طالبان،پریوں کے مرغزار میں

طالبان،پریوں کے مرغزار میں
طالبان،پریوں کے مرغزار میں

  

23جون 2013ء(اتوار) نصف کرئہ شمالی میں دنیا کا گرم ترین دن تھا۔پاکستان کے میدانی علاقے آج کل سب شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں لیکن ہمارے شمالی علاقوں میں،کہ جن کو اب ”گلگت۔ بلتستان“ کا نام دے دیا گیا ہے، یہ موسم ان علاقوں کے رہنے والوں کا بہترین موسم ہے۔مئی سے لے کر جولائی تک چار مہینوں میں سینکڑوں ہزاروں غیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں اور اپنے دونوں شوق پورے کرتے ہیں.... ایک کوہ پیمانی کا شوق اور دوسرے ان سٹرٹیجک اہمیت کے علاقوں میں ایکوسسٹم کی آب و ہوائی نیرنگیوں کے روپ میں اس پاکستانی خطے کی ارضی انٹیلی جنس کے حصول اور جمع آوری کا شوق.... موخر الذکر شوق ایک دوسرا موضوع ہے۔اس پر کسی اور وقت بحث کریں گے۔

فی الحال اس کالم میں ہم اس سانحے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، جس میں نانگا پربت کو سر کرنے والے کوہ پیماﺅں کو ہلاک کردیا گیا۔ان میں سے ایک پاکستانی بھی تھا، جو ان دو گائیڈوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ان غیر ملکی سیاحوں کے کیمپ تک طالبان کی رہنمائی کی تھی۔اس ریجن کے ڈی آئی جی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 5کا تعلق یو کرائن سے ،3کا چین سے اورایک کا روس سے تھا۔

یہ خبر بھی آپ سن اور پڑھ چکے ہوں گے کہ تقریباً 20کے قریب دہشت گردوں نے گلگت سکاﺅٹس کی وردیوں میں ملبوس ہو کر تقریباً رات ایک بجے پریوں کے مرغزار (Fairy Meadow)کے اس علاقے میں ایک بیس کیمپ پر شب خون مارا اور سیاحوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی قیمتی اشیاءاور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔صرف ایک ایسا شخص کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا جو ان دو گائیڈوں میں سے ایک تھا، جنہوں نے دہشت گردوں کو بیس کیمپ تک پہنچایاتھا۔....اس سے مزید تفتیش کی جارہی ہے اور میڈیا میں جو تفصیلات آ رہی ہیں، وہ اسی گائیڈ کی فراہم کردہ ہیں۔

10،12ہزار فٹ کی بلندی پر ان علاقوں پر حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کرلی ہے اور وضاحت کی ہے کہ یہ حملہ اس ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا ہے،جس میں طالبان کا ایک سرکردہ رہنما ولی الرحمن چند ہفتے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔

جن قارئین نے یہ علاقے نہیں دیکھے،لیکن مری اور ایوبیہ کے سینکڑوں چکر لگا چکے ہیں، وہ بھی اس خوبصورت لینڈ سکیپ کا اندازہ نہیں کر پائیں گے جو ناظر کو ان برف پوش مرغزاروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مَیں نے 1970ءکی دہائی میں کہ جب گلگت سکاﺅٹس میں میری پوسٹنگ تھی، ان مقامات کو دیکھا تھا۔مقامی لوگوں کی رو سے پریوں اور حوروں کا مسکن یہی علاقے ہیں۔ان میں سے اگر آج بھی آپ کسی بڑی بوڑھی خاتون یا معمر مرد سے پوچھیں تو وہ آپ کوبتائے گا کہ اس نے جیتی جاگتی آنکھوں سے ان پریوں کو سروسمن کے ان گلستانوں میں بارہا اڑتے اور لینڈ کرتے دیکھا ہے۔کرنل الجرنن ڈیورنڈ نے انیسویں صدی کے اواخر میں اپنی ایک کتاب موسوم بہ Making of the Frontierمیں ان پریوں کے بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔گلگت سے براستہ غذر اور یاسین، جب وہ چترال جاتا ہے تو وہاں باقاعدہ پریوں کو دیکھنے والوں اور والیوں کے انٹرویو کرتا ہے اور پھر جب گلگت سے ہنزہ اور نگر کی طرف نکلتا ہے تو اس سفر میں بھی دیو مالائی دور کی پریوں اور دیوں کے قصے زبان زدِ خاص و عام ہوتے ہیں۔

