وفاق کے زیر انتظام خصوصی عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیاں 3دن میں پُر کی جائیں سُپریم کورٹ

وفاق کے زیر انتظام خصوصی عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیاں 3دن میں پُر کی ...

اسلام آباد(خبرنگار)سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کے زیر انتظام خصوصی عدالتوں میںتین دن میں ججوں کی تقرری کا حکم دے دیاہے جبکہ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی پر سخت افسوس اور ردعمل کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ جج نہ ہونے پر ملزم چھوڑ دیے جاتے ہیں اور الزام عدالتوں پر لگادیاجاتاہے ملزم بغیر ٹرائل کے پڑے ہیں لیکن وفاق ججوں کے تقرر سے قاصر ہے ۔عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ وفاقی حکومت کیوں تاخیرکررہی ہے، جسٹس جواد خواجہ نے کہاکہ ڈیو پراسس پارلیمنٹ کا طرہ امتیاز ہے، جہاں سے پراسس شروع ہونا ہے وہاں جج ہی مقرر نہیں تو یہ ڈیو پراسس کیسے ہوگا، عدالت نے اینٹی کرپشن کورٹ ، کراچی حیدرآباد میں جج کا 3 دن میں تقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ وفاق حکومت کے زیرانتظام دیگر عدالتوں میں بھی جلد ازجلد ججز تعینات کیئے جائیں ، آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ بنکنگ کورٹس، احتساب عدالتوں میں ججز نہیں،ملزم بغیر ٹرائل جیل میں پڑے ہیں، عدالتوں کو بالاآخر اسی بنیاد پر سنگین جرائم والے ملزموں کو رہا کرنا پڑتا ہے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے روبرو خصوصی عدالتوں میں ججز نہ ہونے پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کراچی سپیشل کورٹس میں 25مئی 2011سے ججز نہیں ہیںجس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ وفاق جج تقرر کرنے سے کیوں قاصر ہے، بینکنگ کورٹس اور احتساب عدالتوں میں ججز نہیں جس سے ملزم بغیر ٹرائل کے پڑے ہیں اورکچھ ججز نہ ہونے کے باعث ملزمان چھوٹ جاتے ہیں۔ جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ جہاں سے ڈیو پراسس شروع ہوتا ہے وہاں ججز ہی نہیں جس پر عدالت نے وفاق کو انٹی کرپشن کورٹ کراچی اور حیدآبادسمیت خالی نشستوں پر تین دن میں ججوں کی تقرری کا حکم جاری کردیا ۔بعد میں مقدمہ کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

مزید : صفحہ اول