”صحبت“ میگزین ایشو ، مختلف شخصیات کا ”پاکستان“ سے رابطہ

”صحبت“ میگزین ایشو ، مختلف شخصیات کا ”پاکستان“ سے رابطہ

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) نیشنل کالج آف آرٹس کے سالانہ میگزین میں شائع ہونے والی نازیبا سٹوری اور تصاویر کی نشاندہی پر مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں روزنامہ پاکستان سے رابطہ کیا۔ خطوط، ای میلز، سوشل نیٹ ورک اور فیس بک/ویب سائیٹ کے ذریعے اپنے اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ لوگوں کی بڑی اکثریت نے اس مضمون کی باتصویر اشاعت کو قرآن و سنت اور آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے میگزین کی اشاعت پر پابندی کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان سے رابطہ کرنے والوں میں غالب اکثریت تعلیم و تدریس سے متعلق افراد کی ہے۔مصروف دانشور و کالم نگار حافظ شفیق الرحمٰن نے کہا کہ این سی اے میں ایسا ہی ہوتا ہے ہم جنس پرستی کو یہ ادارہ تحفظ فراہم کرتا ہے جس کی بھرپور مذمت ہونی چاہئے۔ سینئر صحافی رضوان الرحمٰن رضی نے کہا کہ 2020ءتک پاکستان میں ہرکام عام ہونے والا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے قانون کے تحت پاکستان پر لازمی کر دیا جائے گا کہ ہم جنس پرستی کو قانون کا درجہ دیا جائے اور اس حوالے سے امریکن اسمبلی میں بھی کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح پاکستان کو لبرل قوم بنا دیا جائے۔ اس پر کیا ہم سب اسی طرح خاموش رہیں گے؟ عبدالماجد ملک نے کہا یہ امت مسلمہ کے لئے اور خاص طور پر پاکستانی قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے اساتذہ بلال حیدر رانا نے کہا کہ ایسا سب کچھ مدرسوں میں بھی ہوتا ہے وہاں تو کسی کی نظر نہیں برتی۔ ویسے بھی اظہار رائے کی آزادی ہے۔ مسز تسنیم جلاپ نے کہا یہ خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا ہے اور این سی اے سے ایسی امید نہیں تھی۔ طاہر مکین نے کہا نیشنل کالج آف آرٹس کو اللہ ہدایت دے۔ زبیر علی نے کہا این سی اے کو ایسی حرکتیں زیب نہیں دیتی۔ عاشر نثار نے کہا این سی اے والوں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے۔ سماجی کاکن حافظ زوہیب نے بھی اس میگزین اور کالج کی مذمت کی۔ ساجد قریشی نے کہا ایسے کیسز بہت کم ہیں لہٰذا انہیں ایشو نہیں بنانا چاہے۔ریحان اظہر نے کہا انہیں پھر بھی شرم نہیں آنی۔ عدنان خان نے کہا کچھ عرصہ قبل بی بی سی نے بھی ایسی ہی جسارت کی تھی اس کی بھی مذمت ہونی چاہئے۔ طاہر علی نے کہا کالج کے ساتھ ساتھ معاشرے کا بھی قصور ہے۔ اسد علی نے کہا این سی اے کا ایک اچھا اقدام ہے۔ شعیب خان نے کہا بہت دکھ کی بات ہے۔ سید محمد علی نے کہا میں این سی اے کے میگزین صحبت کی بھرپور مذمت کرتا ہوں اس کے علاوہ غلام نبی طارق، فاہد، وسیم انجم، عامر شہزاد، وسیم بھٹی، آصف اقبال، طاہر نورانی، اکرم رضوی، حارث شیخ، حرم کاظمی نے بھی فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1