود سے ماورا¿ ہوتا ہے اور وہ ہمیں نا انصافی، تشدد اور انتہا پسندی سے بچاتے ہوئے انسانی قدریں سکھاتا ہے۔ تاہم بے قدری کے اس سفاک موسم میں وہ لہولہان ہیں ۔ چند ایک کو چھوڑ کر، جن پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور وہ دولت میں کھیلنے لگے، باقی سب مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

مہدی حسن صاحب نے تین قومی ایوارڈ جیتے تمغہ ¿ امتیاز، پرائڈ آف پرفارمنس اور ہلال ِ امتیاز....1979ءکو اُن کو جالندھر میں ”کے ایل سہگل“ ایوارڈ دیا گیا۔ چار سال بعد نیپال کی حکومت نے انہیں ”گورشا دکشن بھاﺅ“(Gorkha Dakshan Bahu) ایوارڈ سے نوازا، تاہم یہ ایوارڈ روٹی تو نہیں خرید سکتے۔ مہدی حسن صاحب کو بہت سے مسائل کا سامنا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ انڈیا سے جگجیت سنگھ آئے اور ان کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کے لئے اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن اس اچھی مثال نے نہ تو ہمیں متاثر کیا اور نہ ہی شرمندہ۔ پاکستان ایسے اچھے کاموںسے ”پاک “ ملک ہے۔ ہمارے کمانڈو صدر صاحب نے کیش ایوارڈ کا اعلان کیا تھا ،مگر مجھے یقین ہے کہ بیان تو چھپا ہوگا ،مگر رقم نہیں ملی ہو گی۔ اس پر مستزاد، مہدی حسن صاحب کے گھر چور آئے اور جو بھی جمع اثاثے تھے، لے کر چلتے بنے۔

 مَیںنے مہدی حسن صاحب کو زیادہ جگہ اس لئے دی ہے کہ یہ ہماری قومی شرمندگی کے باب میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اب وہ ایک سڑک ان کے نام منسوب کرنا چاہتے ہیں، جیسے میڈم نورجہاں کے لئے کی گئی تھی، مگر اس کا اب مہدی حسن صاحب اور میڈم کو کیا فائدہ ہو گا؟جب یہ نابغہ ¿ روزگار افراد حیات تھے تو ان کی قدر کیوں نہ کی گئی ؟استاد نصرف فتح علی خان اور ان کے فیصل آباد کا کیا ہوا؟وہاںکو ن سی قومی یادگار بنی ہے اور کون وہاںخراج ِ تحسین پیش کرنے جاتا ہے ؟کیا ان عظیم فن کاروں کے دن قومی سطح پر منائے جاتے ہیںاور کیا نوجوان گلوکار ان کے نغمے گا کر ان کی یاد تازہ کرتے ہیں ؟ جب محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اقتدار میں تھیں تو ایک مرتبہ میڈم نے مجھے کہا کہ مَیں ایک کالم میں وزیر ِ اعظم صاحبہ سے استدعاکروںکہ وہ ان کو غیر ملکی سفر کرنے کے لئے این اوسی عطا کردیں، جس طرح بھارت میں لتاجی کو حاصل ہے، مَیں نے کالم لکھا اور اس کی کاپی محترمہ کو بھجوا دی۔ یہ کاوش بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ مس بھٹو نے وہ موقع گنوا دیا اور میڈم کو کبھی ایک کلرک اور کبھی دوسرے کلرک کے پاس دستخط کروانے کے لئے جانا پڑا۔

فن کے ساتھ ہماری دشمنی قیام ِ پاکستان کے ساتھ ہی شروع ہو گئی۔ ہم نے سعادت حسن منٹو جیسے لکھاری سے نفرت کی ، کیونکہ ان کی تحریریں ہماری پارسائی کے نام نہاد لبادے میں لپٹی ہوئی منافقت کو چاک کرتی تھیں۔ منٹو صاحب عسرت زدہ زندگی گزار کر فوت ہوئے، مگر ان کا فن اتنا توانا تھا کہ ان کے ساتھ قبر میںنہ سما سکا۔ آج (ہم نہیں ) دنیا جانتی ہے کہ وہ کس معیار کے مصنف تھے؟ آج بھی ان کی تحریریں ہمارے سرکاری میڈیا اور نصابی کتب میں ممنوع ہیں۔ ہمارے لئے صرف یہی باعث شرم نہیں ہے فیض صاحب نے بے بنیاد الزامات کی بنا پر زندگی کا طویل عرصہ جیل میں گزارا اور پھر ان کو جلا دطنی پر مجبور ہونا پڑا۔ آج وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔

