افغانستان کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی شکست سے دو چار امریکی تجزیہ کار

افغانستان کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی شکست سے دو چار امریکی تجزیہ کار

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) نیٹو افواج کے انخلاءسے افغانستان کے بعد جس ملک پر سب سے زیادہ منفی اثرات مترب ہو سکتے ہیں وہ پاکستان ہے لیکن اس کے پالیسی ساز اس حقیت کو نظر انداز کئے بیٹھے ہیں، بظاہر افغانستان کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی شکست سے دوچار ہو چکی ہے۔ پاکستان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ افغانستان میں سکیورٹی کے انتظام میں تبدیلی کے بعد شمالی علاقے میں موجود شورش پسند یقیناً اپنی تخریبی کارروائیوں اور حملوں میں تیزی لے کر آئیں گے۔ ایسی صورتحال میں ان خطرات سے کیسے نمٹا جائے گا اس کے بارے میں پاکستان نے اپنے داخلی مسائل دوچار ہونے کے سبب کوئی واضح لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔ یہ تبصرے دو سینئر امریکی تجزیہ کاروں ایشلے ٹیلس اور ممتاز بھٹی نے افغانستان کی مستقبل کی صورتحال کے بارے میں روزنامہ ”پاکستان“ کے استفسار پر پیش کئے۔ دونوں تجزیہ کار اس خیال پر متفق نظر آتے تھے کہ اس حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی بالکل ناکام ہو چکی ہے۔ کارینگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے متعلق بین الاقوامی امور کے ماہر ایشلے ٹیلس نے بتایا کہ نیٹو کے انخلاءکے بعد کا منظر کیا ہو گا اس کے بارے میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ بات طے ہے کہ افغان انتظامیہ کی طالبان سے جنگ تیز ہو جائے گی اور ممکن ہے وہ جنوبی اور مشرقی علاقے میں مکمل یا جزوی کنٹرول حاصل کر لیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کے شمالی علاقے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو گا لیکن کم از کم اس وقت ایسے نظر آ رہا ہے کہ راولپنڈی کے آرمی جنرل اس بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔ ایشلے ٹیلس کے تجزیے کے مطابق افغانستان پر روسی قبض کے بعد سے اپنی مغربی سرحد کے بارے میں پاکستان کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ افغانستان میں استحکام پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنے تابع رکھا جائے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان چاہتا تھا کہ کہیں افغانستان دوبارہ ڈیورنڈ لائن کو ختم کر کے اس کے شمالی علاقے کے حصول کا مطالبہ نہ شروع کر دے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستانی قایدت چاہتی تھی کہ افغانستان امریکہ یا بھارت کے زیر اثر آ کر اس کی گرفت سے باہر نکل کر اس کی مخالف صف میں شامل نہ ہو۔ سوویت یونین کے انخلاءکے بعد اپنے علاقائی مقاصد کے حصول کے لئے افغان طالبان کی حمایت کی اور اسلام آباد تسلیم کرے یا نہ کرے یہ حمایت آج بھی جاری ہے۔ ایشلے کا کنا ہے کہ پاکستان کی اس پرانی حکمت عملی کے برقرار رہنے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ موجودہ افغان انتظامیہ اور افغانستان میں طالبان مخالف آبادی چاہے کھل کر اظہار نہ کرے لیکن وہ پاکستان کو دشمن تصور کرتی ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان میں استحکام لانے اور مصالحت کی فضا پیدا کرنے کی امریکی کوششوں کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ ایشلے کے مطابق کرنے کی امریکی کوششوں کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی۔ ایشےل کے مطابق ایران، بھارت، روس اور وسطی ایشیاءکے ممالک سمیت تمام علاقائی قوتیں سمجھتی ہیں کہ پاکستان ایک دفعہ پھر افغانستان میں طالبان کو برسر اقتدار لانے کی کوشش کرے گا اور وہ پاکستان کے ان عزائم کو ناکام بنانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہیں۔ ایشلے کے خیال میں پاکستان کی اس حکمت عملی کے باعث خود پاکستان کی سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ ایشلے کے خیال میں اگر طالبان جنوبی اور مشرقی افغانستان میں اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو افغانستان پھر اسی صورتحال سے دوچار ہو جائے گا جو 1994ءسے 2001ءتک موجود تھی۔ ایشلے نے تجویز کیا کہ پاکستان کو اپنی یہ حکمت عملی ترک کر دینی چاہئے کیونکہ پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر امن اور استحکام کی ضرورت ہے اور شدت پسندوں کی حمایت سے اس کا اپنا امن تباہ و برباد ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی افغانستان کے بارے میں پہلی حکمت عملی شکست سے دوچار ہو چکی ہے جسے تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔بین الاقوامی معاش اور سایسی امور کے امریکی ماہر اور نیشن وائڈ فنانشل کارپ کے چیف ایگزیکٹو ممتاز بھٹی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ اگر پاکستان افغاستان کی مستقبل کی صورتحال میں موثر کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے مسائل سے باہر نکل کر نئے حقائق پر مبنی نئی حکمت عملی تشکیل دینی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ تاثر زائل کرنا ہو گا کہ وہ آج بھی طالبان کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ ممتاز بھٹی کے خیال میں نیٹو افواج کے انخلاءکے بعد پاکستان کی مغربی سرحد پر جو خطرناک صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ممتاز بھٹی کہتے ہیں کہ امریکہ اور نیٹو کے دوسرے حلیفوں کو بھی بروقت ذمہ داری کے ساتھ انخلاءکا عمل مکمل کرنا چاہئے اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے مثبت کردار ادا کرے تو اعتماد سازی کی فضا قائم کرنے کے لئے ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں کیونکہ ان حملں کے باعث رائے عامہ کو مطمئن کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کو کرزئی انتظامیہ کو تعاون فراہم کرنے میں زیادہ پرجوش ہونا چاہئے اتکہ اسے اپنے مخالفین کے قریب ہونے سے باز رکھ سکے۔

مزید : صفحہ اول