ہا ئیکو رٹ نے زرداری کو پیپلز پارٹی چھو ڑنے کا حکم دیدیا

ہا ئیکو رٹ نے زرداری کو پیپلز پارٹی چھو ڑنے کا حکم دیدیا
 ہا ئیکو رٹ نے زرداری کو پیپلز پارٹی چھو ڑنے کا حکم دیدیا

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو حکم دیا ہے کہ وہ پانچ ستمبر2012 تک پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیں۔ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ حکم بدھ کو صدر زرداری کے سیاسی عہدہ رکھنے کے بارے میں فیصلے پر عملدرآمد کے لیے دائر درخواست پر کارروائی مکمل کرتے ہوئے دیا ہے۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں قائم تین رکنی فل بنچ نے بدھ کو سماعت کے دوران کہناتھا کہ صدر زرداری کو سیاسی عہدہ چھوڑنے کے لیے مناسب وقت دیا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے یہ بھی قرار دیا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں گے تاہم اس توقع کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر عدالتی احکامات پر عمل نہ کریں۔فل بنچ کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد اور صدر زرداری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے مقامی وکلاء اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق نے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔ فل بنچ کے دیگر دو ارکان میں جسٹس اعجازالحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز احمد چودھری کی سربراہی میں فل بنچ نے گزشتہ سال بارہ مئی کو صدر آصف علی زرداری کے ایک ہی وقت میں دو عہدے رکھنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ دیا تھا اور یہ توقع ظاہر کی تھی کہ آصف زرداری ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں بند کردیں گے۔بدھ کے روز درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعدچیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے لیے مناسب وقت دیا جائے۔فل بنچ کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنا ہر ادارے اور شخص پر لازم ہے۔فل بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ صوبے کی آئینی عدالت ہے اور آئینی سربراہ مملکت کے بارے میں فیصلہ دیتے ہوئے عدالت مہلت کا تعین کرے گی اور مہلت ختم ہونے کے بعد اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔ہائی کورٹ کے فل بنچ نے وفاقی حکومت کی طرف سے وکیل پیش نہ ہونے پر ناراضگی کااظہار کیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل عبدالحئی گیلانی نے بتایا کہ انہیں عدالتی نوٹس موصول نہیں ہوئے وہ صرف اخباری اطلاعات کی بناء پر عدالت میں موجود ہیں۔

مزید : لاہور /اہم خبریں