عظیم فن کاروںکے لئے ہماری بے حسی کی فہرست بہت طویل ہے۔ صوفی شعرا ، جیسا کہ غلام فرید اور شاہ حسین، کی کافیاں گانے والے عظیم سرائیکی گلوکار پٹھانے خاں کے پاس اپنے اور اپنے خاندان کو دو وقت کی روٹی کھلانے کے لئے کچھ نہ تھا۔ غربت کے زخموںسے چور یہ عظیم گلوکار کوٹ اددو کے نزدیک ایک رکشے میںگر کر خالق ِ حقیقی سے جا ملا۔ہمارے ملتان کے مشہور” پیر صاحب“ نے خان صاحب کے لئے کیا کیا تھا ؟مجھے یقین ہے کہ کچھ نہیںکیا ہوگا، ورنہ خان صاحب غربت کے اُس ”چاہ ِ یوسف “ میں نہ گرے ہوتے۔ سُچے موتیوں کے سے پاکیزہ جذبات کو ملکوتی آواز کا روپ دینے اور عشق آتش کے سوز کو موسیقی کے سروں میں پرونے والے بے مثال سندھی موسیقار اور کلاسیکل فن کار استاد محمد جمن صاحب 1990ءمیں کراچی میں نہایت غربت اور لاچارگی کے عالم میں فوت ہوئے....(یوٹیوب پر ان کا آخری انٹرویو سننا سقوط ِ ڈھاکہ سے زیادہ المناک ہے).... بہت سے اداکار اور اداکارائیں ، جیسا کہ رومانہ، نمیّ،ذاکر علی خان، لالہ سدھیر، مظہر شاہ، پرویز مہدی، جگی ملک اور ادیب زندگی کے آخری برسوں میں غربت کا شکار ہو کر فوت ہوئے۔ رومانہ اور نمیّ کو تو زندگی کے آخری ایام میں خیرات بھی مانگنا پڑی۔ رومانہ کا انتقال فاقہ کشی سے ہوا۔

استاد سلامت علی خان صاحب کے بھائی استاد ذاکر علی خان چند سال پہلے انتہائی غربت کے عالم میں فوت ہوئے۔ انہیں بہت کم رقم کے امدادی چیک ملے تھے ،مگر وہ زندگی کے آخری دن تک اُن کے کیش ہونے کے منتظر رہے۔ وہ صدمے اور دکھ سے فوت ہوگئے کہ موسیقی میں اُن کی طویل خدمات کے باوجود کسی نے نہ اُن کا حال پوچھا اور نہ کوئی اُن کی مدد کو آیا۔ مختلف گھرانوں، جیسا کہ شام چوراسی، گوالیار،پٹیالہ کے بہت سے گلوکاروں نے فوک اور کلاسیکل موسیقی کے لئے اپنی عمریں وقف کر دیں، تاہم اب ان میں سے بہت سوں نے غم ِ روزگار میں فن کو ترک کر دیا ہے۔ جس دیس میں استاد امانت علی خان صاحب جیسے فن کار غربت کا شکار ہو کر مر جائیں.... ”اُس شہر میں جی کا لگانا کیا“۔ یہ فہرست بہت طویل ہے۔

معین اختر، ببو برال، لیاقت سولجر اور مستانہ فوت ہو چکے ہیں۔ ہمارے عظیم فن کاروں میں ریشماں، علی اعجاز، روحی بانو، ہمایوں قریشی، عالمگیر اور افضال احمدابھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور یہ سب لوگ بھی کسی نہ کسی تکلیف میں ہیں ،مگر ابھی ہماری توجہ ان کی طرف نہیں ہے۔ ناصر کاظمی کا انتقال 1972 ءمیںہوا اور وہ آخری عمر میں علاج معالجے کی اسطاعت نہیں رکھتے تھے۔ شاید کچھ لوگوںکو یاد ہو کہ لاہور کے کچھ ادیبوں اور دانشوروںنے سڑکوںپر جلوس بھی نکالا تھا کہ کاظمی صاحب کے اہل ِ خانہ کی کفالت کے لئے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا جائے، مگر اُس وقت کی حکومت نے یہ مطالبہ نہ مانا۔ ناصر کاظمی اور مجید امجد ایک ہی سال فوت ہوئے ۔ مجید امجد کا نہیںکہہ سکتا کہ اُن کو کچھ ملا تھا یا نہیں۔

ناصر صاحب کے ایک اورہمعصر خواجہ شاہد نصیر نے بھی نہایت عمدہ کلاسیکی لہجے میں غزل لکھی ہے۔ وہ بھی ایک معمولی کلرک کے طور پر کام کرتے ہوئے 1973ءمیں فوت ہوئے۔ ان کی واحد بیٹی کا کینسر سے انتقال ہوا۔ ان کا کلام ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ آزادی کے بعد کی پنجابی شاعری کے ماتھے کا جھومر احمد راہی صاحب انتہائی غربت کے عالم میں اس عالم ناپائیدارسے رخصت ہوئے۔ استاد حفیظ خان تلونڈی کا، جو پاکستان میں دھرپت گائیکی کے آخری فن کار تھے، تین سال پہلے جب انتقال ہوا تواُن کے اہل ِ خانہ کے پاس ان کی تدفین کے لئے بھی پیسے نہیں تھے۔

کہاں تک یہ افسوس ناک کہانیاں سنو گے۔ موجودہ حکومت، اس سے پہلی حکومت اور آنے والی حکومت بس زبانی جمع خرچ کریںگے، مگر فن کے لئے کچھ نہیںہوگا۔ اس ضمن میں انفرادی، اجتماعی اور حکومتی سطح پربہت کچھ کیا جانا ہے ،مگر خاطر جمع رکھیں، اس دھرتی پر ”سچا شعر “ نہ کوئی سنے گا اور نہ کوئی سنائے گا۔ ایک دن یہ دھرتی بانجھ ہوجائے گی اور یہاں صرف نفرت کی خاک اُڑے گی۔ ٭

مزید : کالم


loading...