بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 7.47 فیصد اضافہ

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں 7.47 فیصد اضافہ

  

             اسلام آباد (اے پی پی) رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوںکے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاب زر کی شرح میں گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 7.47 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ جولائی تا اپریل2012-13ءکے دوران ترسیلات زر کا حجم9 ارب 23کروڑ ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران ترسیلات زر کا حجم 8 ارب59 کروڑ ڈالر تھا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کےلئے سمندر پار پاکستانیوں کی جانب سے موصول ہونے والی ترسیلات زر کا ہدف 14 ارب ڈالر مقرر کیا تھا۔ توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ہدف کا حصول یقینی بنا لیا جائے گا۔ پاکستان ریمیٹینس انیشیٹیو( پی آر آئی) کا قیام اگست 2009ءمیں عمل میں آیا تھا جب سٹیٹ بینک آف پاکستان اور سمندر پار پاکستانیوں و خزانے کی وزارتوں نے مشترکہ طور پر پروگرام شروع کیا تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو رقوم کی ترسیل کے سلسلے میں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں اور اس کے علاوہ غیرقانونی طور پربھیجی جانے والی رقوم کو بینکنگ نیٹ میں شامل کیا جاسکے۔

 اس حوالے سے پی آر آئی کے تحت قابل ذکر کامیابی حاصل ہوئی ہے اور سمندر پار سے ترسیلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے بین الاقوامی اقتصادی ماہرین نے پاکستان کو ایسے ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے جو ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات موصول کرتے ہیں۔ پی آر آئی کے قیام سے ہنڈی اور رقوم کی ترسیل کے دیگرغیرقانونی ذرائع کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ سعودی عرب، مشرق وسطیٰ، یورپ، کینیڈا اورامریکہ میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعدادموجود ہے۔ حکومتی اداروں نے دنیا بھرمیں رقوم کی ترسیل کرنے والے اداروں سے معاہدے کئے ہیں تاکہ ہنڈی اورغیرقانونی طریقوں سے رقوم کی ترسیل کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ اس کے علاوہ رقوم بھیجنے والے افراد کی سہولتوں میں اضافہ سے ترسیلات زر کو بڑھایا جاسکے۔ 2009ءمیں پی آر آئی کے اجراءاور رقوم کی ترسیل کے غیرقانونی کاروبار سے منسلک افراد کے خلاف سخت قانونی اقدامات سے تین سال کے دوران پاکستان میں موصول ہونے والی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ترسیلات زر4.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر سال 2011ءکے اختتام تک 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ 2012ءکے اختتام پر ترسیلات زر کا حجم 13 ارب ڈالر سے بڑھ چکا تھا۔ ترسیلات زر میں ہونے والے اضافہ کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور روپے کی قیمت میں استحکام کا سبب بھی بنا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترسیلات زر میں ہونے والے اضافہ سے ملکی معیشت کے استحکام میں بھی نمایاں مدد حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو رقوم کی ترسیل کے سلسلے میں مزید سہولیات کی فراہمی سے ترسیلات زر کے حجم میں مزید اضافہ کیا جاسکتا ہے جس سے ملکی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہونگے۔

مزید :

کامرس -