اب پرویز مشرف کیس؟

اب پرویز مشرف کیس؟
 اب پرویز مشرف کیس؟

  

ایسا لگ رہا ہے کہ 1998ءکے بعد ایک مرتبہ پھر سہ پہر کے اخبارات عام ہونے والے ہیں، کیونکہ عدالتی چھٹیوں کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے اور 3نومبر 2007ءکو ملک بھر میں آئین کو منسوخ کر کے ایمرجنسی لگانے کے خلاف حکومت کی طرف سے قائم کردہ مقدمہ کی سماعت شروع ہونے والی ہے۔ عام طور پر تو ایسے مقدمات جن میں سزا عمر قید یا پھانسی ہو سیشن کورٹ میں زیر سماعت لائے جاتے ہیں لیکن اگر مقدمات اس نوعیت کے ہوں جن میں ملک کی اہم شخصیت یا شخصیات کا تعلق ہو تو پھر براہ راست ہائی کورٹ میں بھی سماعت کی جا سکتی ہے۔ ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب مغربی پاکستان کے سابق گورنر ملک امیر محمد خان آف کالا باغ کو ان کے اپنے چھوٹے بیٹے ملک اسد نے کالا باغ کے اپنے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا تو مقدمہ براہ راست مغربی پاکستان ہائی کورٹ (اب لاہور ہائیکورٹ) میں جسٹس محمد افضل کی عدالت میں لایا گیا۔ وہاں گرمیوں کی چھٹیوں کے باوجود اس مقدمہ کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی گئی اور اخبارات میں یہ کارروائی عموماً آٹھ سے سولہ کالموں پر مبنی روزانہ ہی رپورٹ ہوتی رہی۔ لوگوں خصوصاً ضلع میانوالی کے لوگوں کی اس میں دلچسپی کا یہ عالم تھا کہ وہ صبح سویرے ہی ان بستوں کا اور ماڑی انڈس ٹرین کا انتظار کرتے دکھائی دیتے تھے جن کے ذریعہ اخبارات کے بنڈل لاہور سے میانوالی پہنچتے تھے اور اخبارات ہاتھوں ہاتھ ہی فروخت ہو جاتے تھے۔ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں لگا تھا کہ یہ قتل عمدہے لہٰذا قاتل کو پھانسی کی سزا دی جائے جبکہ صفائی کے وکیل اس موقف پر اپنے گواہ اور ثبوت پیش کر رہے تھے کہ باپ غصے میں پستول نکال کر بیٹے پر فائر کرنے ہی والا تھا کہ بیٹے نے اپنی جان بچانے کے لئے اپنا پستول نکال کر باپ پر گولی چلا دی۔ یوں Self defence کا صفائی کا یہ موقف عدالت نے تسلیم کر لیا اور ملک اسد کو با عزت بری کر دیا گیا۔