آج زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے۔ان شمالی علاقوں میں بھی بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔آخری بار مجھے 2006ءمیں ایک بار پھر ان خوبصورت وادیوں اور برف سے ڈھکے کوہساروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔آج بھی وہاں قدامت پرستی اور سادگی کا سکیل وہی ہے کہ جو سینکڑوں ہزاروں برس پہلے تھا۔شائد یہی وجہ ہوگی کہ آج سے60 برس پہلے (1953ءمیں) ایک آسٹروی سیاح اور کوہ پیما ہرمن بوہل (Hermann Buhl)نے کہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانے والا پہلا کوہ پیما تھا، سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند اس مقام کو Fairy Meadowsکا نام دیا تھا....اور آج دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے اور چوٹی پر چڑھنے کے لئے پہلا کیمپ (Base Camp)قائم کرتے ہیں۔اس جگہ پہنچنے کے لئے تین راستے ہیں جن میں ”فیری میڈوزر“ کا راستہ خوبصورت ترین مناظر اور سہل ترین چڑھائیوں کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

جہاں تک اس سانحہ کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ پاکستان کے یہ شمالی علاقہ جات(GB)طالبان کے لئے نئے نہیں ہیں ۔آپ کو یاد ہوگا اسامہ بن لادن نے کئی بار پروگرام بنایا تھا کہ وہ ان برف پوش پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائیں گے۔خاص طور پر چترال اور پریوں کے مرغزاروں کے آس پاس کے علاقے اسامہ کے مشن کی تکمیل کے لئے موزوں سمجھے جاتے تھے، لہٰذا طالبان نے ایک دو گائیڈ ضرور اپنے ساتھ رکھے ہوں گے، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ حملہ آور ان علاقوں کی عمومی جغرافیائی اور عسکری خصوصیات سے بے خبر ہوں۔ پولیس اور ایجنسیاں دوران تفتیش اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھیں گی کہ گلگت ۔بلتستان میں ٹی ٹی پی کا مواصلاتی نیٹ ورک کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔عین ممکن ہے کہ TTPنے تفتیش کے پراسس کو گمراہ کرنے کے لئے اس واقعہ کو اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہو۔وگرنہ ڈرونوں کا تعلق تو امریکہ اور امریکیوں سے ہے نہ کہ چینیوں، روسیوں اور یوکرانیوں سے ....!

نجانے انکوائری کی رپورٹ آنے سے پہلے ہمارے وزیرداخلہ نے صوبے کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے صوبائی سربراہ کو کیوں معطل کردیا ہے۔گلگت ۔بلتستان کے وزیراعلیٰ نے وزیرداخلہ کی طرف سے آرڈر کئے جانے والی اس معطلی کو حیران کن اور صوبے کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ان کا استدلال ہے کہ اگر دہشت گردوں کا قلع قمع بیوروکریٹوں کو معطل کرکے کیا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان اور کے پی کے کے چیف سیکرٹریوں اور پولیس کے صوبائی سربراہوں کو تو ملازمت سے ڈسمس کردینا چاہیے!

پاکستان کو یوکرائن اور روس کے احتجاج کی زیادہ پروا تو شائد نہ ہو، لیکن جب چین ہمیں کہتا ہے کہ اس کے شہریوں کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تو ہمیں آنے والے دنوں میں اس حملے کے فال آﺅٹ کی سنگینی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

طالبان ایک طویل عرصے سے پاکستان میں چینیوںکو نشانہ بنا رہے ہیں، امریکیوں کو نہیں۔ امریکیوں نے جتنے پاکستانی ڈرون حملوں میں مارے ہیں ان کا عشرِ عشیر بھی امریکی ہلاک شدگان میں نظر نہیں آتا۔اس لئے وزیرداخلہ کا یہ بیان کہ یہ حملہ ،خود پاکستان پر حملہ ہے،بالکل درست ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس طرح کے حملوں کا ہدف امریکی یا برطانوی یاوہ غیر ملکی شہری نہیں جو فاٹا میں طالبان کے خلاف ڈرون حملے کرتے ہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔

