پولیس کا نظام کیسے بہتر ہو گا؟

پولیس کا نظام کیسے بہتر ہو گا؟
پولیس کا نظام کیسے بہتر ہو گا؟

  

1997میںپنجاب پولیس کے انتہائی نیک نام اور معتبر سابق انسپکٹر جنرل (IGP) سردار محمد چوہدری مرحوم کی مشہور تصنیف The Ultimate Crime شائع ہوئی تھی جو آج بھی پولیس کا نظام سمجھنے کے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں پنجاب پولیس کے درویش منش سربراہ نے ان عوامل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے جو پولیس سے متعلق عام تاثر اور اس کو درپیش مشکلات پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ گذشتہ سولہ برسوں کے دوران میں نے یہ کتاب کئی بار پڑھی ہے اور ہر مرتبہ نئے زاویوں سے اس پر غور کیا ہے۔ اگرچہ اس تصنیف میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن پر تفصیلاً گفتگو کی جا سکتی ہے، لیکن اس کا ایک جملہ ہمیشہ ہی میرے دماغ پر نقش رہا ہے اور وہ یہ کہ اگر پولیس کی کارکردگی بہتر بنانی ہے تو اسے اعتماد دینا ہو گا اور اس کا مورال بلند کرنا ہو گا۔ماضی میں لاہور میں ہلاکو خان جیسی فرسودہ سوچ رکھنے والے افسران بھی گذرے ہیں ۔ گزشتہ ہفتہ کے دن وزیراعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت لاہور میں ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں پولیس اصلاحات،اسے جدید خطوط پر آراستہ کرنے اور تھانہ کلچر کے خاتمے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔

اس اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کا ذکر کرنے سے پہلے میں دو ایسے واقعات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو اسی دن لاہور میں پیش آئے۔ اس دن جب میں صبح گھر سے نکلا تو ٹیلی ویژن کے نیوز چینلوں پر بار بار ٹکر دکھائے جا رہے تھے جن میں کچھ اس طرح کا تاثر مل رہا تھا کہ افسرانِ بالا کے اچانک دوروں سے مختلف علاقوں کے پولیس افسروں کی دوڑیں لگ گئیں ، وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح معطلی وغیرہ کی خبریں بھی چل رہی تھیں تو مجھے بار بار ہلاکو خان یاد آرہا تھا۔ انہی خبروں کے ادھیڑ بن میں جب میں لاہور کی ایک مشہور شاہراہ کے ایک اہم چوک میں پہنچا تو میں نے اتفاق سے ایک غیر معمولی منظر دیکھا۔ چوک کے ایک کنارے پر مجھے ایک ٹریفک وارڈن نظر آیا جس کی وردی پھٹی ہوئی تھی اور صاف معلوم ہوتا تھا کہ اس کی کسی نے تازہ تازہ دھنائی کی ہے۔ میں نے جب تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک وارڈن خود کھڑا چوک میں ٹریفک کنٹرول کر رہا تھا۔اسی دوران ایک گاڑی نے سگنل توڑا تو وارڈن نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر ڈرائیور کسی بد مست ہاتھی کی طرح اس پر چڑھ دوڑا اور وارڈن کو اپنی گاڑی سے نہ صرف ٹکر ماری بلکہ اسے روندنے کی کوشش بھی کی۔ اس کے بعد گاڑی میں سوار لوگوں نے ٹریفک وارڈن کو مار مار کر ادھ موا کر دیا جس سے اس کی وردی بھی پھٹ گئی۔ میرا خیال تھا کہ اب ان کار سواروں کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت کرنے پر کاروائی کی جائے گی لیکن یہ حیرت انگیز اطلاع آئی کہ اگلے چند منٹوں میں ہی اس ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا ہے۔ جرم کرنے والے کو سزا ملنے کی بجائے قانون نافذ کرنے والے کو ہی سزا بھگتنا پڑی کیونکہ قانون توڑنے والا کوئی بااثر شخص تھا۔

