سندھ اسمبلی، جج کے قافلے پر حملے کیخلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور

سندھ اسمبلی، جج کے قافلے پر حملے کیخلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور

  

        کراچی (این این آئی) سندھ اسمبلی میں بدھ کے روز ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس مقبول باقر کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، جس کے نتیجہ میں 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ قرارداد میں اس واقعہ کو دہشت گردی کا انتہائی غیر انسانی اور گھناﺅنا اقدام قرار دیتے ہوئے شہداءکے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا اور جسٹس مقبول باقر سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ قرارداد میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کےلئے سخت اقدامات کرے اور اس واقعہ میں ملوث دہشت گردوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو گرفتار کرے۔ یہ قرارداد وزیر قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر سکندر میندھرو، ایم کیو ایم کے رکن خالد بن ولایت اور مسلم لیگ (ن) کے رکن عرفان اللہ خان مروت نے مشترکہ طور پر پیش کی تھی۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس بدھ کو صبح 11 بج کر 15 منٹ پر اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت اور نعت خوانی کے بعد کراچی کے علاقے برنس روڈ پر سندھ ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس مقبول باقر کے قافلے پر حملے میں شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور زخمیوں کے لیے صحت کی دعا کی گئی۔ قبل ازیں متعدد ارکان نے دہشت گردوں کے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور حکومت کو متنبہ کیا کہ اب دہشت گرد حکومتی ایوانوں کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن سید سردار احمد نے کہا کہ اب تو ”ویک اپ کال“ کا وقت بھی نہیں رہا ہے۔ دہشت گرد بہت نزدیک آگئے ہیں۔ ہائی کورٹ اور سندھ اسمبلی جائے وقوعہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی سے ایکشن لیا جائے اور اس حوالے سے کوئی مضبوط پالیسی بنائی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سید حفیظ الدین نے کہا کہ دہشت گرد سندھ اسمبلی اور ہائی کورٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ معاملہ بہت سنگین ہوگیا ہے۔ حکومت اس کا نوٹس لے اور کچھ اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن عرفان اللہ خان مروت نے اس واقعہ کی مذمت کی اور کہا کہ حالات بہت خراب ہوچکیں ہیں۔ سنیئر وزیر تعلیم نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کو دو سیکورٹی موبائلز دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ان پر حملہ ہوا۔ یقیناً کوئی ان کی تاک میں ہوگا۔

قرارداد

مزید :

صفحہ آخر -