سکاٹ لینڈ یارڈ نے ابھی تک کسی کو نامزد نہیں کیا الطاف حسین کیوں پریشان ہیں

سکاٹ لینڈ یارڈ نے ابھی تک کسی کو نامزد نہیں کیا الطاف حسین کیوں پریشان ہیں

  

                            لاہور( این این آئی)صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے عمران فاروق قتل کیس میں ابھی تک کسی کو نامزد نہیں کیا جب نام آئے گاتو بات واضح ہو جائےگی،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کیوں پریشان ہیں ہمیں اس بارے کوئی آگاہی نہیں‘سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس مقبول باقر پر حملہ قابل مذمت ہے، یہ آزاد عدلیہ پر حملہ ہے، بجلی کی منصفانہ تقسیم کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائےگا ‘ مشرف کے خلاف مقدمہ آئین و قانون اور جمہوریت کا تقاضہ ہے اور آئین و قانون کے مطابق ہی چلیں گے ۔جہاں تک 3نومبر 2007ءکے غیر آئینی اقدامات کا کیس ہے تو پرویز مشرف کو ان کی ضرور سزا ملے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پنجاب اسمبلی کے احاطہ میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیر قانون نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس مقبول باہر پر حملہ آزاد عدلیہ پر حملہ ہے ایسے واقعات کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، دہشتگردی کے واقعات کی روک تھا م کے لئے صوبائی حکومت وفاق سے مدد مانگی تو وفاق ضروری مدد کرےگا۔ جس صوبے کا وزیر اعلیٰ حلف اٹھانے کے بعد دہشتگردوں کے پاس جائے گا تو اس سے کیا تاثر ملے گا، پیپلزپارٹی نے سندھ میں اقتدار سنبھالا ہے تو کراچی کے حالات تیزی سے خراب ہوئے ہیں اور شہر قائد غیرمحفوظ ہو گیا ہے،سندھ حکومت سیاست کی بجائے قیام امن کے لئے سنجیدہ کوششیں کرے۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی معطلی کے حوالے سے وزیر داخلہ نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو اعتماد میں لیا ہے ، انہوں نے کہا کہ عمران فاروق قتل کیس میں سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے ابھی کسی کو نامزد نہیں کیا جائے گا کسی کا نام آئے گا تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سرکلر ڈیٹ سے منسلک ہے بجٹ کی منظوری کے بعد اگلے 60روز میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ بجلی کی منصفانہ تقسیم کے معاملہ کو مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جائے گا اور یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج بہت سے مسائل کی جڑ لوڈ شیڈنگ ہے اور حکومت اس سے نمٹنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

رانا ثناءاللہ

مزید :

صفحہ آخر -