ریل چلے گی نہیں دوڑے گی

ریل چلے گی نہیں دوڑے گی
ریل چلے گی نہیں دوڑے گی

  

اللہ خواجہ سعد رفیق کا بھلا کرے کہ انہوں نے وزارت ریلوے سنبھالتے ہی ریل کی جاں بلب پٹریوں میں جان ڈال دی کہ اب یہ ریل چلے گی ہی نہیں دوڑے گی۔ ریل گاڑیاںبرصغیر میں انیسویں صدی کے اواخیر میں چلنی شروع ہوئیں اور1929ءتک66ہزار کلو میٹر پر چھک چھک کرتی ریل گاڑیاں چل رہی تھیں اور اس وقت ہندوستان میں ریل کا وسیع نظام ہے۔ آزادی کے وقت غیرمنقسم ہندوستان کے ریل کا40فیصد حصہ پاکستان کے حصہ میں آیا ، ہم چونکہ ملک کا ہی حصہ بخرہ کر چکے اِس لئے معلوم نہیں اب ہمارے پاس کتنا رہ گیا۔

پچھلے جمہوری دور میں جو وزیر ریلوے تھے وہ تو یہ تک کہہ گئے تھے کہ یہ اُن کی ذات ِ کریمانہ ہے کہ اب تک ریل پاکستان میں ہے ورنہ تو وہ کب کی دفن ہو چکی ہوتی اور یہ بھی کہ ریل ہونا کوئی ضروری تو نہیں، کیونکہ دُنیا کے کتنے ملکوں میں ریل ہے ہی نہیں اور مثال کے طور پر اُنہوں نے افغانستان اور سعودی عرب کا ذکر کیا تھا۔ افغانستان تو خیر ریل کی ضروریات پاکستان سے پوری کرتا ہے، مگر شاید موصوف یہ نہیں جانتے کہ سعودی عرب میں ریاض سے دمام تک ریل آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے، نیز اب وہ مکہ، مدینہ، جدہ میں ریل کا نظام لا رہے ہیں اور اس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔

جب برصغیر میں ریل کا نظام رائج ہوا تو بقول رضا علی عابدی کے ”اب لوگ بیٹیاں غیر شہروں میں بھی بیاہنے لگے،(ریل کہانی) بھارت کے معروف سیاست دان لالو پرشاد جب وزیر ریل تھے تو انہوں نے اسے آسمان تک پہنچا دیا اور پارلیمنٹ میں یہ کہہ کر سبھوں کو ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیا کہ انہوں نے ریل کو اب درخت بنا دیا کہ اب اس پر فروٹ ہی فروٹ لگیں گے۔ مجھے تمام ذرائع سفر میں ریل زیادہ پسند ہے اور مَیں نے لمبے لمبے سفر بھی کیے ہیں، ہندوستان، بنگلہ دیش، یورپ، امریکہ اور جب سے برطانیہ میں ہوں تو ریل کا سفر تو لازمی ہی ہے کہ یہاں1867ءسے ریل کا نظام چل رہا ہے، بلکہ دوڑ رہا ہے، بھاگ رہا ہے اور گو کہ کرائے بھی بڑھ رہے ہیں مگر مسافتیں تیز رفتار ٹرینوں کی وجہ سے کم بھی ہو رہی ہیں۔

والد مرحوم ہندوستان کی مایہ ناز ریل کمپنی ایسٹ انڈیا ریلوے میں ملازم تھے اور ملازمت کے آخری دور میں وہ ایک خاص ٹرین جو ریلوے کے ملازمین کو سستے داموں راشن دیتی تھی، کے منیجر تھے اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ایک لمبے روٹ پر چل کر ایک مہینہ سفر کرتے تھے۔ ایک بار مَیں بھی اُن کے ساتھ26روز رہا۔ جب ٹرین چلتی تھی، تو منظر بدلتے تھے، مگر جب وہ کسی سٹیشن پر رُک جاتی تھی تو مَیں اُس علاقے کی سیرو تفریح کرتا رہتا، والد مرحوم اپنے گارڈز کو (جن کے پاس اسلحہ نہیں صرف ایک ڈنڈا ہوتا تھا) میرے ساتھ کر دیتے اور مَیں گاﺅں دیہات میں گھومتا رہتا اور طرح طرح کے پھل اور دیگر اشیاءخریدتا رہتا (ہائے وہ زمانہ بھی کیا سستا تھا، آنے دو آنے کافی تھے)

1954ءاور پھر1957ءمیں ہم کئی احباب ڈھاکہ سے بذریعہ ٹرین لاہور تک آئے بھی اور گئے بھی، لاہور سے آگے کراچی تک پاکستان ریلوے پر بھی سفر کیا۔ اس وقت ہماری ریل صاف ستھری اور کھانا معقول اور کافی حد تک وقت کی پابند۔

ریل کے سفر کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس میں دوستیاں ہی نہیں، کاروبار اور شادیاں بھی طے ہو جاتی تھیں، آج کے دور میں تو لوگ ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ایک دوسرے کا کھانا اب کوئی نہیں کھاتا کہ خدا جانے کیا ملا ہو۔

سڑکوں پر اچھی سے اچھی بسیں آ گئی ہیں اور وہ زبردست کاروبار بھی کر رہی ہیں، مگر آئے روز حادثات جو تیز رفتاری کی وجہ سے ہوتے ہیں، خاندانوں کو اُجاڑ بھی رہے ہیں، ریل کے مسافروں کی کمی نہیں، کمی ہے اچھی، صاف ستھری ریل گاڑیوں کی جو وقت پر چلا کریں، جن میں مسافروں کو کھانے پینے کی بھی سہولت ہو۔

ہمارے ایک وزیر ریلوے بہت سمارٹ تھے، انہوں نے پنڈی اور لاہور کے درمیان تو ایک اچھی ٹرین چلا دی، مگر باقی جگہوں پر انہوں نے کمال کر دیا۔ ایک نہیں، دو نہیں، تین چار نئی ٹرینیں چلا دیں۔ اتوار کو کراچی سے لاہور ایک دلکش نام سے چلنے والی ٹرین، پھر ہر بدھ کو وہی ٹرین ایک اور شاندار نام سے اور پھر ہفتہ کو ایک اور نام سے۔ ٹرین وہی ہے جو آ رہی ہے اور جا رہی ہے، مگر نام بدل بدل کر ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کا یہ شاندار نسخہ وزیر موصوف کو خوب سوجھا اور پبلک ہمیشہ کی طرح بیوقوف بنتی رہی۔

پاکستان کے چار صوبوں کو زمینی راستوں سے ملانے والی سڑکیں اپنی جگہ، ہوائی جہاز بھی ہیں، مگر ریل گاڑیوں کی طرح کوئی مِلا نہیں سکتا کہ ریل کے ڈبے اپنے ساتھ اپنے اپنے مقام کا طرز زندگی، اس کا کھانا پینا، بولی ٹھولی سے لے کر سرزمین پاکستان کی یکجہتی کا پیغام پہنچاتی رہتی ہے۔ دُعا ہے کہ جواں سال اور جواں ہمت وزیر ریلوے دوڑانے سے پہلے پاکستان کی ریلوے کو اچھی طرح چلا دیں۔    ٭

مزید :

کالم -