بائیس میگاواٹ کے جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن نے آزمائشی بنیادوں پر کام شروع کر دیا

بائیس میگاواٹ کے جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن نے آزمائشی بنیادوں پر کام ...

  

                                                                              لاہور(کامرس رپورٹر)فرانس کی مالی معاونت سے تعمیر کئے گئے 22میگاواٹ پیداواری صلاحےت کے حامل جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کے سول اور الیکٹرو مکینیکل ورکس کی تکمیل کے بعدپاور سٹیشن کے پہلے یونٹ کو کامیابی کے ساتھ آزمائشی بنیاد پر چالو کردیا گیا ہے ۔اس پیش رفت کے بعد پاور سٹیشن بہت جلد قومی نظام کو باقاعدہ طو ر پر بجلی مہیا کرنا شروع کردے گا۔اس موقع پر پاکستان میں متعین فرانسیسی سفیر فلپ تھیبوڈ اور چیئرمین واپڈا سید راغب عباس شاہ نے پراجیکٹ سائٹ پر منعقدہ ایک تقریب میں یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ فرانس کے ترقیاتی ادارے اے ایف ڈی کے وائس پریذیڈنٹ برائے ایشیاءگریگوری کلیمنٹ کے علاوہ سینیٹر نثار محمد خان ،رکن قومی اسمبلی جنید اکبر، مقامی عمائدین اور دیگر آفیسر ز بھی تقریب میں موجود تھے۔جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے مالاکنڈ میں تقریباً 3ارب 75کروڑ روپے کی لاگت سے از سر نو تعمیر کیا گیا ہے۔ منصوبے کی تعمیر کے لئے اے ایف ڈی نے تقریباً 3ارب 40کروڑ روپے کے مساوی 2کروڑ50لاکھ یوروآسان شرائط پر قرضہ کی صورت میں مہیا کئے ہیں۔ یہ منصو بہ قومی نظام کو ہر سال تقریباً12کروڑ 20لاکھ یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی سفیر نے کہا کہ ان کا ملک اے ایف ڈی کے ذریعے پاکستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد دینے کے لئے پر عزم ہے ۔ جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ کی کامیاب تکمیل کے بعد اور پاکستان میں پن بجلی کی پیداوار کے بے پناہ مواقع کے باعث فرانس اور پاکستان دیگر منصوبوں پر بھی مشترکہ طور پرکام کریں گے۔فرانسیسی سفیر نے جبن ہائیڈر و پاور پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے واپڈا کی تعریف کی۔قبل ازیں اپنے خیر مقدمی کلمات میں چیئرمین واپڈا نے جبن ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کی تعمیر نو کے لئے مالی معاونت فراہم کرنے پر فرانس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اے ایف ڈی سمیت فرانس کے دیگر اداروں اور واپڈا کے درمیان پاکستان میں پانی اور پن بجلی جیسے اہم شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔تقریب سے خطاب میں سینیٹر نثار محمد خان نے پراجیکٹ کی اہمیت اور اس کی تعمیر کے لئے کی جانے والی کوششوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ جبن ہائیڈل پاور سٹیشن ابتدائی طور پر 1937ءمیں تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس وقت اس پاور سٹیشن کی پیداواری صلاحیت 9.6 میگاواٹ تھی۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے وقت یہ ملک میں سب سے بڑا ہائیڈل پاور سٹیشن تھا ۔1952ءمیں اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا گیا اور یہ 19.6میگاواٹ تک جاپہنچی ۔قیام پاکستان کے ابتدائی دنوں میں جب وارسک ، منگلا اور تربیلا جیسے بڑے پن بجلی گھر موجود نہ تھے،تب جبن ہائیڈل پاور سٹیشن نے پاکستان کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔2006ءمیں آتشزدگی کے ایک واقعہ میں اِس پاور سٹیشن کو شدید نقصان پہنچا ۔ اُس وقت واپڈا نے فیصلہ کیا کہ پاور سٹیشن کومرمت کرنے کی بجائے اس کی از سر نو تعمیر کے بعد اسے بحال کیا جائے۔ چنانچہ تعمیرنو اور بحالی کے کام کے دوران جبن ہائیڈل پاور سٹیشن میں ساڑھے پانچ پانچ میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے چار یونٹ نصب کئے گئے ہیں

جس کے بعد اس کی پیداواری صلاحیت 22میگاواٹ ہوگئی ہے۔

مزید :

کامرس -