میرے ذہن میں کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر امریکہ کی طرح دوسرے ممالک نے بھی پاکستان پر ڈرون حملے شروع کردیئے تو بات کہاں جا کر رکے گی؟

ڈرون ٹیکنالوجی میں آج کل جس تیزی سے ترقی ہورہی ہے، وہ حیران کن ہے۔نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کی بڑی بڑی اور جدید افواج میں روبوٹ اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کو فائن ٹیون کیا جارہا ہے۔نہ صرف فرانس اور برطانیہ، بلکہ روس، چین اور اٹلی میں بھی ڈرون سازی کی صنعت بہت آگے نکل چکی ہے۔طالبان اگر اسی طرح چینیوں کو نشانہ بناتے رہے تو اس کا منطقی انجام کیا ہوگا، اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں، بلکہ حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے....گلگت۔ بلتستان کے یہ علاقے روس اور چین دونوں سے بمقابلہ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کے ، قریب تر ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں روس اور چین بھی ہمارے ان علاقوں کی فضائی سروے لینس کا پروگرام بناتے ہیں اور مشتبہ افراد کو ڈرونوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا قصد کرتے ہیں تو یہ شمالی علاقہ جات ایک دوسرا فاٹا بن سکتے ہیں!

ہم پاکستانیوں کی عادت ہے کہ جب تک کوئی ہمارے ” ناگفتنی مقاماتِ جسم“ پر ٹھڈے مار مار کر ہمیں نہیں جگاتا، ہم سوئے رہتے ہیں۔ہم دریاﺅں پر بندباندھتے ہیں ،لیکن پہاڑوں پر گرنے والی برف کو نہیں روکتے، ہم کیکر اور ببول کے درختوں کی صرف شاخیں کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو جڑ سے کاٹنے کا”ارتکاب“ نہیں کرتے۔یہی حالت تحریک طالبان پاکستان کی ہے۔وہ آئے روز نشانہ تو امریکی ڈرونوں کا بنتے ہیں اور انتقام امریکیوں کی بجائے چینی اور روسی اور یوکرائنی کوہ پیماﺅں سے لیتے ہیں.... یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر!

وزیراعظم پاکستان نے کل پارلیمنٹ میں یہ بیان دے کر شائد اپنی ذاتی انا کو تسکین دے لی ہو کہ مشرف پر آئین کی دفعہ 6کے مطابق غداری (Treason)کا مقدمہ چلایا جائے گا.... بسم اللہ، آپ ایسا ضرور کریں.... لیکن کاش آپ یہ بیان بھی پارلیمنٹ میں دیتے کہ گلگت۔ بلتستان کے علاقے میں کالعدم تحریک طالبان نے جو پاکستان مخالف اقدام کیا ہے اس کی روشنی میں اس تحریک کے تمام خفیہ اور علانیہ اراکین کو سات دن کے اندر اندر پکڑا جائے گا اور ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کسی بھی ملک دشمن غدار اور مجرم کو دی جاتی ہے!....کیا مشرف پر مقدمہ چلانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے یا پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا؟ .... قارئین اس نکتے پر ضرور غور کریں۔مشرف پر ضرور مقدمہ چلائیں، لیکن یہ مقدمہ طول کھینچے گا جبکہ انتہا پسندوں کا خاتمہ اگر طول کھینچے تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بعض مبصر یہ دلیل بھی لا رہے ہیں کہ یہ سانحہ ایک ایسی سوچی سمجھی سازش ہے،جس میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس دلیل پر مزید تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ہم قبل ازیں درجنوں بار اسی دلیل کو دہراتے رہے ہیں، لیکن اگر کسی جرم کا ثبوت نہ ملے تو الزام لگانے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ یہ تبصرہ کہیں معاملے کی چھان بین کو Detrackکرنے کے مترادف تو نہیں! ٭

