وسائل اور مسائل (2)

وسائل اور مسائل (2)
وسائل اور مسائل (2)

  

مَیں یہ بات پھر دہرائے دیتا ہوں کہ نامکمل اور غیر شفاف نجکاری سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ ماضی میں ایسے کئی تجربات کئے جا چکے ہیں کہ جب نجکاری کے نام پر اقربا پروری کی بدترین مثالیں قائم ہوئیں اور کھربوں روپے مالیت کے سرکاری اداروں کے حصص کوڑیوں کے مول چہیتوں میں بانٹ دیئے گئے۔ ریلوے کی ٹرینیں لیز پر دینے کا معاملہ اتنا پرانا نہیں کہ فراموش کر دیا جائے نحیف ونزار سابق وزیر ریلوے غلام احمد بلور نے نجکاری کے نام پر وہ لوٹ سیل لگائی کہ ایک توانا محکمہ قریب المرگ ہو گیا۔ غضب خدا کا ....ٹریک ریلوے کا، بوگیاں ریلوے کی، انجن ریلوے کے، ڈرائیور اور بکنگ کا عملہ ریلوے کا، ریل گاڑیاں لیز پر حاصل کرنے والی پارٹیوں کو اس سب کی بدولت معمولی سی رقم ریلوے کو ادا کرنا ہے (اس کا بھی بیشتر حصہ اُن کے ذمے واجب الادا ہے) اور کروڑوں روپے ماہانہ منافع ان کی جیب میں جا رہا ہے۔ دُنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں نجی کمپنیاں اپنی ٹرینیں چلا رہی ہیں، لیکن ایسا کہیں نہیں ہوتا جیسا پاکستان میں ہو رہا ہے۔ ٹریک صرف سرکار کا ہوتا ہے اس کے علاوہ ٹرینوں کے انجنوں سے بوگیوں اور عملے تک سبھی کچھ اُنہی کمپنیوں کا ہوتا ہے اور بدلے میں وہ اچھی خاصی رقم حکومت کو ادا کرتی ہیں۔ نجکاری کے حوالے سے ساری دُنیا کا چلن یہ ہے کہ خسارے میں جانے والے اداروں کو نیلام کر دیا جائے اور منافع بخش ادارے سرکار کے پاس رہیں، لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے، منافع بخش ادارے جیسے پی ٹی سی ایل اور پاک عرب فرٹیلائزر کی نجکاری کر دی گئی اور گھاٹے میں جانے والے اداروں واپڈا وغیرہ کو مکمل نجکاری سے بچایا جا رہا ہے۔

وسائل کی بڑھوتری کے لئے بدعنوانی میں کمی از حد ضروری ہے۔ تین ٹریلین سالانہ کی بدعنوانی سرکاری محاصل میں کمی کی بنیادی وجہ ہے ٹیکس وصولی کے ذمہ دار محکموں میں موجود بدعنوان عناصر جاگیردار و صنعتکار اشرافیہ کے دست و بازو بن کر عوام کے مسائل میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں۔ عوام الناس کی ضروریات میں تعلیم کی بنیادی سہولت کے علاوہ صحت اور زندگی گزارنے کی چند دیگر بنیادی سہولتیں شامل ہیں، جن کا حصول اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے کہ جب حکومت کے پاس اس مد میں فنڈز کی فراوانی ہو، جب محاصل کم ہوں گے تو مختلف مدات میں فنڈز بھی کم ہی مختص ہوں گے اور عوام الناس کی فلاح و بہبود تو ہماری حکومتوں کی اولین ترجیحات میں کبھی شامل ہی نہیں رہی اس لئے تعلیم اور صحت کے لئے انتہائی ناکافی فنڈز مختص کئے جاتے ہیں۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے محاصل میں بڑھوتری کی جا سکتی ہے۔ حکومت فی الفور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرے، غیر ملکی سرمایہ