اسی دن دوسرا واقعہ لاہور کی کیمپ جیل میں پیش آیا جب ایک نجی ٹیلیویژن چینل کے کیمرہ مین کو ممنوعہ علاقے کی فوٹیج بنانے سے روکا گیا تو اس نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر تشدد کیا۔ اس واقعہ میں بھی معطلی کی سزابے گناہ اہلکاروں کو ہی ملی۔اس طرح کے واقعات آئے دن پیش آتے ہیں اور سالہا سال سے یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے۔ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کی تربیت پاک فوج کی نگرانی میں کی جائے گی تاکہ ان کی استعداد کار میں اضافہ ہو سکے۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان کی تربیت جس مرضی ادارے سے کروالی جائے لیکن جب تک فرسودہ سوچ کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور فورس کا مورال بلند نہیں کیا جاتا کسی بھی بہتری کی توقع رکھنا عبث ہو گا۔اس فرسودہ سوچ کی بہترین مثال 1972 میں پیش آنے والے واقعات سے دی جا سکتی ہے جب پاکستان کے تین صوبوں میں پولیس نے حکومتِ وقت کی طرف سے روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے خلاف ہڑتال کی تھی اور حکومت نے انہیں جبر، زور اور زبردستی سے انہیں کچلنے کی کوشش کی لیکن منہ کی کھائی تھی۔

جب ذوالفقار علی بھٹو نے 20دسمبر 1971 کو بطور سویلین مارشل لاءایڈمنسٹریٹر اقتدار سنبھالا تو ڈیڑھ ماہ کے بعد ہی ان کے آبائی شہر لاڑکانہ میںپیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کے ناروا سلوک کے خلاف لاڑکانہ شہر کی پولیس نے ہڑتال کر دی جو افہام و تفہیم کی بجائے پولیس فورس پر سختی کرنے کے باعث چند ہی دنوں میں سندھ کے دوسرے شہروں حیدرآباد اور دادو وغیرہ تک پھیل گئی۔اس کے بعد صوبہ سرحد کی پولیس بھی وزیر ِ داخلہ خان عبدالقیوم خان کی بے جا دھمکیوں اور ناروا رویے کے خلاف ہڑتال پر چلی گئی۔سویلین مارشل لاءایڈمنسٹریٹرذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف جنرل گل حسن کو حکم دیا کہ پشاور کی پولیس لائینز پر توپوں سے گولہ باری کی جائے ۔ اسی طرح ائر فورس کے سربراہ ائر مارشل رحیم خان کو پولیس لائینز پر بمباری کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ آرمی اور ائر فورس کے سربراہان نے جب یہ ظالمانہ اور احمقانہ حکم ماننے سے انکار کیا تو ان دونوں سے زبردستی استعفے لے لئے گئے۔سلسلہ بڑھتے بڑھتے پنجاب میں پولیس کے ہڑتال پرجانے سے معاملات مزید بگڑ گئے۔ اس پر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام غلام مصطفی کھر نے کیا۔

27فروری 1972ءکو گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھرنے جو صوبائی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بھی تھے، لاہور میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بطور صوبائی مارشل لاءایڈمنسٹریٹر حکم جاری کیا کہ اگلے دن سہ پہر 3.30 تک جو ہڑتالی پولیس ملازمین اپنی ڈیوٹی پر واپس نہیں آئیں گے انہیں برطرف کرکے ان کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے ساری پولیس فارغ بھی کرنا پڑی تو میں اسے فارغ کرکے ایک نئی پولیس بھرتی کر لوں گا جس میں شہری دفاع کے رضاکار‘ نیشنل گارڈزاور پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنان شامل ہوں گے اور یہ پولیس کی تمام ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔ان ہڑتالوں کو ختم کرنے میں صاحبزادہ رﺅف علی خان اور سردار محمد چودھری جیسے افسران نے اہم کردارادا کیا، جنہوں نے حاکم ِ وقت کو اس بات پر قائل کیا کہ پولیس فورس کی کارکردگی بلا جواز سختی کرنے سے نہیں، بلکہ ان کا مورال بڑھانے سے مشروط ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے پولیس کی کارکردگی اور امن و امان بہتر بنانے کے لئے بہت سے اچھے اور اہم فیصلے کئے ہیںجن میں غیر ضروری اسلحہ لائسنسوں کی منسوخی، ماتحت عدالتوں کی تعداد میں اضافہ اور تھانہ پولیس کونسل کے قیام وغیرہ شامل ہیں۔ یقینا ان کے مثبت نتائج آئیں گے لیکن اس کے ساتھ ہی اگر پولیس فورس کا اعتماد بڑھانے کے لئے ضروری اقدامات کر لئے جائیں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی عوام اور حکومت دونوں کو ہو گااور معاشرہ میں مثبت تبدیلی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔      ٭

مزید :

کالم -