23جون 2013ء(اتوار) نصف کرئہ شمالی میں دنیا کا گرم ترین دن تھا۔پاکستان کے میدانی علاقے آج کل سب شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں لیکن ہمارے شمالی علاقوں میں،کہ جن کو اب ”گلگت۔ بلتستان“ کا نام دے دیا گیا ہے، یہ موسم ان علاقوں کے رہنے والوں کا بہترین موسم ہے۔مئی سے لے کر جولائی تک چار مہینوں میں سینکڑوں ہزاروں غیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں اور اپنے دونوں شوق پورے کرتے ہیں.... ایک کوہ پیمانی کا شوق اور دوسرے ان سٹرٹیجک اہمیت کے علاقوں میں ایکوسسٹم کی آب و ہوائی نیرنگیوں کے روپ میں اس پاکستانی خطے کی ارضی انٹیلی جنس کے حصول اور جمع آوری کا شوق.... موخر الذکر شوق ایک دوسرا موضوع ہے۔اس پر کسی اور وقت بحث کریں گے۔

فی الحال اس کالم میں ہم اس سانحے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں، جس میں نانگا پربت کو سر کرنے والے کوہ پیماﺅں کو ہلاک کردیا گیا۔ان میں سے ایک پاکستانی بھی تھا، جو ان دو گائیڈوں میں سے ایک تھا جنہوں نے ان غیر ملکی سیاحوں کے کیمپ تک طالبان کی رہنمائی کی تھی۔اس ریجن کے ڈی آئی جی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 5کا تعلق یو کرائن سے ،3کا چین سے اورایک کا روس سے تھا۔

یہ خبر بھی آپ سن اور پڑھ چکے ہوں گے کہ تقریباً 20کے قریب دہشت گردوں نے گلگت سکاﺅٹس کی وردیوں میں ملبوس ہو کر تقریباً رات ایک بجے پریوں کے مرغزار (Fairy Meadow)کے اس علاقے میں ایک بیس کیمپ پر شب خون مارا اور سیاحوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی قیمتی اشیاءاور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔صرف ایک ایسا شخص کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا جو ان دو گائیڈوں میں سے ایک تھا، جنہوں نے دہشت گردوں کو بیس کیمپ تک پہنچایاتھا۔....اس سے مزید تفتیش کی جارہی ہے اور میڈیا میں جو تفصیلات آ رہی ہیں، وہ اسی گائیڈ کی فراہم کردہ ہیں۔

10،12ہزار فٹ کی بلندی پر ان علاقوں پر حملے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے قبول کرلی ہے اور وضاحت کی ہے کہ یہ حملہ اس ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا ہے،جس میں طالبان کا ایک سرکردہ رہنما ولی الرحمن چند ہفتے پہلے ہلاک ہو گیا تھا۔

جن قارئین نے یہ علاقے نہیں دیکھے،لیکن مری اور ایوبیہ کے سینکڑوں چکر لگا چکے ہیں، وہ بھی اس خوبصورت لینڈ سکیپ کا اندازہ نہیں کر پائیں گے جو ناظر کو ان برف پوش مرغزاروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مَیں نے 1970ءکی دہائی میں کہ جب گلگت سکاﺅٹس میں میری پوسٹنگ تھی، ان مقامات کو دیکھا تھا۔مقامی لوگوں کی رو سے پریوں اور حوروں کا مسکن یہی علاقے ہیں۔ان میں سے اگر آج بھی آپ کسی بڑی بوڑھی خاتون یا معمر مرد سے پوچھیں تو وہ آپ کوبتائے گا کہ اس نے جیتی جاگتی آنکھوں سے ان پریوں کو سروسمن کے ان گلستانوں میں بارہا اڑتے اور لینڈ کرتے دیکھا ہے۔کرنل الجرنن ڈیورنڈ نے انیسویں صدی کے اواخر میں اپنی ایک کتاب موسوم بہ Making of the Frontierمیں ان پریوں کے بارے میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔گلگت سے براستہ غذر اور یاسین، جب وہ چترال جاتا ہے تو وہاں باقاعدہ پریوں کو دیکھنے والوں اور والیوں کے انٹرویو کرتا ہے اور پھر جب گلگت سے ہنزہ اور نگر کی طرف نکلتا ہے تو اس سفر میں بھی دیو مالائی دور کی پریوں اور دیوں کے قصے زبان زدِ خاص و عام ہوتے ہیں۔

