امریکہ سلالہ واقعہ پر معافی مانگے: وزیر اعظم کی تمام بلوچ قیادت کو مذاکرات کی دعوت

امریکہ سلالہ واقعہ پر معافی مانگے: وزیر اعظم کی تمام بلوچ قیادت کو مذاکرات کی ...

اسلام آباد (این این آئی، آن لائن، جی این آئی) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بلوچوں کو مذاکرات اور تمام سیاسی جماعتوں کو وطن عزیز کی خدمت کےلئے مل کر آگے بڑھنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست ختم ہونی چاہیے، جمہوری قوتوں کو خلوص نیت، بالغ نظری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، پارلیمان 18کروڑ عوام کی نمائندہ ہے، پارلیمنٹ کو بالادست اور خودمختار ادارہ سمجھتے ہیں ¾پارلیمنٹ کی خودمختاری اورآزادی پر حرف نہیں آنے دیں گے ، بلوچستان ہماری ترجیح ہے، تمام بلوچ رہنماﺅں کو بلوچستان کے مسئلے کا مل بیٹھ کر دوستانہ حل تلاش کرنا ہوگا ¾ توانائی کے اہم مسئلہ کو اولین ترجیح ہے ¾مو¿ثر طور پر نمٹنے اور توانائی تحفظ کے حصول کےلئے پرعزم ہیں، بجلی کے شعبے کو روزانہ 28000 ٹن فرنس آئل کی فراہمی سے سسٹم میں 1200میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔وہ منگل کو یہاں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں وزیر اعظم بننے کے بعد پہلے کابینہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کابینہ کے رفقاءکارکی جانب سے اپنے پیشرو سید یوسف رضاگیلانی کو آئین کے تحفظ کےلئے ان کے اصولی مو¿قف پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس امر پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ محاذآرائی کی سیاست کو ختم ہونا چاہئے جس کے لئے تمام جمہوری قوتوں کو اپنے مخالفین کے لئے گنجائش پیدا کرتے ہوئے اخلاص، دانشمندی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ سید یوسف رضاگیلانی نے میری دانست میں ہمارے شہید قائدین کی پالیسی کی پیروی کی ، ہم آگے بڑھتے ہوئے ان سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ہم درپیش چیلنجوں سے بخوبی آگاہ ہیں جو بہت گھمبیر نوعیت کے ہیں اور اگر ان پر مناسب اور مو¿ثرانداز میں توجہ نہ دی گئی تو یہ جمہوریت کی بنیادوں کو بھی متزلزل کرسکتے ہیں۔ جمہوریت کو برقرار رکھنے اور تقویت دینے کے لئے اس کابینہ کو جذبے اور فعالیت کے ساتھ مسائل سے نبردآزما ہونا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ چند ہفتوں سے منفی پراپیگنڈے اورپیداکردہ ابہام کی بناءپر ہمارے عوام کو بددل کیاگیا، ہمیں عوام کو اس مایوسی سے نکالنے اور ان میں سرگرمی اور تحریک پیداکرنے کے لئے خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ اس ضمن میں ہم سب پر ایک اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ ہمارے عوام زیادہ مو¿ثر قیادت اور بہتر خدمت کیلئے رہنمائی اور بلند توقعات کے ساتھ ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ پی پی پی کی مفاہمتی پالیسی کے تحت میں ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں کو وطن عزیز کی خدمت کےلئے اپنے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میری کابینہ پہلے سے موجود پالیسی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بدلتی ہوئی صورتحال میں درکار بعض ضروری ردوبدل بروئے کار لائے گی۔ انہوںنے کہاکہ مجھے اعتماد ہے کہ کابینہ کے رفقاءکار کی توانائی، جذبے اور تجربے کی بدولت عوام کی توقعات پر پورا اتروں گا۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت ملک کو کئی اہم معاملات درپیش ہیں، موجودہ حکومت توانائی کے اہم مسئلہ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے اس سے نمٹنے اور تحفظ توانائی کے حصول کے لئے پرعزم ہے۔ بجلی کا شعبہ اس وقت طلب ورسد میں بہت زیادہ فرق کا سامنا کر رہا ہے جو پیداوار میں فوری اضافے اور رسد اور ترسیل کے انتظام کا متقاضی ہے صورتحال جوں کی توں رہی تو اس کے سنجیدہ اقتصادی اور سیاسی مضمرات ہوسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ توانائی کی قلت کا مسئلہ نہ صرف روزمرہ زندگی میں خلل سے عام آدمی کو متاثر کررہاہے بلکہ اس سے صنعتی اور زرعی شعبوں کی پیداوار پر بھی منفی اثر پڑرہاہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں زرعی شعبے نے ہماری معیشت کی معاونت کی ہے اور پاکستان گندم درآمد کرنے والے ملک سے گندم برآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ چینی کا ہمارا درآمدی بل اس کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے نمایاں طورپر کم ہوا ہے۔یہ کامیابی ہماری کاشتکار دوست پالیسیوں کی وجہ سے ہے، ہم اس شعبہ کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہیں گے اور اس اہم شعبہ میں بجلی کی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے، اسی طرح ہماری برآمدات مالی سال 2010-11ءمیں 19.6ارب ڈالر رہیں اور اب 2011-12ءمیں 25.4ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ٹیکسٹائل، ادویہ سازی اور ملحقہ صنعتوں کی بناءپر مزید اضافہ متوقع ہے، بجلی کی قلت کی وجہ سے فیکٹریوں کی بندش نہ صرف بڑے پیمانے پر بیروزگاری کاباعث بنے گی بلکہ اس کے نتیجے میں غیرملکی زرمبادلہ میں کمی واقع ہوگی اورہم اس قسم کے اثرات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ وزیراعظم نے کہاکہ وزارت پٹرولیم کو بجلی کے شعبے کو روزانہ 28000 ٹن فرنس آئل کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے نیشنل گرڈ سسٹم میں 1200میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوگا۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ سالانہ واقعہ پر امریکہ سے معافی کا تقاضا کر رکھا ہے، پاک امریکہ تعلقات میں کوئی جذباتی فیصلہ نہیں کرینگے، پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیگا نہ پڑوسی ممالک میں دیگر قوتوں کی مداخلت برداشت کی جائیگی، پارلیمینٹ صرف عوام کو جوابدہ ہے، اس کی بالادستی آزادی اور خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آنے دینگے، سیاسی قوتیں محاذ آرائیں ختم کر کے جمہوریت کے استحکام کیلئے خلوص نیت سیاسی پختگی اور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کریں تو توانائی بحران اور ملک کو درپیش دیگر چیلنجز سے موثر طریقوں سے نہ نمٹا گیا تو جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یوسف رضا گیلانی مفاہمت کی پالیسی پر کار بند رہے ، میں بھی اسی پالیسی کو جاری رکھوں گا۔دریں اثناءوفاقی کابینہ نے ججز کی بیواﺅں کی پینشن میں اضافے کے لیے 21ویں ترمیم کے مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ ترمیم کے تحت ججز کی بیواﺅں کی پینشن میں اضافہ کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ سے ترمیم کی منظوری پر ججز کی بیواﺅں کی پینشن میں اضافہ 50فیصد سے بڑھ کر 75فیصد ہو جائے گا کابینہ نے رمضان المبارک کے دوران ہر قسم کی لوڈ شیڈنگ پر پابندی عائد کر دی ہے بجلی گھروں سے بجلی کی پیداوار کے نتیجہ میں جوائی میں بجلی کے حوالے سے عوام کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی کابینہ نے قرار دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آئین کے تحفظ کے لیے اصولی موقف اختیار کیا۔ کابینہ نے اس ضمن میں انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

مزید : صفحہ اول