 کاروں کا اعتماد دہشت گردی کے خا تمے اور مقامی سرمایہ کاروں کے لئے حالات اس وقت بہتر ہوں گے جب توانائی کے بحران میں کسی حد تک کمی کے آثار پیدا ہوں گے۔ گزشتہ دور میں گوادر کی بندرگاہ چین کے حوالے کرنا ایک خوش آئند قدم تھا جس کے بعد خصوصاً چینی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی بڑھی ہے۔ چین اور وسط ایشیائی ممالک کے لئے گوادر کی بندرگاہ تجارتی اعتبار سے خاصی اہمیت کی حامل ہے یہی وجہ ہے کہ چین گوادر سے گلگت تک ریلوے ٹریک بچھا کر اپنا تجارتی سامان تیز رفتار فریٹ سروس کے ذریعے گوادر بندرگاہ سے اپنی سرحد تک پہنچانے کا خواہش مند ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے اپنے پہلے خطاب کے دوران ہی اس منصوبے کی اہمیت کا ذکر کیا، بلاشبہ اس منصوبے پر اچھی خاصی سرمایہ کاری ہو گی جس کا بڑا حصہ چین خود لگانے پر تیار ہے لیکن اس پر عمل درآمد سے ملک میں خوشحالی اور ترقی کے نئے باب کھل سکتے ہیں۔

بہتر گورننس بہت سے مسائل کا وہ نسخہ ہے جس پر بہت زیادہ و سائل بھی خرچ نہیں کرنا پڑتے اور اس کے نتائج بھی دُور رَس ہوتے ہیں۔11مئی2013ءکے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کی فتح میں2008ءسے 2013ءکے دوران شہباز شریف کی نسبتاً بہتر گورننس نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ اگر تقرر و تبدل میرٹ پر ہو اور بیورو کریسی کو ایک خاص حد سے تجاوز نہ کرنے دیا جائے (جو کہ خاصا مشکل کام ہے) تو بہت سے معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دور میں پیپلزپارٹی کی مرکزی اور سندھ حکومت میں گورننس کا معیار بہتر نہ ہونے کی وجوہات میں بیورو کریسی کی معاملات میں حد سے زیادہ دخل اندازی کا اہم کردار رہا، بہت سارے معاملات میں وزراءبے بس نظر آئے اور بیورو کریسی کے علاوہ ٹیکنو کریٹ مشیروں کے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کی بدولت گورننس کا معیار کر گیا۔

اب جبکہ وزارت خزانہ نے عالمی مالیاتی اداروں سے مزید قرض لینے کا فیصلہ کیا (جس کی شرائط پہلے زیادہ سخت ہوں گی) ہے تو ایسے میں حکومتی اخراجات میں کمی از حد ضروری ہے، کیونکہ2008ءسے2013ءکے دوران قرض میں لی جانے والی رقم کا بیشتر حصہ بدعنوانیوں، غیر ملکی دوروں اور حکومتی زعماءکی تعیشات میں صرف ہو گیا اور عوام کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ قرض لینے کے بعد اسے واپس بھی کرنا ہوتا ہے اور مزید قرض لینے کا مطب ہے کہ شرح سود میں اضافہ جس کی بدولت ملک میں مہنگائی اور افراطِ زر کا طوفان امڈ آتا ہے۔ اس لئے قرض سے حاصل ہونے والی رقم کو نہایت احتیاط سے خرچ کیا جائے اور نئے قرض کو محض پرانا قرض چکانے کے لئے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ اسے ایسے منصوبوں میں بھی صرف کیا جائے جن سے کچھ آمدن کے حصول کی توقع ہو۔ یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے بیشتر مسائل کا تعلق وسائل کے نہ ہونے یا کم ہونے سے ہے اس لئے وسائل میں اضافے کی سبیل کی جائے اور پہلے سے موجود وسائل کو بہتر انداز سے خرچ کیا جائے۔(ختم شد)     ٭

مزید :

کالم -