دوسرا مقدمہ جو براہ راست ہائی کورٹ میں زیر سماعت آیا وہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قائم کردہ مقدمہ قتل تھا جس میں پیپلزپارٹی کے ایم این اے اور وکیل احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کو شادمان لاہور میں اس وقت گولیاں چلا کر قتل کر دیا گیا تھا جب وہ ایک شادی کی تقریب سے ماڈل ٹاﺅن اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ فیڈرل سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں سمیت یہ مقدمہ اس وقت کے وزیر اعظم بیرسٹر بھٹو کے خلاف قائم کیا گیا تھا اس کی ایف آئی آر تھانہ سول لائنز لاہور میں سربمہر کر دی گئی تھی، لیکن جب جنرل ضیاءالحق نے 5جولائی 1977ءکو ملک بھر میں مارشل لاءلگایا اور بھٹو حکومت کو ختم کر دیا گیا تو اگلے چند ماہ میں ہی اس مقدمہ کو کھول لیا گیا اور بھٹو کو حراست میں لے کر مقدمہ کی سماعت شروع کر دی گئی۔ فیڈرل سکیورٹی فورس کے اہلکار وعدہ معاف گواہ بن گئے اور انہوں نے عدالت کو بیان دیا کہ بھٹو کے حکم پر وہ احمد رضا قصوری ایم این اے کو مارنے گئے تھے، لیکن فائرنگ کے وقت گولیاں ان کی بجائے نواب محمد احمد خان کو جا لگیں چونکہ رات کا وقت تھا اس لئے وہ اپنے ٹارگٹ کو صحیح طور پر دیکھ نہ سکے۔ اس مقدمہ کی روزانہ کی کارروائی بھی ایک سے دو صفحات روزانہ کی بنیاد پر ملک بھر کے اخبارات میں رپورٹ ہوتی رہی اور اس وقت بھی گرمیوں کی تعطیلات کے باوجود سماعت روزانہ جاری رہی اور اخبارات کی سرکولیشن میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ اتفاق دیکھئے کہ اب پھر اعلیٰ عدالتوں میں تعطیلات ہیں اور اب جلد ہی جنرل پرویز مشرف کے خلاف جو مقدمہ سماعت کے لئے تیار ہو رہا ہے اس کی سماعت بھی انہی تعطیلات میں ہی اسلام آباد میں شروع ہونے والی ہے۔ فی الحال تو جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اس مقدمہ کو3 نومبر2007ءکی ایمرجنسی لگائے اور ججوں کو معزول کر کے انہیں لیگل فریم ورک آرڈر یعنی مشرف حکومت کے بنائے گئے آئین پر حلف لینے کی پاداش میں آئین کے آرٹیکل 6کی خلاف ورزی تک ہی محدود رکھا جائیگا۔ تاہم ہو سکتا ہے کہ اسی تسلسل میں 12اکتوبر 1999ءکو نواز شریف حکومت ختم کرنے اور وزیر اعظم سمیت اس وقت کی تمام اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کے خلاف بھی مقدمہ چلے کیونکہ جس پارلیمنٹ نے اس اقدام کو تحفظ دیا تھا اسے 18ویں ترمیم میں دوسری پارلیمینٹ نے ختم کر دیا تھا۔ زیادہ تفصیل تو مقدمہ چلنے پر ہی سامنے آئے گی، لیکن ایک بات ضرور سامنے آ رہی ہے کہ مقدمہ چلتے ہی سہ پہر(شام) کے اخبارات ایک بار پھر فروخت ہونے لگیں گے۔

