سوئس کیس بند کرانے کیلئے خفیہ خطہ لکھنے والوں کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے

سوئس کیس بند کرانے کیلئے خفیہ خطہ لکھنے والوں کو سنگین نتائج بھگتنا ہونگے

  

                        اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) این آر او عملدرآمد کیس جاری ہے اور مزید چلے گا اس کی سماعت گزشتہ روز بھی سپریم کورٹ میں ہوئی جس میں یہ انکشاف ہوا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے مقدمات بند کرانے کے لئے سپریم کورٹ کو دکھا کر لکھے گئے خط کے بعد اس کے علم میں لائے بغیر دوسرا خط بھی لکھا تھا عدالت نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے موقع پر اٹارنی جنرل منیر اے ملک کے یہ بنانے پر سپریم کورٹ نے برہمی کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومت نے عدالت کے علم میں لائے بغیر ایک دوسرا خط سوئس حکام کو بھیجا جس میں ان سے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات بند کردیئے جائیں اور اس سے حکومت پاکستان کو تحریری طور پر آگاہ کیاجائے۔ این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران میں منیر اے ملک نے سپریم کورٹ کے فاضل بنچ کو بتایا کہ دوسرا خط سیکرٹری قانون یاسمین عباسی نے بائیس نومبر2012ءکو لکھا جس میں کہاگیا کہ حکومت صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کی پیروی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی اس لئے سوئس حکام ان کے خلاف مقدمات بند کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پہلا خط پانچ نومبر2012ءکو لکھاگیاتھا جس کا مسودہ سپریم کورٹ نے اور اس کی منظوری دی تھی، اٹارنی جنرل کے مطابق وزارت قانون میں کچھ دستاویزات غائب پائی گئی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سوئس حکام نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات اس سال چار فروری کو بند کئے تھے سوئس حکام کے فیصلے کے خلاف دس دن کے اندر اپیل کی جاسکتی تھی حکومت نے فوری طو رپر اپیل کردی مگر وقت گزر چکا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے قرار دیا اور اسے لکھے جانے کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا۔ انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ دوسرا خط لکھے جانے کے ذمہ داروں کا محاسبہ کیاجانا چاہیے ، انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اس وقت کی سیکرٹری قانون اور اٹارنی جنرل نے عدالت کو اندھیرے میں رکھا۔ انہوں نے حکم دیا کہ دوسرا خط لکھے جانے کے معاملے کی تحقیقات کی جائے، بعد میں منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نوازشریف نے اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے سیکرٹری کابینہ سمیع سعید اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان پر مشتمل کمیٹی قائم کردی ہے۔ اب مقدمے کی مزید سماعت دو ہفتے بعد ہوگی۔

سپریم کورٹ خط

مزید :

صفحہ اول -