جمہوری تماشا

جمہوری تماشا
جمہوری تماشا

  


یہ بات تو اب واضح ہو گئی ہے کہ وطن عزیز کے اصل حکمران صدر ذی وقار عالی مرتبت جناب آصف علی زرداری ہیں۔ ان کا اقبال بلند رہے کہ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو بھی اس حوالے سے مات دیدی ہے کہ وزیر اعظم کی تبدیلی بس اتنی ہی ہوتی ہے کہ چہرہ بدل جاتا ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں جب وزیر اعظم تبدیل ہوتا تھا تو کابینہ میں بھی تھوڑی بہت تبدیل ضرورآجاتی تھی ۔کچھ یہ احساس بھی ہوتا تھا کہ تبدیلی آئی تو ہے، مگر پتہ نہیں کیا، لیکن آصف علی زرداری صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس بات کا احساس بھی نہیںہونے دیا۔ بس دو ذاتیں ہی تبدیل ہوئی ہیں۔ سید بادشاہ کی جگہ راجہ بادشاہ آگیاہے۔ راجپوتوں نے برصغیر میں طویل عرصے تک جنگیں بھی لڑیں اورحکومتیں بھی کیں، تاہم پاکستان میں غالباً پہلی بار ایک راجہ اقتدار کی مسند پر براجمان ہوا ہے۔ یہ تبدیلی تو واقعی بہت بڑی ہے، مگر اس کے سوا کچھ بھی نہیں بدلا، حتیٰ کہ خود وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو یہ کہنا پڑ گیا ہے کہ بھائیو! کسی خوش فہمی میں نہ رہنا، یہاں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ،حتیٰ کہ سوئس حکام کو خط لکھنے کا معاملہ بھی جوں کا توں ہے۔

شیدا ریڑھی والا اس کنفیوژن کا کچھ زیادہ ہی شکار ہے کہ حکومت نئی ہے یا پرانی ؟....میرا ایک شعر ہے۔

تم نئے شہر میں ہر چیز نئی دیکھو گے

یہ بھی سچ ہے کہ وہاں لوگ پرانے ہوں گے

سو کہنے کو حکومت کی لش پش نئی جیسی ہے، مگر چہرے سب پرانے ہیں، حتیٰ کہ وزیر اعظم کا چہرہ بھی بہت مانوس اور پرانا ہے، بلکہ عوام اس چہرے کو کچھ زیادہ ہی یاد رکھے ہوئے ہیں کہ بجلی جو آج کے پاکستان کا سب سے بڑا دکھ ہے، انہی کے وعدوں پر آتی جاتی رہی ہے اور پھر معاملہ رینٹل پاور منصوبوں کا بھی ہے کہ جن کی بڑی دھوم تھی، لیکن ”کھودا پہاڑ تو نکلی کرپشن “کے مصداق ان منصوبوں سے اور کچھ برآمد نہیں ہوا۔ شیدا ریڑھی والا جب میرے پیچھے پڑتا ہے تو اس سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پولیس جب کسی کے پیچھے پڑ جائے تو اس کی جان لے کر ہی چھوڑتی ہے، یہ تو ملک ریاض کی خوش قسمتی ہے کہ پنجاب پولیس انہیں پکڑنے اسلام آباد گئی اور وہ اوپر کی فون کال کے باعث بچ گئے۔ خیر شیدے کا اصل سوال یہ ہے کہ اگر اس طرح کی حکومتیں بدلنی ہیں تو یہ فضول حرکت کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر تو سپریم کورٹ ہی سے ہاتھ باندھ کر گزارش کی جائے کہ وہ حکومت کو اس کے حال پر چھوڑ دے، تاکہ جیسے تیسے کر کے یہ اپنی مدت پوری کرے اور وہ وقت آئے، جب واقعی کوئی نئی حکومت بنے۔

مَیں تو شیدے ریڑھی والے کو یہی کہتا ہوں کہ بھائی جمہوریت اسی کا نام ہے اور اس کا حسن یہی ہے کہ ہرنی کی چال سے چلتی رہتی ہے۔ آصف علی زرداری صاحب نے تو اس کی چال کو مزید مستانہ وار بنا دیا ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہی پڑا ہے کہ مرشد سائیں سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم ہاﺅس کے وسیع و عریض محل سے ایوان صدر کی ایک انیکسی میں منتقل ہو گئے ہیں۔ گویا صدر کے زیادہ قریب ہیں، صبح، دوپہر، شام ان سے ملاقات ہو گی تو ساری حکومت بالواسطہ طور پر ان کے قبضہءقدرت میں رہے گی۔ یہ نسخہ بھی صدر آصف علی زرداری نے ہی دیا ہو گا، تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ جو پیا من بھا جاتا ہے، وہ ہر حال میں حکمران رہتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مرشد سائیں پردے میں رہ کر حکمرانی کا مزہ کیسے اور کب تک لوٹتے ہیں؟ لیکن ایسا ہوا پہلی بار ہے کہ جس وزیر اعظم کو رخصت کیا گیا، اسے ملک کے صدر نے سینے سے لگا لیا۔ ماضی میں تو یہ ہوتا رہا ہے کہ محمد خان جونیجو رخصت ہوئے تو سندھڑی سے واپس نہ آئے، بے نظیر بھٹو گئیں تو پھر ایوان صدر شجر ممنوعہ بن گیا، نواز شریف کو تو ملک ہی چھوڑنا پڑا، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو تو دنیا سے ہی رخصت ہو گئے۔ رہی بات پرویزمشرف دور کے وزیر اعظم ظفر اللہ خان جمالی کی تو انہیں اسلام آباد سے بلوچستان جانے ہی میں عافیت محسوس ہوئی۔ اس لئے اگر سید یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں کہ ان کے لئے فخر کی بات ہے، وہ ثابت قدم رہے اور صدر کے خلاف خط نہ لکھا.... تو ٹھیک ہی کہتے ہیں، اب اقتدار کی چھاﺅں میں رہ کر وہ اپنے دور اقتدار کے تمام ایسے الزامات کو سکون سے دھونے کا کام کر سکیں گے، جن کا وہ وزیر اعظم کی حیثیت سے ہدف بنے ہوئے تھے۔