آج زمانہ بہت ترقی کر گیا ہے۔ان شمالی علاقوں میں بھی بہت کچھ تبدیل ہوا ہے۔آخری بار مجھے 2006ءمیں ایک بار پھر ان خوبصورت وادیوں اور برف سے ڈھکے کوہساروں کو دیکھنے کا موقع ملا۔آج بھی وہاں قدامت پرستی اور سادگی کا سکیل وہی ہے کہ جو سینکڑوں ہزاروں برس پہلے تھا۔شائد یہی وجہ ہوگی کہ آج سے60 برس پہلے (1953ءمیں) ایک آسٹروی سیاح اور کوہ پیما ہرمن بوہل (Hermann Buhl)نے کہ نانگا پربت کی چوٹی پر جانے والا پہلا کوہ پیما تھا، سطح سمندر سے ہزاروں فٹ بلند اس مقام کو Fairy Meadowsکا نام دیا تھا....اور آج دنیا بھر کے سیاح یہاں آتے اور چوٹی پر چڑھنے کے لئے پہلا کیمپ (Base Camp)قائم کرتے ہیں۔اس جگہ پہنچنے کے لئے تین راستے ہیں جن میں ”فیری میڈوزر“ کا راستہ خوبصورت ترین مناظر اور سہل ترین چڑھائیوں کی وجہ سے سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔

جہاں تک اس سانحہ کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ پاکستان کے یہ شمالی علاقہ جات(GB)طالبان کے لئے نئے نہیں ہیں ۔آپ کو یاد ہوگا اسامہ بن لادن نے کئی بار پروگرام بنایا تھا کہ وہ ان برف پوش پہاڑوں کو اپنا مسکن بنائیں گے۔خاص طور پر چترال اور پریوں کے مرغزاروں کے آس پاس کے علاقے اسامہ کے مشن کی تکمیل کے لئے موزوں سمجھے جاتے تھے، لہٰذا طالبان نے ایک دو گائیڈ ضرور اپنے ساتھ رکھے ہوں گے، لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ حملہ آور ان علاقوں کی عمومی جغرافیائی اور عسکری خصوصیات سے بے خبر ہوں۔ پولیس اور ایجنسیاں دوران تفتیش اس پہلو کو ضرور مدنظر رکھیں گی کہ گلگت ۔بلتستان میں ٹی ٹی پی کا مواصلاتی نیٹ ورک کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔عین ممکن ہے کہ TTPنے تفتیش کے پراسس کو گمراہ کرنے کے لئے اس واقعہ کو اپنے کھاتے میں ڈال لیا ہو۔وگرنہ ڈرونوں کا تعلق تو امریکہ اور امریکیوں سے ہے نہ کہ چینیوں، روسیوں اور یوکرانیوں سے ....!

نجانے انکوائری کی رپورٹ آنے سے پہلے ہمارے وزیرداخلہ نے صوبے کے چیف سیکرٹری اور پولیس کے صوبائی سربراہ کو کیوں معطل کردیا ہے۔گلگت ۔بلتستان کے وزیراعلیٰ نے وزیرداخلہ کی طرف سے آرڈر کئے جانے والی اس معطلی کو حیران کن اور صوبے کے مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔ان کا استدلال ہے کہ اگر دہشت گردوں کا قلع قمع بیوروکریٹوں کو معطل کرکے کیا جا سکتا ہے تو پھر بلوچستان اور کے پی کے کے چیف سیکرٹریوں اور پولیس کے صوبائی سربراہوں کو تو ملازمت سے ڈسمس کردینا چاہیے!

پاکستان کو یوکرائن اور روس کے احتجاج کی زیادہ پروا تو شائد نہ ہو، لیکن جب چین ہمیں کہتا ہے کہ اس کے شہریوں کی حفاظت کی ضمانت دی جائے تو ہمیں آنے والے دنوں میں اس حملے کے فال آﺅٹ کی سنگینی پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

طالبان ایک طویل عرصے سے پاکستان میں چینیوںکو نشانہ بنا رہے ہیں، امریکیوں کو نہیں۔ امریکیوں نے جتنے پاکستانی ڈرون حملوں میں مارے ہیں ان کا عشرِ عشیر بھی امریکی ہلاک شدگان میں نظر نہیں آتا۔اس لئے وزیرداخلہ کا یہ بیان کہ یہ حملہ ،خود پاکستان پر حملہ ہے،بالکل درست ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس طرح کے حملوں کا ہدف امریکی یا برطانوی یاوہ غیر ملکی شہری نہیں جو فاٹا میں طالبان کے خلاف ڈرون حملے کرتے ہیں، بلکہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔

میرے ذہن میں کبھی کبھی یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر امریکہ کی طرح دوسرے ممالک نے بھی پاکستان پر ڈرون حملے شروع کردیئے تو بات کہاں جا کر رکے گی؟

ڈرون ٹیکنالوجی میں آج کل جس تیزی سے ترقی ہورہی ہے، وہ حیران کن ہے۔نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کی بڑی بڑی اور جدید افواج میں روبوٹ اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کو فائن ٹیون کیا جارہا ہے۔نہ صرف فرانس اور برطانیہ، بلکہ روس، چین اور اٹلی میں بھی ڈرون سازی کی صنعت بہت آگے نکل چکی ہے۔طالبان اگر اسی طرح چینیوں کو نشانہ بناتے رہے تو اس کا منطقی انجام کیا ہوگا، اس سلسلے میں قیاس آرائیاں نہیں کرنی چاہئیں، بلکہ حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے....گلگت۔ بلتستان کے یہ علاقے روس اور چین دونوں سے بمقابلہ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کے ، قریب تر ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں روس اور چین بھی ہمارے ان علاقوں کی فضائی سروے لینس کا پروگرام بناتے ہیں اور مشتبہ افراد کو ڈرونوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا قصد کرتے ہیں تو یہ شمالی علاقہ جات ایک دوسرا فاٹا بن سکتے ہیں!

ہم پاکستانیوں کی عادت ہے کہ جب تک کوئی ہمارے ” ناگفتنی مقاماتِ جسم“ پر ٹھڈے مار مار کر ہمیں نہیں جگاتا، ہم سوئے رہتے ہیں۔ہم دریاﺅں پر بندباندھتے ہیں ،لیکن پہاڑوں پر گرنے والی برف کو نہیں روکتے، ہم کیکر اور ببول کے درختوں کی صرف شاخیں کاٹنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کو جڑ سے کاٹنے کا”ارتکاب“ نہیں کرتے۔یہی حالت تحریک طالبان پاکستان کی ہے۔وہ آئے روز نشانہ تو امریکی ڈرونوں کا بنتے ہیں اور انتقام امریکیوں کی بجائے چینی اور روسی اور یوکرائنی کوہ پیماﺅں سے لیتے ہیں.... یعنی طویلے کی بلا بندر کے سر!

وزیراعظم پاکستان نے کل پارلیمنٹ میں یہ بیان دے کر شائد اپنی ذاتی انا کو تسکین دے لی ہو کہ مشرف پر آئین کی دفعہ 6کے مطابق غداری (Treason)کا مقدمہ چلایا جائے گا.... بسم اللہ، آپ ایسا ضرور کریں.... لیکن کاش آپ یہ بیان بھی پارلیمنٹ میں دیتے کہ گلگت۔ بلتستان کے علاقے میں کالعدم تحریک طالبان نے جو پاکستان مخالف اقدام کیا ہے اس کی روشنی میں اس تحریک کے تمام خفیہ اور علانیہ اراکین کو سات دن کے اندر اندر پکڑا جائے گا اور ان کو وہی سزا دی جائے گی جو کسی بھی ملک دشمن غدار اور مجرم کو دی جاتی ہے!....کیا مشرف پر مقدمہ چلانا پاکستان کی اولین ترجیح ہے یا پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا؟ .... قارئین اس نکتے پر ضرور غور کریں۔مشرف پر ضرور مقدمہ چلائیں، لیکن یہ مقدمہ طول کھینچے گا جبکہ انتہا پسندوں کا خاتمہ اگر طول کھینچے تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بعض مبصر یہ دلیل بھی لا رہے ہیں کہ یہ سانحہ ایک ایسی سوچی سمجھی سازش ہے،جس میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اس دلیل پر مزید تبصرہ نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ہم قبل ازیں درجنوں بار اسی دلیل کو دہراتے رہے ہیں، لیکن اگر کسی جرم کا ثبوت نہ ملے تو الزام لگانے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ یہ تبصرہ کہیں معاملے کی چھان بین کو Detrackکرنے کے مترادف تو نہیں!   ٭

مزید :

کالم -