تجزیہ چودھری خادم حسےن تحرےک طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پےش کش ، سنجےدگی سے مراد؟

تجزیہ چودھری خادم حسےن تحرےک طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پےش کش ، ...

  

تحرےک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم مےاں محمد نواز شرےف اور تحرےک انصاف کے چےئرمےن عمران خان سنجےدگی دکھائےں تو مذاکرات کے لئے طالبان کی طرف سے مثبت جواب دےا جا سکتا ہے ۔ تحرےک طالبان کے ترجمان نے کافی عرصہ پہلے مذاکرات کے حوالے سے دئےے گئے بےان ہی کو دہراےا ہے اور اب سنےجدگی کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی کےا ہے کہ طالبان اے اےن پی کے خلاف ہےں جو ان کے نزدےک سےکولر جماعت اے اور دےن سے منخرف ہے اس لئے اس کو نقصان پہنچاےا جاتا رہے گا احسان اللہ احسان نے نانگا پربت پر کوہ پےماﺅں پر حملہ کی ذمہ داری بھی قبول کر لی اور کہا ہے کہ یہ حملہ عالمی سطح پر ڈرون حملوں کی حمائت اور یہ حملے نہ رکوانے کے خلاف احتجاج کے طور پر کےا گےا ہے ۔

اےک یہ پیشکش ہے تو دوسری طرف امرےکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات مےں مسائل پےدا ہو رہے ہےں جن کو ساتھ ساتھ حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزیر خارجہ جان کےری کی طرف سے بھارتی کردار کی حمائت کے باعث مذاکرات اور مستقبل کے لئے مستقل امن کی تلاش کا مسئلہ پےچےدگی اختیار کر گیا ہے پاکستان کو یہ عمل اور اعلان پسند نہےں آےا گزشتہ روز جب مذاکرات کے لئے خصوصی امرےکی نمائندے جےمز ڈوبنز نے وزیر اعظم مےاں محمد نواز شرےف سے ملاقات کی تو اس مےں آرمی چےف جنرل کیانی اور خارجہ امور مےں وزیر اعظم کے لئے مشیر سر تاج عزیز بھی موجود تھے، وزیر اعظم نے امرےکن نمائندے پر واضح کےا کہ پاکستان امن مذاکرات کا مکمل حامی ہے اور پورے خطے مےں امن چاہتا ہے اس سلسلے مےں ہمارا بھی فائدہ ہے کہ ہم قرےب ترےن ہمسائے ہےں اور افغانستان کے ساتھ قدےمی روابط ہےں، وزیراعظم نے مذاکرات کی حمایت کے ساتھ ہی امرےکی نمائندے پر واضح کےا کہ پاکستان کو تشوےش ہے کہ افغان سرحد کی طرف سے پاکستانی علاقے مےں مداخلت کی جاتی ہے یہ بند ہونا چاہےے امرےکی نمائندے نے پاکستان کی معاونت کا اعتراف ہی نہےں کےا بلکہ کہا کہ امرےکہ اس سلسلے مےں احترام کرتا ہے۔ وزیر اعظم نے افغان صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کی اور پاکستن کے تعاون کا ےقےن دلایا۔

امرےکی نمائندے جےمز ڈوبنز وزیر خارجہ کی ہداےت پر افغانستان اور پاکستان کے دورے پر آئے ےہاں انہوں نے خصوصی طور پر یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کی کہ امرےکہ بھارت کو تھانےدار بنانا چاہتا ہے امرےکی کے مطابق پاکستان کی اہلیت اور تعاون سے انکار کیا ہی نہےں جا سکتا ۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شرےف کی طرف سے امرےکہ، طالبان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی مکمل وضاحت کے بعد امریکہ کوابہام دور کرنا چاہےے جس کی کوشش کی گئی ہے تاہم مزےد وضاحت کی ضرورت ہو گی یہ امر واضح ہے کہ بھارتی کردار کی بات کی جائے تو بھی جغرافیائی اور سیاسی طور پر پاکستان کی اہلیت سے کوئی انکار کر ہی نہےں سکتا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان حقیقت پسندانہ موقف رکھے۔

جہاں تک تحرےک طالبان سے مذاکرات کا تعلق ہے تو پاکستان مےں تو کسی نے بھی امر سے انکار نہےں کےا تاہم یہ بات کل نظر ہے کہ دہشت گردی کی وارداتوں مےں اضافہ کر کے مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کے لئے سنجےدگی کا ذکر کیا جائے جبکہ عمران خان اور مےاں محمد نواز شرےف مذاکرات کے حق مےں اپنی رائے دے چکے ہوئے ہےں اس کے جواب مےں تو شدت پسندانہ کارروائیاں معطل کر دی جانی چاہئیں ےقینا اب بھی سنجےدگی کی بات ہے تو یہ تحرےک طالبان کی طرف سے ہونی چاہئے اور اس کا ثبوت سیز فائر کر کے دےا جا سکتا ہے۔

تجزےہ خادم حسےن

مزید :

صفحہ اول -