گیلانی کی نشست پر ان کے دو صاحبزادوں سمیت14 امیدواروں نے کاغذات جمع کرا دئیے

گیلانی کی نشست پر ان کے دو صاحبزادوں سمیت14 امیدواروں نے کاغذات جمع کرا دئیے

ملتان (آئی این پی) سپریم کورٹ کے فیصلے پر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سے خالی ہونے والی ملتان کے حلقہ این اے 151 کی نشست پر سابق وزیراعظم یوسف گیلانی کے صاحبزادوں سید عبدالقادر گیلانی اور علی حیدر گیلانی کے علاوہ (ن) لیگ سمیت دیگر جماعتوں کے 14 افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دئیے ۔الیکشن کمیشن آفس ملتان میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اور سابق وزیراعظم کے بڑے صاحبزادے سید عبدالقادر گیلانی اور علی حیدر گیلانی نے کاغذات جمع کروائے جبکہ مسلم لیگ(ن)کی جانب سے ملک اسحاق بچہ ، ملک جہانزیب بچہ ، نواب متین الدین اور فرحان انصاری نے کاغذات جمع کروائے۔آزاد امیدواروں میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے ملک سکندر حیات بوسن کے بھائی ملک شوکت بوسن ‘ ملک حسنین بوسن ، رانا محبوب عالم ، ڈاکٹر علیم چوہدری ، شہلا شاہین ایڈوکیٹ ، عابد یوسف جٹ اور حکیم شیخ غلام محی الدین نے اپنے اپنے کاغذات جمع کروا دیئے ۔الیکشن کمیشن کے جاری اعلامیہ کے مطابق کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا26 جون کو آخری روز تھا ۔الیکشن کمیشن 28اور 29جون کو کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کرے گا اور کاغذات نامزدگی پر اعتراضات کیخلاف امیدوار 2جولائی تک اپیلیں دائر کرسکیں گے ۔ 4جولائی تک ان کو نمٹا نے کے بعد کوئی بھی امیدوار 5جولائی تک اپنی دستبردار کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہو گا۔ 6جولائی کو امیدواروں کی حتمی فہرست شائع کر دی جائے گی ۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی عملہ تعینات کر دیا ہے ۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اسسٹنٹ الیکشن کمشنر ریٹرننگ افسر اور ڈی ای اوزکالجز و ایلمنٹری اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران ہوں گے اور اس حلقہ میں پولنگ 19 جولائی کو ہو گی جس دوران ساڑھے 3 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ رکن پنجاب اسمبلی عبدالقادر گیلانی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے کے بعد مجبورا الیکشن لڑ رہا ہوں، عوام کی عدالت سے سب سے بڑی عدالت ہے،5 جولائی کے بع دصوبائی نشست سے استعفا دیدوں گا، منگل کو الیکشن کمیشن آفس ملتان میں اپنے والد کی نا اہلی کے بعد ملتان سے قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشست این اے151 کے امیدوار کے طور پر اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ وہ عدلیہ کے فیصلے کے بعد مجبوراً الیکشن لڑ رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر