مبینہ آشنانے دوست سے ملکر مجبور اور اسکی ماں کی چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا

مبینہ آشنانے دوست سے ملکر مجبور اور اسکی ماں کی چھریوں کے وار کر کے قتل کر دیا ...

  

                            لاہور (بابر بھٹی، کرائم سیل) گرین ٹاﺅن کے علاقہ میں تعلقات استوار نہ کرنے پر مبینہ آشنا نے دوست کے ساتھ مل کر محبوبہ اور اس کی ماں کو چھریوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ اس کی خالد کو شدید زخمی کردیا۔ زخمی کو طبی امداد کے لئے ہسپتال داخل کروا دیا گیا جبکہ پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے میں بھجوا دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گرین ٹاﺅن کے علاقہ باگڑیاں چوک کے قریب مسلم چوک مسلم کالونی 5 سی ٹو کی رہائشی مطلقہ 35 سالہ فرزانہ کے مبینہ آشنا عتیق نے اپنے ساتھی سے مل کر اسے اور اس کی ماں غلام فاطمہ کو چھریوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ غلام فاطمہ کی بہن شاہدہ کو بھی چھریوں کے وار کرکے شدید زخمی کردیا جس کو طبی امداد کے لئے ہسپتال داخل کروا دیا گیا۔ فرزانہ اور اس کی والدہ غلام فاطمہ دل اور سر میں چھریوں کے وار لگنے سے موقع پر ہی ہلاک ہوگئی تھیں، پولیس نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کے بعد دونوں مقتولین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے میں بھجوا دیں اور فرزانہ کے بڑے بھائی امجد اشرف کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لئے ان کے ٹھکانوں پر چھاپے مار جارہے ہیں۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔ مقتولہ غلام فاطمہ کے بیٹے محمد امجد اشرف نے بتایا کہ وہ سٹی بریڈ ”ڈبل روٹی بنانے والے“ کارخانے میں ملازم ہے اس کے والد محمد اشرف نے 2 شادیاں کررکھی ہیں، میری والدہ کے بطن سے میں اور قتل ہونے والی فرزانہ سگے بہن بھائی ہیں جبکہ میری دوسری والدہ رانی بی بی کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ میرے والد ضلع قصور کے گاﺅں عثمان والا میں رہائش پذیر ہیں میری والدہ ا ور والد کے درمیان عرصہ دراز سے بول چال نہیں ہے جبکہ ہم دیگر بہن بھائی آپس میں ملتے رہتے ہیں۔ محمد امجد اشرف نے بتایا کہ گزشتہ روز صبح تقریباً 12 بجے میری خالد شاہدہ بی بی کا فون آیا کہ کوئی ہمارے گھر میں گھس آیا ہے اور وہ ہم لوگوں کو قتل کرنے کی کوشش کررہا ہے، ہمیں بچالو میں کام چھوڑ کر ماں کے گھر بھاگا آیا تو میری ماں اور بہن کی لاشیں پڑی تھیں جبکہ خالہ زخمی تھیں میں نے فوری طور پر پولیس کو فون کیا جس نے موقع پر پہنچ کر قانونی کارروائی کے بعد لاشیں پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیں۔ محمد امجد نے بتایا کہ اس کی خالہ شاہدہ کے مطابق گھر میں داخل ہونے والے 2 افراد تھے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی درخواست دے دی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ اس کی والدہ نے باگڑیاں کے علاقہ میں چھوٹا سا گھر اڑھائی لاکھ میں گروی لیا تھا جبکہ میری رہائش چونگی امر سدھو کے قریب ہے اور میں شادی شدہ ہوں۔ مبینہ آشنا کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی فرزانہ کی زخمی بہن شاہدہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ ملزم عتیق کافی عرصہ سے فرزانہ کے پیچھے پڑا ہوا تھا ملزم قائداعظم بلاک گرین ٹاﺅن کی ایک فیکٹری میں ملازم ہے جبکہ فرزانہ بھی ایک فیکٹری میں کام کرتی تھی اور دونوں ماں بیٹی کرایہ کے گھر میں رہتی تھیں، فرزانہ کو تقریباً5 سال قبل طلاق ہوگئی تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتی تھی ملزم عتیق روزانہ فرزانہ کو فون کرتا کبھی میسج کرتا کہ بات کرو، وقوعہ کے روز ساڑھے گیارہ بارہ بجے کے قریب ہم تینوں ایک ہی چارپائی پر بیٹھی تھیں۔ گھر کا نیچے کا دروازہ کھلا تھا جبکہ اوپر ہمارے کوارٹر کا دروازہ بند تھا ملزم عتیق دیوار پھلانگ کر اندر گھس آیا اور آتے ہی فرزانہ اور اس کی ماں کو چھڑیوں کے وار کرکے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ میری طرف بڑھا تو میں باہر کی طرف بھاگی جس پر اس نے مجھے بھی شدید زخمی کردیا اور جس طرح آیا تھا ویسے ہی بھاگ گیا جبکہ اس کے ساتھی محلے دار امجد ولد عبدالحفیظ نے گھر کے باہر دروازہ بند کررکھا تھا تاکہ ہم لوگوں میں سے کوئی بھاگ نہ سکے میں نے زخمی حالت میں اپنے بھانجے غلام فاطمہ کے بیٹے امجد کو فون کرکے مدد کے لئے کہا۔ مقتولہ غلام فاطمہ کی خالہ نے بتایا ہے کہ غلام فاطمہ کافی عرصہ سے خاوند محمد اشرف سے الگ رہتی تھی جس کی وجہ سے فرزانہ کو اپنے اور ماں کے گزارے کے لئے فیکٹری ملازمت کرنا پڑی تھی غلام فاطمہ کے شوہر اشرف نے دوسری شادی کرلی تھی اور اس کا بیٹا 302 کے جرم میں جیل کاٹ کر 2 سال قبل آیا ہے جس کی وجہ سے ہماری ان سے بول چال بہت کم تھی۔

مزید :

صفحہ آخر -