اوبامانے اپنے سٹاف کو بتایا پاکستان ایٹمی صلاحیت کو چال کے طور پرا ستعمال کر سکتا ہے ‘ڈیوڈ سینگر

اوبامانے اپنے سٹاف کو بتایا پاکستان ایٹمی صلاحیت کو چال کے طور پرا ستعمال کر ...

نیویارک(ارشد چودھری) پہلی خبر شائع کرنے کے بعد سلیم شہزاد مہران بیس حملہ سے متعلق ایک اور انٹرویو کرنے والا تھا لیکن وہ کبھی نہ کرسکا اس کی مسخ شدہ اور خون سے لت پت لاش اس کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ملی۔ لیکن اس قتل کی نہ تو تحقیقات ہوسکیں اور نہ ہی مجرموں کا پتہ چلا تاہم آئی ایس آئی نے سلیم کے قتل میں ملوث ہونے کے سلسلے میں انکار کردیا امریکی مصنف ڈیوڈ سینگر نے ان خیالات کااظہار اپنی کتاب ”کنفرنٹ این کنسیل“ کے چوتھے باب میں کہاہے۔ مہران بیس حملہ اور اس سے جڑے واقعات اس سوال کو بھی جنم دیا کہ ایٹمی اثاثوں سے متعلق پاکستان افواج کی یقین دہانیوں پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتاہے؟ کراچی جسے شہر میں ایٹمی اثاثوں سے متعلق پاکستانی افوا ج کی یقین دہانیوں پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتاہے؟ کراچی جیسے شہرمیں ایٹمی اسلحہ کے سٹور پر مہران بس جیسا حملہ کرنا کتنا آسان ہوسکتا ہے اور ہمارے خیال میں یہ زیادہ مشکل نہیں”ہمارے خیال میں یہ زیادہ مشکل نہیں“ مجھے 2011 میں ایک ریٹائرڈ بھارتی جنرل نے بتایا جس نے پاکستانی ایٹمی پروگرام پر بہت تحقیق کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں موجود شرپسندوں کو ایٹمی اسلحہ مکمل اور تیار حالت میں چرانے کی ضرورت نہیں یہ چھوٹی مقدار میں بھی اتنا ہی خطرناک ہوگا حتیٰ کہ ایٹمی اسلحہ نہ ہونے کے باوجود کوئی باوزن خبر بھی عالمی برادری کو مطمئن کرنے میں کافی ہوگی ذرا تصور کیجئے کہ آئی ایس آئی کے بنائے ہوئے شدت پسند گروپ لشکر طیبہ نے ممبئی میں ہوٹل کا محاصرہ کیا تو یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارے پاس ایٹمی اسلحہ بھی موجود ہے ۔ ہم نے بھارتی نیوکلیئر فورس کو الرٹ کیااور جوابی حملہ کرنے سے پہلے بھی دو دفعہ سوچا اور پھر جلد ہی ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی منڈلانے لگا جیسا کہ دس سال پہلے ہوا تھا ۔ ” ان کا حقیقتاً کامیاب ہونے کے لئے طاقتور ہونے کی ضرورت نہیں تھی“ بھارتی عہدیدار نے مجھے بتایا ” ضرورت صرف اس امر کی تھی کہ وہ عالمی برادری کو یقین دلانے میں کامیاب ہوجائیں کہ پاکستان نے ایک انمول ہیرا کھو دیا ہے “ یہ صرف ایک رائے تھی سرد جنگ کے دوران امریکہ اس بات پر پریشان تھا کہ چائنہ یا سوویت یونین امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے خلاف ایٹم بم کا استعمال نہ کردے۔ پاکستان کا معاملہ الٹ تھا پاکستان جیسا کہ اوباما نے اپنے سٹاف کو بتایاتھا کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت کو ایک چال کے طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن مشکل یہ تھی کہ اوباما کے پاس اس کو روکنے کے لئے طاقت بہت کم تھی ۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا معاملہ تاریخ میں دفن ہوجائے گا لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتنا اہم اور جرات مندانہ فیصلہ اوباما کا ہی خاصہ ہے ۔ امریکی فوجی تاریخ میں اس کا موازنہ سانحہ پرل ہاربر سے کیاجاسکتا ہے 1943 میں آئسو روکو یاما موٹو کے مرنے کے بعد جاپان کے حوصلے ٹوٹ گئے ار انہیں شکست ہوئی بن لادن کے مرنے کے بعد بھی القاعدہ کا زوال شروع ہوگیا ہے اگر 12مئی 2011 کا آپریشن ناکام ہوتا تو ہم اوباما کی صدارت کو ایک الگ نظر سے دیکھ رہے ہوتے اوباما خوش قسمت رہے اور انہیں بہترین خارجہ پالیسی کے ماہرین نصیب ہوئے اس کی کامیابی سے وہ امریکی تاریک کا ایک سیاہ باب بند کرنے میں بھی کامیاب ہوئے لیکن اس کے بعد امریکیوں نے اس سوال کو بھی دفن کردیا کہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت ، دہشت گردی کے جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کے دارالحکومت اور ملٹری اکیڈمی کے ہمسائے میں رہتاتھا این ایس اے کی آڈیو ٹیپ ریکارڈنگ کے جائزہ کے بعد پتہ چلتا ہے کہ جنرل کیانی اور پاشا اسامہ کی رہائش گاہ کے بارے علم نہیںتھا تاہم اسامہ کے کمپاﺅنڈ سے ملنے والے مواد سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ملاعمر اور لشکر طیبہ کے ساتھ رابطے میں تھا اسامہ نے اوباما کو مارنے کا منصوبہ بھی بنایا تھا لیکن یہ منصوبہ صرف منصوبہ ہی رہا۔ اس واقع کے بعد پاکستان کے ساتھ تعلقات کومعمول پر لانے کے امریکی حکام نے سرعام ایسے سوال پوچھنے سے اجتناب کیا کہ اسامہ کے بچے سرکاری ہسپتالوں میں کیونکر پیدا ہوئے یا یہ کہ اسامہ کی رہائش گاہ کا کس کو علم تھا جس طرح بش انتظامیہ نے ڈاکٹر قدیر اور ایٹمی سکینڈل کے بارے سوالات کا سلسلہ ترک کردیاتھا دونوں صورتوں میں وائٹ ہاﺅس کے لئے امید کی کرن اس صورت میں پوشیدہ تھی کہ پاکستان سے ایسے سوال نہ کئے جائیں جس سے اسے شرمندگی کا سامناہو۔

مزید : صفحہ آخر