دونوں فریقین کے وکلاءبھی اہم ہوں گے اور شاید یہ مقدمہ دو سے چھ ماہ تک زیر سماعت رہے۔ اگر صفائی کے وکلاءیہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ قرار واقعی حکومت کو اس وقت ایمرجنسی لگانے کی ضرورت تھی اور وزیراعظم شوکت عزیز(اس وقت) کی سفارش پر صدر مملکت پرویز مشرف نے عمل کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کئے تو پھر پرویز مشرف بری ہو جائیں گے، لیکن اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکی تو پھر عدالت قانون کے مطابق سزا سنائے گی۔ ایسے ہی اختیارات 1958ءمیںا س وقت کے صدر سکندر مرزا نے بھی استعمال کئے تھے اور اپنے چیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ایوب خان کو منتخب حکومت کو ہٹا کر پورے پاکستان، یعنی مغربی اور مشرقی پاکستان میں مارشل لا لگانے کا حکم دیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد جب فوج نے اقتدار سنبھال لیا تو جنرل ایوب خان نے صدر سکندر مرزا کو ملک بدر کر دیا تھا اور ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بن کر فوجی عدالتیں قائم کر دی تھیں اور سیاست دانوں کو سات سات سال کے لئے نا اہل قرار دے کر ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کے دفاتر سربمہر کر دیئے تھے۔ پھر بنیادی جمہوریت کا فلسفہ لایا گیا اور سی ایس پی افسران خصوصاً ڈپٹی کمشنروں اور پولیس کپتانوں کی مدد سے الیکشن کرائے گئے اور صدارتی نظام رائج کر کے جنرل ایوب خان صدر منتخب ہو گئے۔ آگے چل کر جنگ ستمبر1965ءکے بعد وہ فیلڈ مارشل بھی بن گئے اور آرمی کا کمانڈر اینڈ کنٹرول اپنے پاس رکھ کر انہوں نے اپنے ایک ماتحت جنرل موسیٰ خان کو آرمی چیف بھی بنا دیا۔ ان کے خلاف 1967ءمیں ان کی ہی ایک کابینہ کے رکن (وزیر خارجہ و صنعت) بیرسٹر بھٹو نے بغاوت کر کے پیپلزپارٹی کے نام سے سیاسی پارٹی قائم کی اور پھر تحریک چلا کر 1970ءکے انتخابات منعقد کرائے۔ اس سے قبل ہی 1969ءمارچ میں ایوب خان استعفیٰ دے کر اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر گئے اور پھر بعد کی تمام تاریخ مہارے سب کے سامنے ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے خلاف قائم کیا جانے والا مقدمہ چونکہ ایسا نہیں کہ سپریم کورٹ کا فل بنچ اسے براہ راست سنے، کیونکہ اس میں کوئی آئینی نکتہ زیر بحث نہیں لہٰذا یہ ایک سادہ سا فوجداری مقدمہ ہے، لہٰذا اس کی سماعت ویسے تو سیشن کورٹ میں بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اہم شخصیت کے پیش نظر اس کی سماعت ہائی کورٹ کی سطح پر ہو گی۔ پھر فریقین کو اپیل کا بھی حق حاصل ہو گا۔ اگر پہلی عدالت کوئی فیصلہ سناتی ہے تو متاثرہ فریق بھی اپیل کر سکتا اور اگر استغاثہ کو محسوس ہو کہ سزا کم دی گئی ہے یا نہیں دی گئی تو وہ بھی اپیل میں جا سکتے ہیں۔ تاہم حتمی فیصلہ اپیل در اپیل کے تمام حق استعمال کرتے ہوئے اور تمام قانونی درجات پارکرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ہی جاکر ہو گا اس وقت ممکن ہے کہ اسے لارجر بنچ سماعت کے لئے اپنے پاس رکھے یا فل کورٹ میں اس کی سماعت کرے اس کا حق بھی سپریم کورٹ کو ہی حاصل ہو گا جہاں پر کوئی بھی فریق اس مقدمہ کو حتمی سماعت کے لئے پیش کرے گا۔

سپریم کورٹ کے پاس اس وقت بھٹو جوڈیشل مرڈر کیس Bhuto Judicial Murder بھی التوا میں ہے جس میں درخواست دہندہ نے اس تمام کیس کو نظرثانی کے لئے پیش کیا ہے اور اسے سماعت کے لئے منظور بھی کیا جا چکا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بیرسٹر بھٹو نے چونکہ خود گولی نہیں چلائی۔ فائرنگ نہیں کی، لہٰذا انہیں شریک ملزم تو قرار دیا جا سکتا ہے، لیکن مرکزی ملزم نہیں اور شریک ملزم جب موقعہ واردات پر نہ ہو تو پھر اسے پھانسی کی سزا نہیں دی جا سکتی چنانچہ اس مقدمہ کی تمام جزئیات اور ہر سطح پر ہونے والی سماعت کی تفصیلات پر نظرثانی کے لئے کہا گیا ہے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ اس ملک میں اعلیٰ ترین عدلیہ نے منتخب وزیراعظم بیرسٹر بھٹو کو پھانسی کی سزا دی اور ہو سکتا ہے کہ اب ایک جرنیل بھی سزا پا جائے، کیونکہ سویلین اور فوج دونوں نے ہی پاکستان پر ففٹی ففٹی عرصہ کے لئے حکومت کی ہے۔ اگر ایک سویلین سزا پاسکتا ہے تو جرم کرنے پر فوجی آمر کیوں نہیں؟ ٭

مزید :

کالم -