یہ بات اب اظہر من الشمس ہو چکی ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنی پالیسی کو تبدیل کر لیا ہے۔ خیال تھا کہ وہ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کریں گے اور معاملات کو پوائنٹ آف نوریٹرن تک لے جائیں گے، مگر اب لگتاہے کہ انہوں نے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اس سے ان کا نظام حکومت تو بچ گیا ہے، لیکن عوام کی آدرشیں اور آرزوئیں چکنا چور ہو گئی ہیں۔ یہ بات بھی اب راز نہیں رہی کہ اس وقت حکومت صدر آصف علی زرداری کر رہے ہیں، حالانکہ کہنے کو وہ ایک بے اختیار صدر ہیں اور 18 ویںترمیم کے بعد تمام تر اختیارات وزیر اعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف نے تو اپنے وزرائے اعظم کو قابو میں رکھنے کے لئے تمام اہم اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے تھے، حتیٰ کہ 58 ٹو بی کا اختیار بھی ان کے پاس تھا، لیکن صدر آصف علی زرداری نے اس قسم کا کوئی جھنجھٹ نہیں پالا، بس ایسی جادو کی چھڑی اپنے پاس رکھی ہے ، جس کے نتیجے میں پتہ بھی ان کے اشارئہ ابرو کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ نئے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو معلوم ہے کہ تمام تر الزامات کے باوجود انہیں وزیر اعظم کا منصب عطا کرنے والے صدر آصف علی زرداری ہیں۔ انہوں نے تو شایدایک دن بھی وزیر اعظم رہنے کا خواب نہ دیکھا ہو، جبکہ اب وہ ایک مکمل وزیر اعظم کی حیثیت سے تاریخ میں اپنا نام لکھوا چکے ہیں۔ وہ کبھی کوئی دوسرا راستہ اختیار نہیں کریں گے، سوائے اس راستے کے جو صدر آصف علی زرداری ان کے لئے متعین کریں گے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایوان صدر بہت بڑا ہے، اگر انہیں بھی صدر صاحب کا استثنا برقرار رکھنے کے لئے قربانی دینا پڑی تو ایک پروٹوکول سے مزین انیکسی انہیں بھی مل جائے گی۔

اب ایک سوال جو اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا اس سارے عمل کو جمہوریت کے لئے نیک شگون کہا جا سکتا ہے؟.... ایک طرف عوام لوڈشیڈنگ، مہنگائی اور غربت کے ہاتھوں بلک رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں، شدید گرمی میں زندگی ایک عذاب بن چکی ہے اور یہ عذاب مسلسل کسی طرح بھی جان چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا۔ دوسری طرف حکمرانوں کے داﺅ پیچ ہیں، نمبر گیم ہے، جوڑ توڑ ہے، مفادات کی بندر بانٹ ہے، ایک خلیج ہے، جو حکمرانوں اور عوام کے درمیان حائل ہو چکی ہے۔ اس خلیج کو پاٹنے کی کوئی کوشش کہیں نظر نہیں آرہی، البتہ یہ دعوے ضرور کئے جا رہے ہیں کہ جمہوریت کو بچا لیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ عوام سرخرو ہو گئے، سازشی ناکام ٹھہرے، وغیرہ وغیرہ۔ دعوﺅں کا سر پیر ہے، نہ حقائق سے کچھ تعلق، مگر ان کی گردان جاری ہے۔ کیا ایسے جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے، کیا عوام کو نظر انداز اور ان کے احتجاج کوبے وقت کی راگنی قرار دے کر کوئی نظام مضبوط اور مستحکم ہو سکتا ہے؟.... کاش یوٹوپیا میں رہنے والے یہ لوگ اس نکتے پر غور کریں کہ وزیر اعظم رخصت ہوا تو کوئی ایک آواز حمایت میں نہ ابھری ،اسی طرح اگر جمہور سے بے پروا اس جمہوریت کی بساط کسی نے لپیٹ دی تو کون اس کی حمایت میں نکلے گا؟ البتہ اس جمہوری تماشے پر تالیاں بجانے والے ہر طرف نظر آئیں گے۔  ٭

مزید : کالم