لائن آف کنٹرول پر بھارت افواج میں گولابازی

لائن آف کنٹرول پر بھارت افواج میں گولابازی

  

             نئی دہلی(آن لائن) بھارتی وزیراعظم کے دورہ مقبوضہ کشمیر کے دوران لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت مسلح افواج کے درمیان شدید گولہ باری ، فائرنگ ، ہاٹ لائن پر رابطے ، فلیگ میٹنگ کا امکان ہے ، بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کی طرف سے دراندازی کو دھکیلنے کی کوشش کے باعث جھڑپ شروع ہوئی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی مقبوضہ کشمیر میں موجودگی کے دوران گزشتہ روز کرشنا گھاٹی سیکٹر میں پاک بھارت مسلح افواج کے درمیان شدید گولہ باری کا تبادلہ ہوا بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ چار تربیت یافتہ مجاہدین کی طرف سے دراندازی کی کوشش ناکام بنائے جانے کے بعد پاکستانی فوج نے بیک وقت کئی مقامات پر بھارتی چوکیوں پر بلااشتعال گولہ باری کی جبکہ اس وقت بھارت کی مرکزی قیادت وادی میں موجود تھی کہ اس دوران پونچھ میں حد متارکہ پر بھارتی افواج کے درمیان گولہ باری کا واقعہ پیش آیا دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پونچھ لائن آف کنٹرول کے کئی علاقوں میں پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فائرنگ کی اور مبینہ طورپر آتشیں گولے داغے جس کے جواب میں وہاں تعینات اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جن چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ان میں منڈی سیکٹر ، شیر شکتی ، پی پی ون ، پی پی ٹو ، کرشنا گھاٹی کے کرپان اور کرانتی جبکہ پونچھ سیکٹر کے بہادر ریکھا اور نیک نامی چوکیاں شامل ہیں شدید گولہ باری کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس کے دوران خوفناک دھماکوں کی گھن گرج سے آس پاس کے علاقے دہل اٹھے اسی اثناءمیں بھارتی فوج کی مزید کمک علاقہ کی طرف روانہ کردی گئی جموں میں دفاعی ترجمان ن ےبتایا کہ سرحد پار سے بلااشتعال زبردست گولہ باری کی گئی اور بعد میں صورتحال پر قابو پالیا گیا ترجمان کے مطابق اس گولہ باری میں کسی قسم کا کوئی مالی یا جانی نقصان نہیں ہوا اس ضمن میں بھارتی فوج نے پاکستانی فوجی افسران کے سامنے ہاٹ لائن کے ذریعے سخت احتجاج درج کیا ہے اور اس حوالے سے فریقین کے درمیان ممکنہ طور فر فلیگ میٹنگ بھی منعقد ہوگی ۔

فائرنگ

مزید :

صفحہ آخر -