لندن ‘ انشورنس کمپنی کا سزا یافتہ شخص کو ادائیگی سے انکار

لندن ‘ انشورنس کمپنی کا سزا یافتہ شخص کو ادائیگی سے انکار

گلاسگو(جی این آئی )یارکشائر سکاٹ لینڈ کے 45 سالہ محمد حنیف کو ان کے مکان کی انشورنس کرنے والی کمپنی نے اس بنیاد پر ادائیگی سے انکار کردیا ہے کہ وہ دکان پر ایک جھگڑے میں ملوث ہوئے تھے۔ واقعات کے مطابق محمد حنیف و شاہی گروسری کی دکان پر کام کرتے تھے، جہاں ایک 16 سالہ نسل پرست اوڈیوڑ زبرستی اندر گھسا اور سٹاف کو گالیاں بکنا شروع کردیں اور عملے کو لڑنے کے لئے للکارتا رہا۔نیشنل فرنٹ کے حوالے دیئے اور محمد حنیف کو بلیک کہا۔ محمد حنیف نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دکان سے چلا جائے، لیکن اس کا رویہ مزید جارحانہ ہوگیا۔ 10 منٹ بعد تنگ آکر حنیف نے اسے دکان سے نکالنے کے لئے دھکا دیا جس پر اس کا سر ایک شیلف سے ٹکرایا اور کھوپڑی زخمی ہوگئی۔عدالت نے نسل پرست اوڈیوڑ کو 80 گھنٹے کمیونٹی سروس جب کہ حنیف کو 6 ماہ تک اچھے چال چلن کی ضمانت پر ملتوی سزا دیی اسی اثنا میں محمد حنیف کے گھر کے باتھ روم میں پانی کے پائپ پھٹنے سے 12 سو پونڈ کا نقصان ہوگیا اور انہوں نے معمول کی کارروائی پر عمل کرتے ہوئے انشورنش پر کلیم کردیا ۔کمپنی نے بتایا کہ ان کا کلیم بالکل درست ہے، ساتھ ہی انہوں نے پوچھا کہ میری گزشتہ انشورنس کی پالیسی کے احیا کے بعد مجھ پر کوئی مقدمہ تو نہیں بنا، میں نے انہیں اس واقعہ کی تفصیل بتا د یا نے بتایا کہ میں نے اس بات پر یقین نہیں کیا اور مذاق سمجھا، لیکن یہ حقیقت تھیی میں نے انشورنس کمپنی کو بتایا کہ اب جب 6 ماہ کی اچھے کردار کی مدت پوری ہونے کے بعد میں دوبارہ عدالت جاو ں گا۔ 

مزید : عالمی منظر