غیر جانبداری۔ وزیراعظم کی ہدایت!

غیر جانبداری۔ وزیراعظم کی ہدایت!

  

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین توڑنے کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش اور مقدمہ کی سماعت کے دوران حکومتی غیر جانبداری کا واضح اظہار ہونا چاہئے۔ وزیراعظم سے اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے ملاقات کی اور ان کو آرٹیکل6کے تحت پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ کے حوالے سے بریفنگ دی اور قانونی اور آئینی پہلوﺅں سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے تمام عمل میں شفافیت کو پیش نظر رکھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی یہ ہدایت بروقت اور برمحل ہے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلانے کے اعلان کے بعد سے اس فیصلے کی تائید اور زبردست پذیرائی ہوئی ہے، لیکن بعض عناصر اس کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل(ر) اسلم بیگ نے تو اسے انتقامی کارروائی قرار دے دیا ہے، معاملہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے، جہاں حکومت نے عدالت کے حکم اور ہدایت پر عمل کا یقین دلایا، ساتھ ہی وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل6کی خلاف ورزی پر مقدمہ چلانے کے لئے تیار ہے اور عدالتی حکم پر عمل کیا جائے گا۔

وزیراعظم کی طرف اس اعلان کے بعد موافقانہ اور مخالفانہ حمایت و مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ وزیراعظم نے جب غیر جانبدار رہنے اور نظر آنے کی ہدایت جاری کی تو اُن کے سامنے اس مقدمہ کے حوالے سے ہونے والی تنقید پیش نظر تھی، اُن کی طرف سے غیر جانبداری کی ہدایت اس ضمن میں اُن کی پوزیشن واضح کرے گی اور اُن کی نیک نیتی کا بھی اندازہ ہو گا۔  ٭

مزید :

اداریہ -