اپوزیشن کی بجٹ کٹوتی کی تحریکیں مسترد کرنے کی سابق روایت برقرار رہی

اپوزیشن کی بجٹ کٹوتی کی تحریکیں مسترد کرنے کی سابق روایت برقرار رہی

  

     پنجاب اسمبلی کے ایوان نے بجٹ 2013-14ءکی منظوری دے دی ہے تاہم اجلاس میں حزب اختلاف حکومت پر ”چڑھائی“ کے لئے تمام وقت ایشو تلاش کرتی جس پر کامیابی نہ ملنے پر ”اپوزیشن“ کے ہاتھ میں سیکرٹری خزانہ کی غیر موجودگی کی شکل میں ”بٹیر“ آگیا اور سیکرٹری خزانے کی اسمبلی کی لابی سے غیر موجودگی پر اپوزیشن نے اپنی موجودگی کا احساس دلادیا اور ایوان میں اپنی ”موجودگی“ کو تسلیم کرالیا، اس طرح مسلم لیگ (ن) نے اپنی صوبائی حکومت کا پہلا بجٹ 2013-14ء”آرام“ اور آسان طریقے سے منظور کرالیا تاہم اپوزیشن کی بجٹ پر کٹوتی کی تحریکیں حکومت کی طرف سے مسترد کرنے کی سابقہ روایت برقرار رکھی گئی ماضی اور مستقبل کی اسمبلیوں میں اس حوالے سے کوئی بڑا واضح ”فرق“ اب بھی سامنے نہیں آسکا ماضی میں بھی اپوزیشن کو بجٹ بحث میں ”خانہ پری“ اور فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے ایوان کی کارروائی کی حد تک ساتھ رکھا جاتا رہا ہے سو رواں اقتدار نے بھی اس روایت کو برقرار رکھ کر واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ”ماضی اور حال“ ایک جیسے ہیں گزشتہ روز بھی اسمبلی کی کارروائی میں حکومتی اور اپوزیشن نے وقت کی ”قدر“ نہ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید ان کے ساتھ میاں اسلم اقبال سمیت اپوزیشن کے 58فیصد ممبران مقررہ وقت کی بجائے ایک سے سوا گھنٹے کی تاخیر سے اسمبلی پہنچے جن کے نقش قدم پر حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے رانا مشہود احمد خان، ذکیہ شاہ نواز سمیت درجنوں ممبران تاخیر سے قائد ”ایوان“ میاں شہباز شریف کی ایوان میں موجودگی کے باعث حکومتی بنچوں پر 40 فیصد ممبران مقررہ وقت کی بجائے 30منٹ سے 1گھنٹے 20 منٹ تک تاخیر سے پہنچے۔ قائد ایوان میاں شہباز شریف ایوان میں داخل ہوئے تو حکومتی اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر دیکھو دیکھو کون آیا شیر آیا شیر آیا، اِک واری فیر شیر کے نعرے لگائے جس پر اپوزیشن لیڈر نے سپیکر رانا اقبال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب سپیکر میاں شہباز شریف ”انسان“ ہیں آپ کے اراکین اسمبلی انہیں کسی اور چیز سے تشبیح کیوں دے رہے ہیں؟ انہیں روکا جائے جس پر سپیکر نے (ن) لیگ کے اراکین کو نعرے بازی سے روک دیا خواتین ممبران پر گزشتہ روز جوش وجذبہ دیدنی تھا بجٹ منظور ہونے پر اراکین اسمبلی نے وزیراعلیٰ اور وزیر خزانہ کو مبارکباد دیں جس پر وزیراعلیٰ اپنے مخصوص انداز میں ان کا شکریہ ادا کرتے رہے۔ مطالبات زر پر بحث کا سلسلہ شروع ہوا تو اپوزیشن کے ہاتھ میں سیکرٹری خزانہ طارق باجوہ کی اسمبلی لاپی سے غیر حاضری کا ”پیڑہ“ آگیا اور انہیں کچھ اور نہ ملا تو انہوں نے سیکرٹری خزانے کو بیڑ سمجھتے ہوئے ان پر غصہ ٹھنڈا کیا اور ان کی غیر حاضری پر اپوزیشن شدید برسی، سپیکر نے یہ کہہ کر خاموش کرایا کہ وزیر خزانہ کی موجودگی میں سیکرٹری اسمبلی کی ایوان میں موجودگی ضروری نہیں ہے اجلاس میں وزیراعلیٰ کی تقریری کے بعد ”اپوزیشن“ نے کہا کہ جعلی مینڈیٹ والوں کی تقریر بیانات تک محدود ہے، کشکول توڑنے کے حکومتی اعلان کو اپوزیشن نے آڑھے ہاتھوں لیا۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف پنجاب میں ”کشکول“ توڑنے کی باتیں ہورہی ہیں تو دوسری طرف ”وفاق“ میں (ن) لیگ کے وزیر خزانہ عالمی اداروں سے قرضے لینے کی باتیں کررہے ہیں ان کا دوہرا معیار ثابت کرنا ہے کہ یہ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ بجٹ کی منظوری کے اجلاس میں اپوزیشن حکومت پر چڑھائی کے لئے ایشو ڈھونڈتی رہی مگر اسے اس میں کامیابی نہ مل سکی اور وہ بیچارے سیکرٹری خزانے پر برس کر غصہ ٹھنڈا کرتے رہے۔

اپوزیشن کٹوتی

مزید :

صفحہ اول -